تاریخ شائع کریں2021 22 April گھنٹہ 17:25
خبر کا کوڈ : 501014

امریکہ اور ترکی کے درمیان کئی معاملات تناؤ

‘اگر میں منتخب ہوا تو میں ایک ایسی قرارداد لانے کی حمایت کروں گا جو آرمینائی نسل کشی کا اعتراف کرے گی اور عالمی انسانی حقوق کو اپنی پہلی ترجیح بنائے گی۔‘
امریکہ اور ترکی کے درمیان کئی معاملات تناؤ
امریکی صدر جو بائیڈن پہلی عالمی جنگ کے دوران سلطنت عثمانیہ کے ہاتھوں آرمینیائی قوم کے ’قتل عام‘ کو باضابطہ طور پر نسل کشی تسلیم کر سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق بدھ کو ذرائع نے اس ممکنہ فیصلے کی تصدیق کی ہے۔ یہ اقدام نیٹو اتحادیوں، امریکہ اور ترکی کے درمیان پہلے سے موجود کمزور تعلقات میں مزید دراڑ لانے کے علاوہ ترکی کو غضب ناک بھی کر سکتا ہے۔

یہ اقدام گو کہ صرف علامتی ہو گا لیکن یہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے دہائیوں تک استعمال کی جانے والی اس محتاط زبان سے دوری ہو گا جو واشنگٹن اس بارے میں استعمال کرتا رہا ہے۔

 یاد رہے اس وقت امریکہ اور ترکی کے درمیان کئی معاملات کی بنیاد پر تناؤ پایا جاتا ہے۔

اس معاملے سے متعلق معلومات رکھنے والے تین افراد نے تصدیق کی ہے کہ صدر بائیڈن 24 اپریل کو دنیا بھر میں آرمینائی قتل عام کی سالانہ یاد منائے جانے کے موقعے پر ایک بیان میں ’نسل کشی‘ کا لفظ استعمال کریں گے۔

ان میں سے ایک فرد کے مطابق صدر بائیڈن ہفتے کو جاری ہونے والے بیان میں نسل کشی کا لفظ استعمال کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔

گو کہ ذرائع نے امکان ظاہر کیا ہے کہ ترکی کے ساتھ باہمی تعلقات کی وجہ سے عین ممکن ہے کہ صدر آخری لمحات میں یہ لفظ استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کر لیں۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وائٹ ہاؤس ہفتے کو اس بارے میں مزید کہے گا لیکن انہوں نے اس بات کی وضاحت کرنے سے انکار کر دیا۔

ایک سال قبل صدارتی امیدوار کے طور پر صدر بائیڈن نے سلطنت عثمانیہ کے آخری برسوں میں مرنے والے ان 15 لاکھ آرمینیائی مردوں، خواتین اور بچوں کو یاد کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ ’آج ہم ان مظالم کو یاد کرتے ہیں جن کا سامنا آرمینیائی نسل افراد کو آرمینیائی نسل کشی کے دوران کرنا پڑا تھا۔

‘اگر میں منتخب ہوا تو میں ایک ایسی قرارداد لانے کی حمایت کروں گا جو آرمینائی نسل کشی کا اعتراف کرے گی اور عالمی انسانی حقوق کو اپنی پہلی ترجیح بنائے گی۔‘

ترکی اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ کئی آرمینیائی نسل افراد پہلی عالمی جنگ کے دوران عثمانی افواج سے جھڑپوں میں ہلاک ہوئے تھے لیکن وہ اس حوالے سے اعداد و شمار اور اس کو منظم نسل کشی تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہے۔

دہائیوں تک امریکی صدور اور امریکی کانگریس نسل کشی کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کرتے رہے ہیں جس کی وجہ ترکی کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اور انقرہ سے جڑے امریکی مفادات ہیں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان کے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے قریبی تعلقات تھے لیکن 20 جنوری کو صدر کا حلف اٹھانے کے بعد سے اب تک ان کی جو بائیڈن سے گفتگو نہیں ہوئی۔

گو کہ امریکی حکام اور ترک عہدے داروں کے درمیان بات چیت ہوتی رہی ہے لیکن بائیڈن انتظامیہ نے انسانی حقوق کے ٹریک ریکارڈ کی بنیاد پر ترکی پر ڈالے جانے والے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ شام کے معاملے اور روسی دفاعی نظام اور اسلحے کی خرید کے حوالے سے بھی ترکی اور امریکہ کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ میلوت چاؤش اوغلو کا منگل کو کہنا تھا کہ صدر بائیڈن کی جانب سے اس قتل عام کو نسل کشی تسلیم کرنے کا فیصلہ دونوں نیٹو اتحادیوں کے درمیان تعلقات کو مزید نقصان پہنچائے گا۔

یورشیا گروپ کے بانی آئن بریمر کے مطابق ’صدر بائیڈن کا یہ ممکنہ اقدام نیٹو اتحادیوں کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلقات کی نشاندہی کرے گا لیکن اس بارے میں ترک صدر اردوغان کا ردعمل بہت محدود ہو گا۔ وہ کسی ردعمل کے ساتھ امریکہ کو اشتعال دلانے سے باز رہیں گے جس کی وجہ ترکی کی کمزور معیشت ہے۔’

2019 میں امریکی سینیٹ نے ایک قرار داد کے ذریعے آرمینیائی قتل عام کو نسل کشی تسلیم کیا تھا جس پر ترکی نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔

امریکی ایوان نمائندگان کے رکن ایڈم شف نے رواں ہفتے 100 قانون سازوں کے ساتھ لکھے گئے ایک خط میں صدر بائیڈن سے اپنی انتخابی مہم کا وعدہ پورا کرنے اور ’دہائیوں کی غلطی کو سدھارنے’ پر زور دیا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdca66nmy49nww1.zlk4.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس