تاریخ شائع کریں2021 12 May گھنٹہ 21:27
خبر کا کوڈ : 503718

افغانستان کا مسئلہ کیا ہے؟

بچوں اور بچیوں کی یہی قسمت ہے کہ ان کے لاشے لہو میں ڈوبے بستوں کے ساتھ گھروں کو آیا کریں؟ کیا اقوام عالم اور افغانستان کے مقامی کرداروں میں اس بات پر کہیں کوئی اتفاق رائے ہو چکا ہے کہ اس ملک میں امن کا داخلہ منع ہے؟
افغانستان کا مسئلہ کیا ہے؟
تحریر:آصف محمود 
بشکریہ:انڈپینڈنٹ اردو


افغانستان کا مسئلہ کیا ہے؟ یہاں غیر ملکی فوجیں آئیں تب بھی لہو بہتا ہے اور وہ واپس جانے لگیں تب بھی خوں ریزی شروع ہو جاتی ہے۔ کیا تباہی و بربادی ہی اس کا مقدر ہے؟ کیا امن اس سے ہمیشہ کے لیے روٹھ چکا؟

کیا یہاں کے بچوں اور بچیوں کی یہی قسمت ہے کہ ان کے لاشے لہو میں ڈوبے بستوں کے ساتھ گھروں کو آیا کریں؟ کیا اقوام عالم اور افغانستان کے مقامی کرداروں میں اس بات پر کہیں کوئی اتفاق رائے ہو چکا ہے کہ اس ملک میں امن کا داخلہ منع ہے؟

جب سے ہوش سنبھالا ہے افغانستان میں تباہی اور بربادی ہی دیکھی ہے۔ اس وحشت اور خون ریزی کے قصیدے سنتے ہماری نسل جوان ہوئی۔ ہر خون آشام وار لارڈ کے حصے کے مغنی اس کے ہاتھوں ہونے والے قتل عام پر یہاں غزل قصیدہ کرتے پائے جاتے ہیں۔ قتل عام اور درندگی کو یہاں رومانوی عنوان دیے گئے۔ دو چار برس کا قصہ نہیں، عشروں سے یہاں خون بہہ رہا ہے۔

قتل وغارت حد سے بڑھتی ہے تو انسانی معاشروں کی تہذیب کر دیتی ہے۔ یورپ کا معاشرہ ایک غیر معمولی جنگی تباہی سے گزرا تو انہوں نے دشمنی ترک کی اور امن اور خوشحالی کے عنوان سے ایک دوسرے کے قریب آ گئے۔ افغانستان بھی تباہی کے ایک طویل دور سے گزرا ہے۔ 1979 سے1989 تک 15 لاکھ افغان باشندے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سوویت یونین یہاں سے نکلا تو مجاہدین نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ قریب 50 ہزار لوگ نائن الیون کے بعد کی جنگ میں قتل ہو گئے۔ در بدر ہونے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ لیکن آج بھی یہاں کوئی احساس زیاں نظر نہیں آتا۔ امریکی افواج نکلنے والی ہیں تو ایک نیا میدان تیار ہے۔

کیسا منجمد ماحول ہے؟ جن کرداروں نے اس ملک کو برباد کیا اب ایک بار پھر وہی کردار نجات دہندہ بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ تیس چالیس سالوں میں کہیں کوئی متبادل قیادت سامنے نہیں آ سکی۔ امریکہ میں ریگن کے بعد بش، بش کے بعد کلنٹن، کلنٹن کے بعد بش جونیئر، ان کے بعد اوباما، ٹرمپ اور اب جو بائیڈن صدر ہیں لیکن افغانستان میں آج بھی وہی قیادت قوم کی فکری رہنمائی کے لیے دستیاب ہے جو تیس چالیس پہلے ہوا کرتی تھی۔ کسی بھی سطح پر کہیں کوئی ارتقا نہیں۔ وہی رنگ ہیں وہی ڈھنگ۔

مجاہدین کا دور ہو یا کمیونسٹوں کا، افغانستان کی تاریخ خون ہی سے لکھی جاتی رہی۔ ظاہر شاہ کے وزیراعظم داؤد خان نے اپنے کزن بادشاہ کو معزول کر کے خود کو افغانستان کا پہلا صدر قرار دیا توصدر محترم کے خلاف کمیونسٹ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی انقلاب لے آئی اور انہیں اہل خانہ سمیت قتل کر دیا گیا۔

ان کی لاش ایک اجتماعی قبر سے 30 سال بعد جا کر ملی۔ اس کے بعد اقتدار کمیونسٹ رہنما نور محمد ترکئی کے پاس آیا ایک ہی سال بعد ان کے منہ پر تکیہ رکھ کر انہیں قتل کر دیا گیا۔ ترکئی کو قتل کرانے والے حفیظ اللہ امین صرف 104 دن حکومت کر سکے اوریوں قتل ہوئے کہ کسی کو معلوم ہی نہ ہو سکا کیسے قتل کیے گئے۔ ترکئی سے ڈاکٹر نجیب تک یہ سب کمیونسٹ جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔

سوویت یونین کے جانے کے بعد افغانستان میں اسلامی انقلاب آیا اور اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ کابل کی تباہی گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود نے کی تھی۔ ایک مجاہد اسلام قرار پایا اور دوسرا شیر پنج شیر۔

مجاہد اور شیر کی ہوس اقتدار نے مل کر کابل کو کھنڈر بنا دیا۔ احمد شاہ مسعود تو قتل ہو گئے لیکن جس گلبدین کو ’کابل کا قصاب‘ کہا جاتا تھا وہ ایک بار پھر افغان قوم کی قیادت کے لیے خدمات پیش کرنے کو تیار ہیں۔

رشید دوستم جیسا کردار جس کے مظالم کی کہانیاں پڑھ کر آدمی پر سکتہ طاری ہو جاتا ہے اب قائی قبیلے کی ٹوپی پہن کر ارطغرل بے بنا پھرتا ہے۔

افغانستان ایک قبائلی معاشرہ ہے جہاں معاملات کسی اصول اور قاعدے کی بنیاد پر نہیں بلکہ طاقت کی بنیاد پر طے کیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہاں کوئی ریاستی ڈھانچہ پنپ سکا نہ کوئی ادارہ وجود میں آ سکا۔ یہاں کا اسلام ہو، جدید اسلام ہو یا کمیونزم، ہر چیز قبائلی عصبیت کے خطرناک دائرہ کار میں ظہور کرتی ہے جو صرف طاقت کی زبان میں بات کرنا جانتی ہے اور یہی زبان اسے سمجھ میں آتی ہے۔

افغانستان کا مسئلہ اب پہلے سے پیچیدہ ہو چکا ہے۔ جدید نیشن سٹیٹ بننا تو دور کی بات ہے اب اس کے لیے کسی قدیم ریاستی بندوبست کے تحت چلنا بھی ممکن نہیں رہا۔ لسانی اور علاقائی عصبیت کی خونی تاریخ رکھنے والے جس معاشرے میں خود مختار مسلح گروہ موجود ہوں اور غیر ملکی مداخلت بھی عروج پر ہو وہاں مرکزی نظم قائم کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ایسا معاشرہ انارکی اور مسلسل تصادم کا شکار رہتا ہے۔ کانگو سے روانڈا اور صومالیہ سے لیبیا تک حالات اسی حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں۔

کوئی چاہے تو وہ افغانستان سے امریکی انخلاء کو سوویت انخلا کی طرح فتح مبین قرار دے کر جی بہلا لے لیکن اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خود افغانستان اور اس کے پڑوسی ممالک کے لیے ایک بہت بڑا بحران پیدا ہونے والا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcdfs0kjyt0z56.432y.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس