تاریخ شائع کریں2021 22 April گھنٹہ 21:53
خبر کا کوڈ : 501049

عمران خان حکومت نے روزگار دشمنی میں انتہا کردی

نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لئے گھوم رہے ہیں اور انہیں نوکریاں نہیں مل رہیں۔پی ٹی آئی حکومت کے بعد ملک کی تقریبا ًآدھی ورکنگ کلاس کی یا تو تنخواہوں میں کمی ہوئی یا وہ نوکریوں سے محروم ہوگئے ہیں۔
عمران خان حکومت نے روزگار دشمنی میں انتہا کردی
 پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ملک میں بڑھتی بے روزگاری پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ ملکی تاریخ میں ایسا کوئی حکمران نہیں کہ جس نے روزگار دشمنی میں انتہا کردی ہو،وزارتیں بدلنے سے ملک کے مسائل حل نہیں ہوں گے، عمران خان کو گھر جانا ہوگا۔

جمعرات کو بلاول ہاﺅس سے جاری بیان میں بلاول بھٹوزرداری نے کہاکہ عمران خان نے کہا تھا کہ 2020نوکریوں کا سال ہوگا، 2021 آگیا مگر نوجوانوں کو نوکریاں نہیں ملیں،پی ٹی آئی کے منشور میں ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ ہے جس سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا گیا کہ ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لئے گھوم رہے ہیں اور انہیں نوکریاں نہیں مل رہیں۔پی ٹی آئی حکومت کے بعد ملک کی تقریبا ًآدھی ورکنگ کلاس کی یا تو تنخواہوں میں کمی ہوئی یا وہ نوکریوں سے محروم ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں بے روزگاری کی کم سے کم شرح 0.42 فیصد تھی جو ن لیگ نے 4.08 فیصد اور پی ٹی آئی نے 4.45 فیصد پر پہنچادی۔

پیپلزپارٹی نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں ملک بھر کے 60 لاکھ سے زائد نوجوانوں کو روزگار دیا۔بلاول بھٹو نے کہاکہ نوجوانوں کو روزگار دینے کی پاداش میں پیپلزپارٹی کو کرپشن کے جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا،بنگلہ دیش، ویتنام، گھانا اور میانمار تک میں بیروزگاری کی شرح پاکستان سے بہتر ہے۔

ایک کروڑ نوکریاں دینے کے بجائے عمران خان نے ریڈیو پاکستان، پی آئی اے، اسٹیل ملز اور اسپورٹس بورڈ سے ہزاروں ملازمین نکال دیئے۔انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاﺅن کے دوران بھی عمران خان نے عوام سے روزگار چھینا،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرکے عمران خان نے نوکری پیشہ افراد کی زندگی بھی اجیرن بنادی،اسلام آباد میں سرکاری ملازمین اپنے حق کے لئے احتجاج کرتے رہے، عمران خان کی سیاسی پولیس انہیں گرفتار کرتی رہی،بلوچستان میں سرکاری ملازمین کو اپنے حق کی آواز بلند کرنے پر نوکریوں سے نکالا گیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہاکہ سندھ میں نہ صرف سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوابلکہ انہیں لاک ڈاﺅن کی وجہ سے مراعات بھی ملیں۔بلاول نے کہاکہ خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی حکومت کے تین سال میں 18 ارب روپوں کی پبلک سیکٹر میں سرمایہ کاری سے 98 ہزار نوکریوں کے وعدے کو ایک سال بیت گیا۔

0پنجاب میں اکنامک زونز کے قیام سے تین لاکھ نوکریاں اور دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے 16 ہزار دینے کا پی ٹی آئی کا وعدہ بھی آج تک وفا نہ ہوا۔انہوں نے کہاکہ اعلان کے مطابق گرین نگہبان منصوبے کے تحت 65 ہزار نوکریاں ملیں اور نہ ایم ایل ون منصوبے کے تحت ایک لاکھ نوکریاں دی گئیں۔ساڑھے نو ارب روپوں کی لاگت سے پنجاب روزگار اسکیم لاﺅنچ کی گئی مگر لاہور اور ملتان کے نوجوان اب تک ڈگریاں ہاتھوں میں لئے گھوم رہے ہیں۔
http://www.taghribnews.com/vdci5zaw3t1auu2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس