تاریخ شائع کریں2021 15 May گھنٹہ 23:22
خبر کا کوڈ : 504066

امریکی انخلاء کے بعد افغاستان میں اقلیتوں کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا؟

کوئی نہیں جانتا کہ جب امریکہ اور اتحادی افواج   مل کر بیس برس کی محنت شاقہ کے باوجود طالبان کو زیر نہیں کرسکے اور افغانستان میں ایسا ماحول پیدا نہیں کیا جاسکا جس میں ایک متوازن جمہوری حکومت قائم ہوسکے جو بنیادی انسانی حقوق ، صنفی مساوات اور انتہاپسندی  کی روک تھام کے لئے کام کرے
امریکی انخلاء کے بعد افغاستان میں اقلیتوں کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا؟
بشکریہ:شفقنا اردو

افغانستان کے دارالحکومت میں دو روز قبل ایک اسکول کی دیوار سے پہلے بارود سے بھری کار ٹکرائی گئی اور پھر 2 راکٹ داغے گئے جس کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 85 ہوگئی جب کہ 100 سے زائد زخمی ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل کے علاقے دشت بارچی کے سید الشہدا اسکول پر اس وقت راکٹ حملہ کیا گیا جب طالبات چھٹی کے بعد باہر نکل رہی تھیں۔ 100 سے زائد طالبات کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جن میں سے متعدد کی حالت نازک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق راکٹ حملہ اس وقت کیا گیا جب طالبات چھٹی کے بعد باہر نکل رہی تھیں۔ ابھی کچھ ہی روز قبل (یکم مئی کو) لوگر میں بھی ان طلبہ کو نشانہ بنایا گیا تھا جو کسی امتحان یا ٹیسٹ دینے کے سلسلے میں شہر آئے ہوئے تھے، اس کار بم دھماکے میں بھی طلبہ سمیت تیس یا اس سے زائد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح سالِ گزشتہ کے ماہِ نومبر میں بھی کابل یونیورسٹی کو دہشت گرد حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا اور تیس سے زائد علم کے متلاشیوں کو اپنے ہی خون میں نہلا دیا گیا تھا جبکہ درجنوں زخمی بھی ہوئے تھے۔ دیکھا جائے تو رواں مہینے، جب سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی واپسی شروع ہوئی ہے، افغانستان میں پرُتشدد اور خونریزی کے واقعات میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ایسا کوئی نہیں گزرتا جب کابل سمیت افغانستان کے کسی نہ کسی کونے میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہ آتا ہو،

سید الشہدا سکول پر حملہ ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے کا امکان ہے۔ اگرچہ افغان طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم کوئی تو دہشت گردگروہ ہے جو افغان امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش میں ہے۔ امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان نے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی تو امریکی فوج افغانستان میں دوبارہ واپس آئے گی۔ زلمے خلیل زاد نے کہا کہ (ہم) افغان عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، اگر طالبان نے امن کی بجائے جنگ کو ترجیح دی تو اپنے دوستوں کی مدد کے لیے امریکی فوج دوبارہ آئے گی۔ امریکی نمائندہ خصوصی کے مطابق عالمی سطح پر جنگ کے خاتمے کی کاوشیں اور کسی بھی مسئلے کے فوجی حل کو مسترد کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے جس سے افغانستان میں امن کی راہ ہموار ہوئی ہے جسے کسی بھی قیمت پردوبارہ سبوتاژ نہیں کرنے دیا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دشمن جو کوئی بھی ہے لیکن وہ اس طرح کے انسانیت سوز حملوں سے نہ صرف ہر سُو دہشت پھیلانے اور افغانستان کے امن کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے درپے ہے بلکہ وہ اس قوم کی تعلیم یافتہ نوجوان نسل کو قبروں میں اتارتے ہوئے اس کے مستقبل کو مستقل طور پر تاریکیوں میں جھونکنے پر بھی تلا ہوا ہے۔ امن کے یہ دشمن اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے بچے بچیوں کو نشانہ بنانے سے بھی نہیں چوکتے حالانکہ دیکھا جائے تو اسلام ہو، پشتون روایات ہوں یا بین الاقوامی قوانین، ان سب میں خواتین، بچوں اور بوڑھوں کو تحفظ دیا گیا ہے، بہ الفاظ دیگر سید الشہداء سکول کو راکٹوں سے نشانہ بنانے والے مسلمان ہیں، افغان ہیں نہ ہی انسان، بلاشبہ ان کی یہ افسوسناک حرکت انسانیت کے چہرے پر ایک بدنما داغ ہے۔

امریکہ نے مئی کی بجائے  گیارہ ستمبر تک افغانستان سے امریکی اور حلیف فوجوں کے انخلاکا پروگرام دیا ہے۔ اس پر عمل درآمد  بھی شروع ہوچکا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ بیس برس  پر طویل  جنگ اب ختم ہونی چاہئے۔   امریکہ نے افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرلئے ہیں۔ القاعدہ کا خاتمہ ہوچکا ہے ، اسامہ بن لادن مارا جاچکا ہے اور امریکہ کو اس علاقے سے دہشت گردی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ یہ سب باتیں  جنگ سے تنگ آئے ہوئے امریکی عوام کی تشفی کے لئے ہیں۔ درحقیقت امریکی فوج  افغانستان پر حملے    کا کوئی مقصد بھی حاصل نہیں کرسکی۔ اور اب وہ افغانستان کو جس حالت میں چھوڑ کر جار ہے ہیں وہ صورتحال سب کے سامنے ہے۔ اور جس طرح سید الشہداء سکول پر حملہ ہوا ہے اس سے لگتا ہے کہ افغانستان کو اگر اس حالت میں چھوڑ دیا گیا تو اقلیتوں کی زندگی کا کیا ہوگا؟ ابھی تو امریکہ نے انخلا کا عمل شروع کیا ہےا ور ابھی سے مذہبی اقلیتوں پر زندگی تنگ ہونا شروع ہوگئی ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے وقتوں کے لیے اقلیتوں کے لیے یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔ زلمے خلیل زاد سمیت امریکی اور افغان سٹیک ہولڈرز کو افغان اقلیتیوں کے تحٖفظ کے لیے م بیٹھ کر کوئی ٹھوس حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے اور تمام سٹیک ہولڈرز کو اس کا پابند کرنا چاہیے۔

کوئی نہیں جانتا کہ جب امریکہ اور اتحادی افواج   مل کر بیس برس کی محنت شاقہ کے باوجود طالبان کو زیر نہیں کرسکے اور افغانستان میں ایسا ماحول پیدا نہیں کیا جاسکا جس میں ایک متوازن جمہوری حکومت قائم ہوسکے جو بنیادی انسانی حقوق ، صنفی مساوات اور انتہاپسندی  کی روک تھام کے لئے کام کرے تو اتحادی افواج کے جانے سے پیدا ہونے والے پاور ویکیوم  میں یہ کام کیسے ہوگا۔ صدر ٹرمپ کے دور میں امریکہ  کو افغان طالبان سے  معاہدہ کی اتنی عجلت تھی کہ  اس پر دستخط کرنےسے پہلے طالبان سے  جنگ بندی کا بنیادی مطالبہ بھی منظور نہیں کروایا جاسکا۔ جمہوریت اور خواتین کے حقوق کا معاملہ تو بہت بعد کی بات ہے۔ امریکی افواج کو واپس بلا کر افغانستان میں جنگ ختم کرنے کا اعلان کرنا جو بائیڈن حکومت کی سیاسی مجبوری ہے۔ لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے آنکھ بند کرکے کئے گئے سب فیصلوں کا بوجھ  افغانستان کی اقلیتوں پر پڑے گا۔ یہ بات بھی ممکن ہے کہ شاید وہ قوتیں جو امریکی انخلا کے خلاف ہیں وہ بھی اس حملے میں ملوث ہوسکتی ہیں مگر سید الشہدا سکول پر حملہ یہ خوفناک یادہانی ضرور ہے کہ افغانستان میں آنے والے وقتوں میں اقلیتوں اور خاص طو رپر شیعہ برادری پر کیا گزر سکتی ہے۔۔
http://www.taghribnews.com/vdcaiynmi49nww1.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس