تاریخ شائع کریں2021 14 May گھنٹہ 20:21
خبر کا کوڈ : 503910

عید پر فلسطینی بچے کی ماوں کا نوحہ

عیدوں کی طرح اس عید پر بھی فلسطین کے زخمیوں کی تصویریں ہیں۔ بے بس مظلوم فلسطینی عورتوں اور اور بچوں کی لہو میں ڈوبی ہوئی تصویریں ہیں۔کاش آج امت مسلمہ زندہ ہوتی تو عید فلسطینی بچوں کی لاشوں پر نوحہ کناں نہ ہوتی۔ چلو آج فلسطین کے بچوں کو فیض کی لوری ہی سنا دو۔
عید پر فلسطینی بچے کی ماوں کا نوحہ
بشکریہ:شفقنا اردو

عید دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خوشی کا تہوار ہے مگر بدقسمتی سے امت مسلمہ پر شاید ہی کوئی عید ہو جو خوشی کاپیغام لے کر آئے۔ کشمیر، یمن، افغانستان، شام اور اب فلسطین میں مسلمانوں کی حالت زار ایسی ہے کہ امت مسلمہ کا دل اس خوشی کے موقع پر بھی خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ ایک طرفہ تماشا ہے جو ایک طویل عرصے سے مسلسل چلا آرہا ہے اور عید سعید کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمانوں کو تشدد اور بربریت کی ایک نئی لہر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عید سے چند روز قبل ہی سید الشہداء سکول پر خود کش حملے میں معصوم طلبا کی شہادت کوئی کم تازیانہ نہیں تھی کہ اسرائیل نے فلسطین میں جبر و بربریت کا بازار گرم کر دیا۔اسرائیل کی جانب سے عید الفطر کے پہلے روز بھی غزہ پر حملے جاری ہیں اور اب تک 83 کے قریب بے گناہ فلسطینی بشمول درجنوں بچے جان کی بازی ہار گئے ہیں۔ ۔ وزارت صحت غزہ کے مطابق شہداء میں 17 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد 500 ہوگئی جن میں سے 26 کی حالت تشویشناک ہے۔ د گزشتہ رات کے اسرائیلی حملوں میں زہریلی گیس کے استعمال کا شبہ ہے جبکہ حکام کے مطابق حملوں میں متعدد فلسطینیوں کی شہادت زہریلی گیس سے ہونے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

غزہ میں فلسطینی حکام کے مطابق اب تک 84 افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں 17 بچے شامل ہیں جبکہ 480 افراد زخمی ہیں جن میں سے متعدد کی حالت تشویش ناک ہے اور شہدا کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ گھر اور عمارتیں تباہ ہونے سے ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر میں آج عید کے اجتماعات ہوئے ہیں مگر فلسطین میں عید کے اجتعاعات کے ساتھ  ہی شہیدوں کی غائبانہ نماز جنازہ بھی ہوئی ہے۔  ۔ فلسطینیوں نے بالخصوص غزہ ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں ہر طرف لہو اور ملبہ کے ڈھیر کے درمیان عید منائی۔ جہاں ایک طرف مسلم ملکوں بشمول سعودی عرب ، کویت، قطر ، یو اے ای وغیرہ میں روایتی انداز میں عیدالفطر منائی گئی وہیں فلسطین میں ماتم کا ماحول تھا جو گزشتہ چار دن کی اسرائیلی بربریت اور بمباری میں کھنڈروں میں تبدیل ہوچکا ہے ۔جہاں بیشتر خلیجی ممالک میں چاند رات سے ہی زبردست چہل پہل اور گہما گہمی تھی وہیں غزہ کے بچے کچھے بازاروں میں رونقیں تو کجا ہُو کا عالم تھا۔ غزہ کی ان سڑکوں اور علاقوں میں ہرطرف خون کی بو آرہی تھی اور ملبہ کے ڈھیر پڑے ہوئے تھے جہاں پہلے عید کے موقعوں پر خوشیوں کا بسیرا ہوتا تھا ۔

گزشتہ عیدوں کی طرح اس عید پر بھی فلسطین کے زخمیوں کی تصویریں ہیں۔ بے بس مظلوم فلسطینی عورتوں اور اور بچوں کی لہو میں ڈوبی ہوئی تصویریں ہیں۔ بہتا ہوا سرخ سرخ لہو، انکے گھروں کو مسمار کر دیا گیا، آدھی گری ہوئی چھتیں ،ویران ہوتے مکان اور آبادیاں اور ان گھروں سے گھسیٹ کر لے جائے جاتے فلسطینی جوان جن کی بوڑھی مائیں اور جوان سہاگنیں ہر قیمت پر انہیں ظالم اسرائیلیوں کے ہاتھوں سے کھینچنے کی کوشش کر رہی ہیں، بچے چلا چلا کر اپنے باپوں کو پکار رہے ہیں مگر قابض اسرائیلی فوج اس طرح انہیں کھینچ کر لے جاتی ہے، جیسے قصاب ذبح ہونے والے جانور کو!! اور بلکتے بے بس مجبور بچے اور عورتیں سسکتی رہ جاتی ہیں ۔شرق تا غرب ڈیڑھ ارب مسلمان ہیں،پچاس سے زائد اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی ہے اور سب سے بڑھ کر اسلامی عسکری اتحاد ہے مگر زخموں سے چور چور فلسطینیوں کا عملی طور پر کوئی پرسان حال نہیں۔۔بس ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر مذمتیں ہیں اور مطالبات ہیں۔۔۔ترلے ہیں اور منتیں ہیں۔۔

اسلامی تعاون کی تنظیم کی بنیاد اس وقت رکھی گئی جب اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کو آگ لگا دی تھی۔ اس پر مروکو کے دارالحکومت رباط میں ایک اجلاس ہوا اور اس اجلاس کی بنیا دپر اسلامی تعاون کی تنظیم بنائی گئی۔ اس تنظیم کو بنانے کا محرک قبلہ اول بنا تھا۔ آج ایک بار پھر قبلہ اول اسلامی دنیا کے حکمرانوں کو بلا رہا ہے مگر وہ سوئے ہوئے ہیں یا مدہوش ہیں۔نہتے فلسطینی بچوں کی چیخیں اور آوازیں ان تک نہیں پہنچ رہیں۔ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والی یہ تنظیم اپنے قیام کے مقصد کو بھول چکی ہے۔کوئی ہے جو فلسطینی بچوں اورعورتوں کو بتا سکے کہ اب یہاں کوئی نہیں آئے گا۔ ان کے آنسو پونچھنے کے لیے ہمارے حکمرانوں کے پاس وقت نہیں ہے۔ فلسطینی بچوں ہماری طرف نہ دیکھو آسمان کی طرف دیکھو اس رب کائنات سے کہو کہ وہ ابابیل بھیجے کیونکہ جو امہ ہے اسے تم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔کشمیر کا محاصرہ ہوا یہ امہ خاموش رہی اور بھار ت سے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں رہی۔ اب فلسطینیوں پر قیامت ٹوٹی ہے تو وہ اسرائیل اور امریکہ سے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ قبلہ اول کا کیا ہے ہم اس کے گھر مکہ مکرمہ ہو آئیں گے ۔ لیکن ذرا یہ تو بتائو کہ گنبد خضریٰ پر جا کر کیا کہو گے کس منہ سے سامنا کرو گے ۔ کیسے کہو گے کہ ہم نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔کون سی فریاد لے کر جائو گے کہ ہم نے اپنی جانیں تیرے ناموس پر لٹا دی تھیں۔ قبلہ اوّل اور مسجد اقصیٰ سے منہ موڑنے کی کوئی تو دلیل سمجھائو کہ بات کرتے ہوئے شرم نہ آئے۔

کاش آج فیض زندہ ہوتا تو فلسطینی بچوں کو کوئی لوری سناتا۔ کاش آج صلاح الدین ایوبی زندہ ہوتا تو فلسطینی بچوں کے زخموں پر پھاہا رکھتا۔ کاش آج امت مسلمہ زندہ ہوتی تو عید فلسطینی بچوں کی لاشوں پر نوحہ کناں نہ ہوتی۔ چلو آج فلسطین کے بچوں کو فیض کی لوری ہی سنا دو۔

مت رو بچے

رو رو کے ابھی

تیری امی کی آنکھ لگی ہے

مت رو بچے

کچھ ہی پہلے

تیرے ابا نے

اپنے غم سے رخصت لی ہے

مت رو بچے

تیرا بھائی

اپنے خواب کی تتلی پیچھے

دور کہیں پردیس گیا ہے

مت رو بچے

تیری باجی کا

ڈولا پرائے دیس گیا ہے

مت رو بچے

تیرے آنگن میں

مردہ سورج نہلا کے گئے ہیں

چندرما دفنا کے گئے ہیں
http://www.taghribnews.com/vdchzxnmv23nvwd.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس