تاریخ شائع کریں2021 19 April گھنٹہ 21:01
خبر کا کوڈ : 500644

بغداد میں امریکی فضائی اڈے پر راکٹوں سے پھر حملہ

بغداد ایئر بیس کے کمانڈر میجر جنرل دیعا محسن نے عراق کی سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اس حملے میں زخمی ہونے والے سکیورٹی فورسز میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حملے سے فضائی اڈے کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا ہے۔
بغداد میں امریکی فضائی اڈے پر راکٹوں سے پھر حملہ
 بغداد میں اس فضائی اڈے پر راکٹوں سے پھر حملہ کیا گیا ہے جہاں امریکی فوجی مقیم ہیں۔ اس میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

عراق میں فوج سے متعلق میڈیا سینٹر کا کہنا ہے کہ جس فضائی اڈے پر امریکی فوجی مقیم ہیں اس کو 18 اپریل اتوار کے روز متعدد راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا جس میں دو بیرونی کانٹریکٹر اور تین عراقی فوجی زخمی ہو گئے۔

عراق میں سکیورٹی کے ذرائع نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ شمالی بغداد کی بلاد ایئر بیس پر پانچ راکٹ گرے جس میں دو فوجی اڈے کے رہائشی علاقے میں گرے جبکہ ایک راکٹ امریکی کمپنی ‘سیلی پورٹ’ کی کینٹین میں گرا۔ اس ذرائع کے مطابق اس حملے میں دو بیرونی کانٹریکٹر اور تین عراقی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

بغداد ایئر بیس کے کمانڈر میجر جنرل دیعا محسن نے عراق کی سرکاری نیوز ایجنسی کو بتایا کہ اس حملے میں زخمی ہونے والے سکیورٹی فورسز میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حملے سے فضائی اڈے کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا ہے۔

ابھی تک اس حملے کی ذمہ دار بھی کسی گروپ نے تسلیم نہیں کی ہے۔
امریکی ٹھکانوں پر حملوں میں اضافہ

عراق کے اس فضائی اڈے پر امریکی ساخت کے ایف 16 جنگی طیارے تعینات ہیں جبکہ اس کے علاوہ مرمت کا کامکرنے والی متعدد دیگر کمپنیاں بھی وہاں موجود ہیں جن کے بڑی تعداد میں عراقی اور بیرونی ملازم بھی وہیں رہتے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں بغداد کے محفوظ ترین علاقے ‘گرین زون’ کو متعدد بار پر ایسے حملوں سے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اسی علاقے میں امریکی سفارت خانہ اور امریکی فوجی بھی رہتے ہیں۔ عموماً ان حملوں کے لیے ایران کے حمایت یافتہ گروپوں پر الزام عائد کیا جا تا رہا ہے۔

گزشتہ جنوری میں جب سے امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی انتظامیہ کی کمان سنبھالی ہے اس وقت سے اب تک امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والی عسکری بیس سمیت امریکی تنصیبات پر بم یا راکٹ سے تقریباً بیس حملے کیے جا چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں بھی 2019 میں اسی طرح کے درجنوں حملے ہوئے تھے۔

عراق میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ بہت سے ایسے گروپ عراق سے امریکی فوجیوں کا اسی طرز پر انخلا کا مطالبہ کرتے رہے ہیں جیسا کا امریکا نے افغانستان میں اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے یا تو امریکا،عراق کو چھوڑ دے یا پھر ایسے حملوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہے۔

اتحادی افواج کو رسد پہنچانے والے قافلوں پر بھی جنوبی عراق میں ایسے حملوں کا تقریبا ًہر روز سامنا کرنا پڑتا ہے۔ امریکا نے گزشتہ ہفتے عراق سے بھی فوجی انخلا کی بات کہی تھی تاہم اس نے اس سلسلے میں ابھی کوئی وقت مقرر نہیں کیا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdci5uaw5t1auq2.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس