تاریخ شائع کریں2021 21 April گھنٹہ 21:33
خبر کا کوڈ : 500937

حکومت پاکستان و کالعدم تحریک لبیک معاہدہ

تحریک لبیک ملک بھر بالخصوص مسجد رحمتہ اللعالمین سے دھرنے ختم کرنے پر رضامند ہوگئی ہے اور بات چیت کا سلسلہ مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کارکنان کے خلاف درج کیے گئے تمام مقدمات بشمول فورتھ شیڈول کے واپس لیے جائیں گے۔
حکومت پاکستان و کالعدم تحریک لبیک  معاہدہ
بشکریہ: شفقنا اردو

قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر منعقدہ اجلاس کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن پارلیمنٹ امجد علی خان نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے خلاف قرار داد پیش کردی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہوا، جس میں قرار داد کا متن پڑھ کر سناتے ہوئے امجد علی خان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی صدر نے آزادی اظہار رائے کا سہارا لے کر ایسے افراد کی حوصلہ کی، جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے پر بحث کی جائے، تمام یورپی ممالک کو اس معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے، تمام مسلمان ممالک کو شامل کرتے ہوئے اس مسئلے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائے۔  ان کا کہنا تھا کہ ‘ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی معاملات کے حوالے سے فیصلہ ریاست کو کرنا چاہیے کوئی گروہ اس حوالے سے دباؤ نہیں ڈال سکتا’۔ انہوں نے اس معاملے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ تحریک لبیک ملک بھر بالخصوص مسجد رحمتہ اللعالمین سے دھرنے ختم کرنے پر رضامند ہوگئی ہے اور بات چیت کا سلسلہ مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ٹی ایل پی کارکنان کے خلاف درج کیے گئے تمام مقدمات بشمول فورتھ شیڈول کے واپس لیے جائیں گے اور اس حوالے سے مزید تفصیلات آج پریس کانفرنس کر کے جاری کی جائیں گی۔ یہ اعلان وزیر مذہبی امور اور وزیر داخلہ شیخ رشید پر مشتمل حکومتی ٹیم کے ٹی ایل پی رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد کیا گیا۔پر ایک اسپیشل کمیٹی کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس کے لیے میری خصوصی درخواست ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب مذاکرات ہی کرنے تھے تو اس قدر تشدد کی کیوں ضرورت پیش آئی؟ جب فرانسیسی سفیر کے لیے قرارداد ہی لانی تو تو سعد رضوی کی گرفتاری چہ معنی دارد؟ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی جمہوری حکومت میں ایسی نوبت ہی کیوں آئے کہ کسی شہری، تنظیم یا جماعت کو اپنے حق کے لیے سڑکوں پر آ کر احتجاج کرنا پڑے۔ مگر ایسا ہوتا ہے، پوری دنیا میں احتجاج ہوتے ہیں، ہمارے ہاں بھی کوئی سیاسی اور مذہبی جماعت ایسی نہیں جس نے احتجاجی سیاست نہ کی ہو بلکہ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں کسی نہ کسی موقع پر کہیں نہ کہیں جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ میں بھی ملوث رہی ہیں تاہم سب سے اہم کام حکومت کا ہوتا ہے کہ وہ احتجاج کی نوبت ہی نہ آنے دے اور پھر حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ احتجاج سے کس طرح نمٹا جائے۔ احتجاج کو پر تشدد ہونے سے کیسے روکا جائے، پر تشدد صورتحال کو کس طرح کنٹرول کیا جائے۔ عوام کے جذبات کو کس طرح نارمل رکھا جائے۔

ہر حکومت کی حکمت عملی تدبر اور پلاننگ پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ کس طرح حالات کو اپنے قابو میں رکھتی ہے جس میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت شروع سے ہی ناکام رہی اور حالات تشدد کی طرف چلے گئے، دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہم فرانس کو سبق سکھانے کے لیے ایک دوسرے کو سبق سکھاتے رہے، ہم فرانس کو معاشی نقصان پہنچانے کے لیے اپنے رکشے جلاتے رہے، ہم فرانس کا ناطقہ بند کرنے کے اپنے راستے بند کرتے رہے، ہم تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آنے والے آقا حضور ﷺ کی ناموس حفاظت کا نام لے کر لوگوں کے لیے زحمت بنتے رہے، لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کرتے رہیں۔دوسری طرف حکومت نے فیض آباد دھرنے کے دوران کیے گئے معاہدے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، یقیناً اتنا طویل وقفہ ملنے کے دوران حکومت اس کو پارلیمنٹ میں لاکر تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کوئی حکمت عملی طے کر سکتی تھی یا تحریک لبیک کی قیادت سے مذاکرات کر کے مسائل کے حل کے لیے کوئی پیش رفت کی جا سکتی تھی مگر دونوں کو اپنی طاقت کا زعم تھا دونوں نے ایک دوسرے کی طاقت کا غلط اندازہ لگایا جس کا نتیجہ تصادم کی صورت میں نکلا، کئی لوگ زخمی اور کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں ۔

سعد رضوی کو گرفتار کرنے کی سب سے بڑی دلیل یہ دی گئی تھی کہ ایک طرف تحریک لبیک حکومت کے ساتھ مذاکرات کررہی تھی اور دوسری طرف 20 اپریل سے دھرنا دینے کی تیاری بھی کی جارہی تھی اسی لئے سعد رضوی کو گرفتار کرکے اس منصوبہ کو ناکام بنایا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نےقوم سے خطاب کرتے ہوئے اسی دلیل کو دہرانا ضروری سمجھا۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ ایک طرف ہم سے بات چیت ہو رہی تھی اور دوسری طرف یہ لوگ احتجاج کی تیاری بھی کررہے تھے۔ ’ یہ نچلی سطح پر متحرک تھے اور اسلام آباد آنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ انہوں نے مذاکرات کے دوران ہی فیصلہ کر لیا کہ اگر آپ نے فرانس کے سفیر کو نہ نکالا تو ہم سارے اسلام آباد میں دھرنا دیں گے۔ اس کے بعد یہ گرفتار ہوئے‘۔ تاہم شیخ رشید کے رعونت بھرے پیغامات اور وزیر اعظم کا متکبرانہ طرز تکلم اب انہیں ایک بار پھر تحریک لبیک کی قیادت تک لے آیا ہے جہاں وہ صرف فرانس کے سفیر کی واپسی کے معاملہ پر سعد رضوی اور ان کے ساتھیوں سے ’رعایت‘ طلب کررہے ہیں۔

 وزیر اعظم نے ٹیلی ویژن خطاب میں پوری قوم کو گواہ بنا کر اعلان کیا ہے کہ تحریک لبیک اور حکومت کا مقصد ایک ہی ہے۔ ’تحریک لبیک پاکستان کے لوگ جس مقصد کے تحت لوگوں کو گھروں سے نکال رہے ہیں، میں یقین دلاتا ہوں کہ وہی میرا اور میری حکومت کا مقصد بھی ہے۔ ہم بھی ان کی طرح یہی چاہتے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی نہ ہو۔ صرف ہمارا طریقہ کار مختلف ہے‘۔کالعدم تنظیم سے وزیر اعظم کے اس اظہار یک جہتی کے بعد قیاس کیا جاسکتا ہے کہ حکومت صرف فرانس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے تحریک لبیک سے سہولت لینا چاہتی ہے۔ عمران خان کا قوم سے خطاب بنیادی طور سے دو ہی نکات پر مشتمل تھا۔ ایک یہ کہ تحریک لبیک کا مقصد انہیں بھی دل و جان سے عزیز ہے اور دوسرے یہ کہ کسی یورپی سفیر کو ملک سے نکالنے کا مقصد پورے یورپ سے تعلقات خراب کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب عمران خان کا اور تحریک لبیک کا مقصد ایک ہے تو یہ سب تشدد ، ہنگامے اور جلاؤ گھیراؤ، گولیاں کس لیے تھیں؟ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت سو جوتے اور سو پیاز کھانے کی عادی ہوچکی ہے۔


http://www.taghribnews.com/vdcdsz0k5yt0zn6.432y.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس