تاریخ شائع کریں2021 19 April گھنٹہ 17:21
خبر کا کوڈ : 500625

کالعدم ٹی ایل پی چاہتی ہے ملک میں مظاہرے ہوں

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پچھلے ہفتے ایک جماعت نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ انہیں شاید دوسروں مسلمانوں سے زیادہ پیار ہے لیکن میں آپ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جو مقصد ان کا ہے وہی میرا اور میری حکومت کا مقصد ہے۔
کالعدم ٹی ایل پی چاہتی ہے ملک میں مظاہرے ہوں
وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان اور ہمارا مقصد ایک ہی ہے صرف طریقہ کار میں فرق ہے۔وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر قوم سے خطاب کرنے کا فیصلہ کیا، یہ واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا ہے، ہمارے نبی(ص) لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں اس لیے دنیا میں کہیں بھی ان کی شان میں گستاگی ہوتی ہے تو ہمیں تکلیف ہوتی ہے اور صرف ہمیں نہیں بلکہ دنیا بھر میں مقیم مسلمانوں کو ہوتی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پچھلے ہفتے ایک جماعت نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ انہیں شاید دوسروں مسلمانوں سے زیادہ پیار ہے لیکن میں آپ لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ جو مقصد ان کا ہے وہی میرا اور میری حکومت کا مقصد ہے، ہم بھی چاہتے ہیں دنیا کے کسی ملک میں نبی(ص)کے شان میں گستاخی نہ ہو۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صرف ہمارے اور ان کے طریقہ کار میں فرق  ہے، ہم جب سے حکومت میں آئے ہیں ہم تب سے کوشش کررہے ہیں کہ ہمارے نبی (ص) کی شان میں گستاخی نہ ہو، تحریک لیبک پاکستان یہ کہہ رہی ہے کہ فرانس سے تعلقات ختم کرکے ان کے سفیر کو واپس بھیجا جائے، لیکن سفیر کو واپس بھیجنے سے فرانس کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، کیا گارنٹی ہے کہ سفیر کو واپس بھیجنے سے دوبارہ گستاخی نہیں ہوگی، بلکہ کوئی دوسرا یورپی ملک اس معاملے کو آزادی اظہار کا معاملہ بناکر ایسا ہی کرے گا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا فرانس سے تعلقات توڑنے کا نقصان فرانس کو نہیں بلکہ ہمیں ہوگا، بڑی مشکل سے ہماری معیشت اوپر جانے لگی ہے، روپیہ مستحکم ہورہا ہے، چیزیں سستی ہورہی ہیں، اگر فرانس سے تعلق توڑا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم یورپی یونین سے تعلق تورڑیں گے اور ایسا کرنے سے پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو نقصان پہنچے گا کیوں کہ پاکستان کی بیشتر ٹیکسٹائل ایکسپورٹ یورپی ممالک میں ہوتی ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہماری تحریک لیبک پاکستان کے ساتھ کافی عرصے سے اس معاملے پر بات چیت چل رہی تھی لیکن ان کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا، ہم نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسا کرنے سے نقصان ہمارا ہی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر آئیں، ہم معاملہ پارلیمنٹ میں لانے کی تیاری کررہے تھے لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ نچلی سطح پر یہ لوگ اسلام آباد آنے کی تیاری کررہے ہیں، اس کے بعد ان سے مذاکرات کا سلسلہ ٹوٹا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 50 مسلم ممالک میں کوئی بھی مظاہرے نہیں کررہا لیکن کالعدم ٹی ایل پی چاہتی ہے ملک میں مظاہرے ہوں، ان لوگوں نے پولیس کی 40 گاڑیوں کو جلا دیا،4 پولیس اہلکار شہید، 800 سے زائد زخمی ہوئے، احتجاج سے 100سڑکیں بلاک ہوئیں، عوام کا نقصان ہوا، آکسیجن سلنڈر نہ ملنے سے اسپتالوں میں اموات ہوئیں۔
http://www.taghribnews.com/vdchivnmm23nv-d.4lt2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس