تاریخ شائع کریں2021 14 May گھنٹہ 20:23
خبر کا کوڈ : 503911

برطانوی میڈیا کی اسرائیل کی حمایت میں خبریں

رطانوی میڈیا نے اسرائیل فلسطین تنازعے پر اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی لائی ہے یا نہیں؟ کیونکہ برطانیہ یوں تو انسانی حقوق کا علمبردار بننے میں اول اول نظر آتا ہے۔ یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ ” دی گارڈین ” نے فلسطین میں اسرائیل کے قیام کی بھرپور حمایت کی تھی تاہم اب وہ اس پر پشیمان ہے۔
برطانوی میڈیا کی اسرائیل کی حمایت میں خبریں
بشکریہ:شفقنا اردو

ایک مرتبہ پھر تاریخ خود کو دہرا رہی ہے اور اسرائیلی فوج الاقصٰی میں غیر مسلح عبادت گزاروں کو اپنی بدترین دہشت گردی کا نشانہ بنا رہی ہے۔ اور جن لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ان کے پاس اس دہشت گردی کا جواب دینے کے لیے سوائے پتھروں کے ہاتھوں میں کچھ بھی نہیں۔ اور جن کے ہاتھ پتھروں سے بھی خالی ہیں وہ اپنے موبائل فونز سے ان مظالم کی تصویریں بنا کر پھیلا رہے ہیں ۔ مسجد اقصٰی ، غزہ اور مشرقی یروشلم میں بچوں، عورتوں اور بزرگوں کی چیخیں مہذب دنیا اور مغربی میڈیا کو جھنجھوڑنے میں ناکام نظر آتی ہیں حالانکہ یہی مغربی میڈیا جارج فلائیڈ، ملالہ یوسف زئی اور ایلن کردی کے لیے چیخ چیخ کر انصاف کا تقاضا کررہا تھا۔ تو اب کیا ہوا ہے؟ کیا فلسطین کم تر انسان ہیں؟ یا کیا فلسطینیوں کی زندگی معنی نہیں رکھتی؟ برطانیہ کا اسرائیل کے ساتھ ایک انمٹ تعلق ہے ۔ اسرائیل کی ناجائز پیدائش سے لے کر آج تک برطانوی میڈیا اور سیاستدان اسرائیل کی غیر مشروط حمایت میں ہر جگہ پیش پیش نظر آتے ہیں۔

دیکھنا ہے کہ کیا برطانوی میڈیا نے اسرائیل فلسطین تنازعے پر اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی لائی ہے یا نہیں؟ کیونکہ برطانیہ یوں تو انسانی حقوق کا علمبردار بننے میں اول اول نظر آتا ہے۔ یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہیے کہ ” دی گارڈین ” نے فلسطین میں اسرائیل کے قیام کی بھرپور حمایت کی تھی تاہم اب وہ اس پر پشیمان ہے۔ تاہم اس کے مقابلے میں ہم  اسرائیلی کی حالیہ بربریت اور جارحیت پر برطانوی میڈیا کا رد عمل دیکھتے ہیں۔ ایک افریقی امریکی انسانی حقوق کے علمبردار ملیکم ایکس کا ایک مشہور قول ہے” میڈیا روئے زمین پر سب سے طاقتور عنصر ہے ۔ یہ کسی معصوم کو گناہ گار اور کسی گناہ گار کو معصوم بنا کر پیش کرنے کی طاقت رکھتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کے زہنوں کو کنٹرول کرتا ہے۔ اگرچہ تقریبا سات دہائیاں گز چکی ہیں تاہم میلکم ایکس کا یہ قول آج بھی اس کو سچ ثابت کرتاہے۔

اگر آپ دنیا کے دیگر میڈیا کے مقابلےمیں برطانوی میڈیا کی الاقصٰی حملے کی کوریج دیکھیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ کس طرح برطانوی میڈیا ملیکم ایکس کے قول پر پورا اتررہا ہے۔ بدقسمتی سے برطانوی براڈ شیٹ، ٹیبلائڈز اور براڈکاسٹ چینلز ایک ہی انداز میں الاقصٰی مسجد کی رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ برطانوی میڈیا اسرائییل جارحیت کو جھڑپوں کا نام دے رہا ہے اور یہ ظاہر کرر ہاہے کہ فلسطینی جنگجو بہت اچھی ٹریننگ اور جدید اسلحے سے لیس ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی مسجد اقصٰی کے تحفظ کے لیے اپنے ہاتھوں میں سوائے پتھروں کے کچھ بھی نہیں رکھتے۔  کیا برطانوی میڈیا کو پتھروں اور سٹن گرینیڈز اور ربر کی گولیوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ نہتے فلسطینیوں اور مسلح اسرائیلی افواج کے مابین کیا تقابل ہے؟

برطانوی میڈیا نے بڑی مہارت سے بازاری زبان اور محاورات کا استعمال کر کرے اسرائیل کو بے گناہ اور فلسطینیوں کو گناہ گار ثابت کر دیا ہے۔ اس زبان کی چند ایک مثالیں یہ ہیں، جھڑپیں، تشدد، بد امنی، فلسطینی دہشت گرد، حماس کے جنگجو، بدترین مذہبی بد امنی، سیکورٹی رد عمل، مسلمانوں کی جانب سے اشتعال انگز کارروائیاں، امن کو برقرار رکھنا اور ہزاروں عبادت گزاروں کا فساد، ایسے ہی محاورے اور الفظ ہیں جس سے لگتا ہے اسرائیل مظلوم ہے اور فلسطینی جابر۔ اگرچہ ان میں سے بعض محاورات اسرائیلی ترجمان کی جانب سے آئے ہیں تاہم بہت ہی کم برطانوی اخباروں بشمول ڈیلی میل نے اردگان کی جانب سے اسرائیل کو جابر دہشت گرد ریاست کہنے کی بابت کوئی بات کی ہے۔ آپ فنانشل ٹائمز کی مثال لے لیں جس نے دو فعل بڑی چابکدستی سے استعمال کیے ہیں  ، فلسطینیوں کے لیے چوٹ اور اسرائیلیوں کے لیے زخمی۔ اب چوٹ کا مطب درد ہے جبکہ زخمی کا مطلب جسمانی نقصان۔ اسی طرح لفظ تشدد اور جھڑپوں کو بڑی مہارت سے استعمال کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ دونوں فریقین جنگ میں برابر کی ٹکر کے ہیں۔ اور کسی بھی برطانوی اخبار نے اسرائیلیوں کے لیے بربریت، دہشت گرد ، ریاستی دہشت گردی، انتہا پسندی اور انتہا پسند اسرائیلی قابض کے الفاظ استعمال نہیں کے۔

آپ گارڈین اخبار کی ایک ہیڈ لائن دیکھیں” یروشلم میں تازہ جھڑپوں میں متعدد زخمی” یہاں آپ کو ڈیلی ٹیلی گراف اور گارڈین میں حیران کن مماثلت ملے گی دونوں اخبارات نے زخمیوں کی شناخت چھپا لی ہے یہ نہیں بتایا کہ متعدد زخمی درحقیقت فلسطینی ہیں۔ اگرچہ یہ دونوں اخبارات سیاسی نظریات میں مختلف ہیں تاہم اسرائیل کے معاملے میں ایک ہیں۔ اب ایک نظر بی بی سی پر ڈالیں : یروشلم تشدد” راکٹ حملے کےبعد غزہ پر خطرناک فضائی حملے”  یروشلم تشدد، اسرائیلی پولیس کی یروشلم میں فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپیں۔  ان ہیڈ لائنز میں مسجد الاقصٰی کی بجائے لفظ یروشلم استعمال ہوا ہے تاکہ اصل مسئلے کی طرف سے توجہ ہٹا کر یروشلم پر زیادہ سے زیادہ اہمیت دی جائے نہ کہ مقدس مقام کو۔ بی بی سی بھی حماس کے خلاف اسرائیل کی حمایت کر رہی ہے اور یہ ایک منظم تعصب ہے۔

اسی طرح بی بی سی کی ایک اور رپورٹ دیکھیں” مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک حصے میں جمعے کے روز اسرائیل کی فوجی اڈے پر فائرنگ کے جواب میں دو فلسطینیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اسی طرح” اس ہفتے کے آغاز میں ایک مسلح فلسطینی شخص نے ایک دینی اسرائیلی طالبعلم کو ہلاک کردیا جس کی تلاش کے دوران ایک فلسطینی نوجوان اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگیا ۔ ایک مرتبہ پھر منظم تعصب کیونکہ بی بی سی اپنے قارئین کو بتانا چاہتی ہے کہ یہ فلسطینی ہیں جو پہلے اسرائیل پر حملہ کرتے ہیں اور اسرائیل حفظ ما تقدم ان کے خلاف ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ پس یہ بات بار بار دہرائی جاتی ہے کہ اسرائیل کا اپنے دفاع کا حق یعنی فلسطینی ان پر حملہ آور ہیں۔ اسی طرح برطانی اخبار ڈیلی میل کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں۔

اگر آپ حقائق میں تفاوت کو دیکھیں تو زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں یکسانیت نہیں ہے۔ انڈیپینڈنٹ نے اسرائیلی افواج کی جانب سے بیان کیا ہےکہ” حماس گزشتہ 18 گھنٹوں سے ایک منٹ میں تین راکٹ فائر کر رہا ہے تاہم بی بی سی کے اعدادو شمار اس حوالے سے بالکل مختلف ہیں۔حتی کہ فنانشل ٹائمز نے اپنے ایک آرٹیکل میں یہ تسلیم کیا ہےکہ انہوں نے غلط بتایا ہے کہ مسجدالاقصی مشرقی یروشلم میں موجود ہے۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcizpawzt1au32.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس