تاریخ شائع کریں2021 4 May گھنٹہ 22:06
خبر کا کوڈ : 502511

سعودی عرب کی دمشق کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوشش

ملاقات میں شام اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی وفد نے شام کی عرب لیگ میں واپسی اور الجزائر میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں دمشق کی شرکت کا بھی خیر مقدم کیا ہے-
سعودی عرب کی دمشق کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوشش
ایک عشرے تک دہشت گردوں کی حمایت اور شام میں حکومت کی تبدیلی کی کوششوں میں ناکامی کے بعد سعودی عرب نے دمشق کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوشش شروع کردی ہے اور عرب لیگ میں شام کی واپسی کا خیر مقدم کیا ہے۔

سعودی عرب کے ایک وفد نے انٹیلی جینس چیف خالد الحمیدان کی قیادت میں، دمشق کا دورہ کیا  اور صدر بشار اسد سے ملاقات کی ہے۔

ملاقات میں شام اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ سعودی وفد نے شام کی عرب لیگ میں واپسی اور الجزائر میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں دمشق کی شرکت کا بھی خیر مقدم کیا ہے-

سعودی عرب کا شمار دہشت گرد گروہوں اور شامی حکومت کے مخالفین کے سب سے بڑے حامیوں میں ہوتا ہے اور پچھلے ایک عشرے کے دوران ریاض حکومت نے صدر بشار اسد کی حکومت کا  تختہ الٹنے کے لیے اربوں ڈالر کی رقم خرچ کی ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ امریکہ، متحدہ عرب امارات، ترکی اور صیہونی حکومت نیز بعض یورپی ممالک بھی شامی حکومت کے خلاف اقدامات اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ سعودی عرب اور دیگر شام مخالف حکومتیں علاقائی اور عالمی سیاسی پلیٹ فارموں سے بھی شامی حکومت کی مخالفت کرتی رہی ہیں جس میں عرب لیگ میں شام کی رکنیت کی معطلی، شام کے بحران کے سیاسی حل کی راہ میں روکاٹیں کھڑی کرنا، شام کی قانونی حکومت کے بیرونی حامیوں روس، ایران اور حزب اللہ کے خلاف عالمی اداروں کو اکسا کرپابندیاں لگوانا اور دباؤ ڈلوانا شامل ہیں۔

لیکن ایک عشرے کے بعد سعودی عرب نے شام کے بارے میں کھلا یو ٹرن لے لیا ہے اور اب اس کی جانب سے شامی حکومت کا تختہ الٹنے کی بات نہیں کی جارہی بلکہ ریاض حکومت دمشق کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں مصروف ہے۔

سعودی انٹیلی جینس چیف کے حالیہ دورہ دمشق سے پہلے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے بھی سی این این عربی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم شام میں امن واستحکام اور بحران کے سیاسی حل کے خواہاں ہیں۔

سعودی عرب اور دیگر شام مخالفین اب تک یہ سمجھ رہے تھے کہ دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور ہمہ گیر عالمی دباؤ کے ذریعے شام میں حکومت کو تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن بحران شام کو گیارہ سال گزرنے کے باوجود، ملک کے نوے فی صد حصے پر اب بھی بشار اسد کی سربراہی میں شامی حکومت کی رٹ قائم ہے اور اندرون اور بیرون ملک دمشق حکومت  کی سیاسی پوزیشن پوری طرح مضبوط ہے۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcdfx0kfyt0zk6.432y.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس