تاریخ شائع کریں2021 15 May گھنٹہ 23:20
خبر کا کوڈ : 504065

قائد اعظم محمد علی جناح، فلسطین اور اسرائیل

مسلم لیگ فلسطین کے حق میں مسلسل قراردادیں پاس کر رہی تھی اور اس نے اس موقع پر ان قراردادوں کی شدت میں مزید اضافہ کیا۔ 1938 میں پٹنہ سیشن کے دوران محمد علی جناح نے جاں بحق ہونے والے عربوں کو شہید قرار دیا اور برطانوی شہنشاہیت کی شدید مذمت کی ۔
قائد اعظم محمد علی جناح، فلسطین اور اسرائیل
بشکریہ:شفقنا اردو

ماہ رمضان میں اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف جاری بربریت پر پاکستان میں مسئلہ فلسطین مسلسل زیر بحث ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جرائم کو اپارتھائیڈ کا نام دیا ہے ۔ دوسری جانب پاکستانی پریس اسرائیل کو تسلیم کرنے کےحوالے سےبھی رومانیت کا شکار ہے۔ تاہم پاکستانی عوام اور سیاستدان اس حوالے سے بائی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فیصلے اور الفاظ کو بطورول ماڈل دیکھتے ہیں۔ تاریخی طور پر اگر اس معاملے کوآدھے سچ، شکوک اور غلط معلومات سے بدل دیا گیا ہے۔ اس لیے ہم اس حوالے سے قائد اعظم محمد علی جناح کے کردار اور عملی اقدامات کو مدنظر رکھتے ہیں۔

بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں آل انڈیا مسلم لیگ دنیا کے مسلمانوں کے معاملات میں بہت زیادہ دلچسپی لینے گی اور 1918  کے دہلی کے اجلاس میں خلافت عثمانیہ کے تحٖفظ کے لیے ایک قرارداد پیش کی گئی جس میں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ خاص طور پر یروشلم پر قبضے کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔جب خلاف کے تحفظ کے لیے قرارداد پر ووٹنگ کا عمل شروع ہوا تو جناح نے واضح طور پر کہا کہ مسلم لیگ کے آئین کے تحت اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ برطانوی حکومت کی خارجہ پالیسی میں مداخلت کرے۔ جب انہوں نے یہ دیکھا کہ ممبران ان کے خلاف ہوگئے ہیں تو وہ وہاں سے رخصت ہوگئے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سب جناح کے پان اسلام ازم نظریات کا اختتام تھا مگر 1919 کے موسم گرما میں قائداظم کے نظریات مکمل طور پر تبدیل ہوچکے تھے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد وہ ایک وفد خلافت عثمانیہ کے موضوع پر بحث کے لیے برطانوی وزیر اعظم کے پاس لے گئے ۔ جب برطانوی وزیر اعظم نے ملنے سے انکار کر دیا تو انہوں نے ایک یادداشت پر دستخط کر رکے اسے 27 اگست 1919 کو برطانوی وزیر اعظم کے دفتر بھجوا دیا۔ 11 مئی 1920 کو امن کی شرائط کا اعلان کیا گیا اور خلافت کو تقسیم کر کے اس پر قبضہ کر لیا گیا۔ہہہہہْ

ستمبر 1920 میں کلکتہ کے مسلم لیگ کے اجلاس میں جس صدارت محمد علی جناح کر رہے تھے انہوں نے اپنے خطاب میں فرمایا” پہلے رولٹ بل لایا گیا جو پنجاب کے خلاف جبر و بربریت سے بھرپور تھا اور پھر اس کے بعد سلطنت عثمانیہ اور خلافت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ انہوں نےمزید کہا کہ پہلے ہماری آزادی پر حملہ کیا گیا اور پھر ہمارے ایمان پر۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ترکی اور خلاف عثمانیہ پر ذلت آمیز شرائط عائد کردی گئی ہیں اور مینڈیٹ کے بھیس میں حلیفوں نے اس کے ٹکڑے کر دیے ہین ۔ پھر انہوں نے کہا کہ چاند تارے اور نیلی و سنہرے باسفورس کی مقدس سرزمین کا کیا ہوا؟ اس کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا گیا اور اس کے خلیفہ کو قیدی بنا لیا گیا اور اس کی سرزمین کو حلیفوں نےکڑی شرائط عائد کر کے اپنے پاؤن تلے روند دیا ۔ انہوں نے اس کو معاہدہ نہیں بلکہ موت کا وارنٹ قرار دیا۔ جیسا کہ بہت سارے پاکستانی جانتے ہیں کہ محمد علی جناح گاندھی کی تحریک عدم تعاون کے خلاف تھے  جس کی حمایت خلافت کانفرنس کر کر ہی تھی کیونکہ وہ ہجوم کی سیاست کو پسند نہیں کرتے تھے۔ تاہم انہوں نے اس سیشن میں ممبران کو کھلی چھٹی دی کہ وہ اپنی مرضی کریں اس کو جوائن کریں یا نہ کریں ۔

اس لیے بہتر ہے کہ ہم فلسطین اور اسرائیل پر قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد والے مؤقف کو دیکھیں۔ عرب انقلاب ( 1936 تا 1939) کے موقع پر ، مسلم لیگ فلسطین کے حق میں مسلسل قراردادیں پاس کر رہی تھی اور اس نے اس موقع پر ان قراردادوں کی شدت میں مزید اضافہ کیا۔ 1938 میں پٹنہ سیشن کے دوران محمد علی جناح نے جاں بحق ہونے والے عربوں کو شہید قرار دیا اور برطانوی شہنشاہیت کی شدید مذمت کی ۔ انہوں نے بالفور معاہدے کو بھی برطانوی شہنشاہیت میں وسعت کا ایک طریقہ قرار دے کر اس معاہدے کو سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اکتوبر 1939 میں مسلم لیگ نے جناح کو یہ اختیار دیا کہ وہ برطانوی وائسرائے پر دباؤ ڈالیں کہ وہ فلسطین پر عربوں کے مطالبات کو تسلیم کریں۔ دوسری جنگ عظیم کے پھوٹ پڑنے اور سب سےبڑی جماعت انڈین نیشنل کانگریس کی حمایت نہ ملنے کے بعد سرکاری برطانیہ نے حمایت کے لیے مسلم لیگ کو زیدہ اہمیت دینا شروع کر دی ۔ 1939 کی گول میز کانفرنس میں محمد علی جناح نے چوہدی خلیق الزمان اور عبدالرحمان صدیقی کو فلسطین کے لیے امداد دے کر مفتی امین ال حیسنی کی طرف بھیجا ۔ جناح نے 1939 میں برطانیہ پر تقنید کرتے ہوئے وائٹ پیپر جاری کیا اور واحد ریاست کے حل کے لیے عربوں کے مطالبات ماننے کے لیے دباؤ ڈالا۔ انہوں نے سپریم عرب کونسل کی حمایت کا وعدہ کیا اور فلسطینی فنڈ کا آغاز کیا۔

پوری جنگ کے دوران جناح نے فلسطین کے معاملے پر عربوں کی حمایت جاری رکھی ۔ 1946 میں انہوں یہودیوں کے حوالے سے برطانوی امیگریشن پالیسی کی تبدیلی پر کئی دفعہ احتجاج کیا اور مشترکہ اینگلو امریکن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام کی کوششوں کی انکوائری کیرں۔ فروری 1946 میں جناح نے نیویارک ٹائمز کے نمائندے کو بتایاکہ وہ فلسطین کی حمایت کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے اور جب ان سے کسی بھی حد کی تعریف کا کہا گیا تو انہوں کہا میں جو کچھ کر سکا حتی کہ اگر ضرورت پڑی تو تشدد کا رستہ بھی اختیار کروں گا۔ چونکہ مسلم لیگ یہ انتخابات جیت گئی تھی اس لیے حکومت برطانیہ نے اس دھمکی کو اندرونی مسائل اور پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے سنجیدہ لیا ۔ جس کی وجہ سے برطانوی راج کی جانب سے پاکستان کے وجود کا معاملہ مشکل میں پڑ گیا۔ محمد علی جناح نے 17 جنوری 1946 کو انکشاف کیا کہ برطانوی حکومت نے ابن سعود کو ایک یہودی ایجنسی کی جانب سے 25 ملین پاؤنڈ کی رشوت کی پیش کش کی گئی کہ وہ پاکستان کے معاملے پر خاموش رہیں گے تاہم شاہ سعودیہ نے اس کو رد کر دیا۔ محمد علی جناح نے فلسطین سے یہودیوں کو آسٹریلیا اور کینیڈا متنقل کرنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان کے قیام کے دو ماہ بعد محمد علی جناح نے ڈنکن ہوپر کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ فلسطین کی تقسیم ایک بہت بڑی تباہی ہے اور پاکستان اس معاملے میں عربوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔

اس وقت تک محمد علی جناح کی صحت حد درجہ خراب ہوگئی تھی ۔ جب نومبر 1947 میں اقوام متحدہ نے تقسیم کے منصوبے کی منظوری دی  تو قائد اعظم نے اسی وقت امریکی صدر ٹرومین کو خط لکھا اور انہیں فلسطین کی تقسیم کے عمل سے دور رہنے کی تلقین کی ۔ جناح نے رابرٹ سمن سے کہا کہ فلسطین کی تقسیم ظالمانہ عمل ہے اور وہ ہر ممکن طریقے سے عربوں کی حمایت کریں گے۔ اسرائیل نے 14 مئی 1948 کو آزادی کا اعلان کر دیا مگر پاکستان نے اس کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ اس لیے ہمیں اس طرح کے الزامات پر کان نہیں دھرنے چاہیئیں کے قائداعظم پاکستان کی تشکیل کے لیے یہودیوں سے متاثر تھے۔ صیہونیت اور یورپین جیوری سے متعلق قائد اعظم کی ذاتی لائبریری میں موجود کتب یہ ثابت کرتی ہیں کہ وہ ہرگز یہودیت سے متاثر نہیں تھے۔ اس لیے اس تاریخی پاس منظر میں یہ بات ناممکن ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لے گا۔ اس طرح کی کسی بھی کوشش کے نتیجےمیں ملک میں احتجاج پھوٹ پڑیں گے اور وہ سیاسی جماعت دوبارہ اقتدار کا منہ نہیں دیکھے گی۔ جناح کی خلافت، فلسطین اور عربوں کی حمایت جو تین دہائیوں پر مشتمل تھی ، پاکستان کے اسرائیل پر مؤقف کو ہمیشہ قائم رکھنے کے لیے کافی ہے۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcjmxeiiuqeyyz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس