تاریخ شائع کریں2021 23 April گھنٹہ 16:49
خبر کا کوڈ : 501102

کیا بچے امتحانات نہیں دینا چاہتے ؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتے، درخواست این سی او سی کو بھیج دیتے ہیں، عدالتوں کا کام نہیں کہ ملک کے پالیسی معاملات میں مداخلت کریں.
کیا بچے امتحانات نہیں دینا چاہتے ؟
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اے اور او لیول کے طلبا کی فزیکل امتحانات کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے محفوظ فیصلہ سنایا۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا کہ ان کی درخواست کیمرج کے خلاف نہیں، کیمرج نے دو آپشن دیئے، سعودی عرب، تھائی لینڈ، انڈیا نے فزیکل کی بجائے آن لائن امتحان کے آپشن کو اپنایا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتے، درخواست این سی او سی کو بھیج دیتے ہیں، عدالتوں کا کام نہیں کہ ملک کے پالیسی معاملات میں مداخلت کریں.

آج تک کورونا سے متعلق جتنے معاملات آئے ہم نے این سی او سی کے پالیسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کی، ویسے بھی حکومت پاکستان کیمرج کو کوئی ہدایت جاری نہیں کر سکتی، حکومت صرف ان امتحانات سے متعلق یہاں سہولت فراہم کرتی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کیا آپ چاہتے ہیں حکومت ان کو امتحان لینے سے روک دے ؟ آپ کی پٹیشن میں نو درخواست گزار ہیں، ہو سکتا ہے باقی ہزاروں فزیکل امتحان دینا چاہتے ہوں، نو پٹشنر ہزاروں طلبہ کے نمائندے تو نہیں ہو سکتے، کیا بچے امتحانات نہیں دینا چاہتے ؟ کیسے طلباء ہیں جو امتحان نہیں دینا چاہتے۔ عدالت نے درخواست مسترد کر دی۔
http://www.taghribnews.com/vdciuzawrt1auz2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس