تاریخ شائع کریں2021 16 May گھنٹہ 12:21
خبر کا کوڈ : 504139

اسرائیل کا صحافیوں پر حملہ کرنا جنگی جرم ہے،میڈیا دفاتر کی تباہی پر ردعمل

اسرائیلی فوج نے تاحال عمارت اور میڈیا ہاؤسز کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا جبکہ دنیا بھر کے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔
اسرائیل کا صحافیوں پر حملہ کرنا جنگی جرم ہے،میڈیا دفاتر کی تباہی پر ردعمل
اسرائیلی فورسز نے غزہ سٹی میں مہاجر کیمپ پر اندھادھند بمباری سے 10 فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے چند گھنٹوں بعد ہی غزہ کی ایک بلند عمارت کو تباہ کردیا، جہاں خبر ایجنسی اے پی، الجزیرہ اور دیگر بین الاقوامی میڈیا کے اداروں کے دفاتر موجود تھے۔

اسرائیلی فوج نے تاحال عمارت اور میڈیا ہاؤسز کو نشانہ بنانے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا جبکہ دنیا بھر کے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا۔

اے پی کے صدر اور سی ای او گیری پروٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ 'یہ ناقابل یقین حد تک دہلا دینے والی پیش رفت ہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'ہم جانی نقصان سے بال بال بچےہیں، اے پی کے درجنوں صحافی اور فری لانس عمارت کے اندر موجود تھے اور شکر ہے ہم وقت پر ان کو وہاں سے باہر نکال پائے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'آج جو کچھ ہوا ہے اس کی وجہ سے دنیا کو غزہ میں ہونے والے واقعات کا کم علم ہوگا'۔

الجزیرہ کی پروڈیوسر لینہ الصافین نے ٹوئٹر پر کہا کہ اسرائیل نے 'ایک دھمکی' دی تھی کہ وہ 'الجزیرہ کے دفاتر اور غزہ سٹی میں قائم بین الاقوامی میڈیا کے دیگر چینلوں کے دفاتر پر مشتمل عمارت پر ایک گھنٹے میں بمباری کریں گے، ہمارے ساتھی پہلے ہی وہاں سے نکل گئے تھے'۔

تباہ شدہ عمارت میں مڈل ایسٹ آئی کا بھی دفتر تھا، جس نے ایک ویڈیو میں رپورٹ کیا کہ عمارت کے مالک اسرائیلی فوج کے ایک افسر سے ٹی وی پر لائیو بات کر رہےتھے اور وہ بلڈنگ پر بم مارنے سے قبل صحافیوں کو اپنا سامان عمارت سے باہر نکالنے کی اجازت دینے کے لیے بات کر رہے تھے۔

'جنگی جرم'
اسرائیل کی میڈیا کے دفاتر پر بمباری کے بعد امریکا قانون ساز مائیک سیگل سمیت مشہور شخصیات کی جانب سے ردعمل آیا اور اس کو ایک جنگی جرم قرار دیا۔

مائیکل سیگل نے کہا کہ 'صحافیوں پر حملہ کرنا جنگی جرم ہے'۔


صحافی ایلزبیتھ ٹسورکوو نے کہا کہ 'اسرائیل تاثر دیتا ہے کہ وہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بناتا ہے، جو کچھ آپ دیکھ رہے ہیں یہ ایک جنگی جرم ہے'۔


اے جے پلس نے کہا کہ اسرائیل نے صحافتی اداروں کو ایک گھنٹے کا وقت دیا لیکن انہیں اپنا سامان منتقل کرنے کی اجازت نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'صحافیوں کو نشانہ بنانا ایک جنگی جرم ہے'۔


کمیٹی ٹو پروٹیک جرنلسٹ کے ایگزیکٹیوڈائریکٹر جوئیل سیمن نے کہا کہ یہ 'حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیلی دفاعی فورسز نے غزہ میں انسانوں کو درپیش مسائل کی رپورٹنگ متاثر کرنے کے لیے جان بوجھ کر کیا'۔


صحافتی تنظیم نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بمباری کرکے میڈیا کے دفاتر کو تباہ کرنا مکمل طور پر ناقابل قبول اور صحافیوں کی زندگیوں کے لیے خطرات درپیش ہیں'۔

صحافیوں سے اظہار یک جہتی کا مطالبہ
برطانوی اخبارگارجین کے کالم نگار اوون جونز نے صحافیوں سے اظہار یک جہتی کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے میڈیا کے اداروں کے دفاتر پر مشتمل پر عمارت تباہ کرنے پر مذمت کی جائے۔

فاطمہ بھٹو نے یورپی یونین کی عہدیدار کی ٹوئٹ پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا ٹی وی پر دیکھایا گیا امتیازی قتل عام اور پریس ٹاور کا انہدام یورپی یونین کو مذمت کرنے کے لیے اہم نہیں ہے، یورپ کا آنے والی صدی میں کوئی کردار نہیں ہے۔


مصنف ونسنٹ بیونز نے کہا کہ اسرائیلی فورسز اس طرح کے حملے اس لیے کرتی ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں وہ اس سے بچ سکتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ عالمی سطح پر رد عمل روایت سے ہٹ کر جائے گا تو اس کا اثر ہوگا۔

'میڈیا خاموش نہیں ہوگا'
صحافی رانیا خالق نے اپنے ردعمل میں کہا کہ 'بین الاقوامی صحافتی اداروں کے دفاتر پر مشتمل عمارت کو تباہ کرنے کی واحد وجہ میڈیا کی جانب سے وہاں پیش آنے والے واقعات کی رپورٹ کو متاثر کرنا ہے'۔

امتیاز طیب نے کہا کہ 'یہ خوف ناک ہے، میں اس عمارت میں کئی برسوں تک کام کرتا رہا ہوں'۔

تیمور اظہری نے بھی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم غزہ میں اے پی اورالجزیرہ کے دفاتر والی عمارت پر اسرائیل کی کارروائی کو دیکھ رہے ہیں۔
 
https://taghribnews.com/vdcbfabs9rhbg8p.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس
سکیورٹی کوڈ