تاریخ شائع کریں2021 14 May گھنٹہ 17:14
خبر کا کوڈ : 503885

مسجدالاقصی پر جارحیت ہورہی ہے لہذا جنگ بھی جاری ہے،حماس

حماس کے سیاسی سیل کے نائب سربراہ صالح العاروری نے کہا ہے کہ جنگ بندی اسی وقت ممکن ہے جب قدس شریف اور مسجد الاقصی پر جارحیت بند کردی جائے۔
مسجدالاقصی پر جارحیت ہورہی ہے لہذا جنگ بھی جاری ہے،حماس
حماس نے کہا ہے کہ غزہ پر زمیںی حملہ کرنے کی دھمکی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے۔

حماس کے سیاسی سیل کے نائب سربراہ صالح العاروری نے کہا ہے کہ جنگ بندی اسی وقت ممکن ہے جب قدس شریف اور مسجد الاقصی پر جارحیت بند کردی جائے۔

صالح العاروری نے بتایا کہ مصر، قطر اور اقوام متحدہ کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر حماس کو تجاویز پیش کی جارہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کو اصولی طور پر جنگ بندی کے تعلق سے کوئی مشکل نہیں ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ چونکہ قدس شریف اور مسجدالاقصی پر جارحیت ہورہی ہے لہذا جنگ بھی جاری ہے۔

صالح العاروری نے کہا کہ حماس کا مطالبہ یہ ہے کہ قدس شریف میں عبادت کی آزادی دی جائے اورجارحیتوں کا سلسلہ بند ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم تین گھنٹے یا چھے گھنٹے کی جنگ بندی کے مخالف ہیں، حماس جنگ پسند نہيں ہے، ہمارا موقف ثالثی کرنے والوں کے لئے یہ ہے کہ اسرائیل ملت فلسطین کے خلاف اپنے حملے بند کرنے کا اعلان کرے۔

انہوں نے کہا زمینی حملہ شروع کئے جانے کی صیہونی حکومت کی دھمکی کا مقصد ملت فلسطین پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا ہے ۔
http://www.taghribnews.com/vdcivpawwt1auv2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس