تاریخ شائع کریں2021 18 April گھنٹہ 22:40
خبر کا کوڈ : 500511

ایک دفعہ کپتان بدل کے دیکھ لیں؟

وزارتوں میں ردوبدل کا حالیہ فیصلہ اس حوالے سے قابلِ غور ہے کہ شخصیات کی پیشہ ورانہ مہارت‘ فکری رجحان یا عمومی تجربے کو مدِ نظر رکھے بغیر ادل بدل کیا گیا ہے۔ حماد اظہر صاحب اپنی دو تین ہفتے کی وزارت خزانہ سے قبل وزارت صنعت و ۔۔۔۔۔پیداوار میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے‘۔
ایک دفعہ کپتان بدل کے دیکھ لیں؟
بشکریہ:شفقنا اردو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت میں ایک مرتبہ پھر وزرا کے قلمدانوں میں تبدیلی کردی گئی اور تقریباً پونے 3 سال کے عرصے میں چوتھا وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ شوکت فیاض احمد ترین کو وفاقی وزیر برائے وزارتِ خزانہ و ریوینو کی ذمہ داری دی گئی ہے جبکہ فواد چوہدری کو دوبارہ وزارت اطلاعات و نشریات کا قلمدان دینے کی بھی تصدیق کردی گئی۔ حالیہ ردو بدل کے نتیجے میں حماد اظہر کو وزارت توانائی کا قلمدان سونپ دیا گیا ہے۔ حماد اظہر سے وزارت خزانہ کے علاوہ وزیر صنعت و پیداوار کا قلمدان بھی واپس لے کر خسرو بختیار کو وزیر صنعت و پیداوار بنادیا گیا ہے جبکہ سینیٹر شبلی فراز اب سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت سنبھالیں گے۔ علاوہ ازیں سابق وزیر توانائی عمر ایوب کو وزیر اقتصادی امور مقرر کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی دورِ حکومت میں اس سے قبل اسد عمر، حفیظ شیخ اور حماد اظہر وزیر خزانہ کا منصب سنبھال چکے ہیں، ان میں سب سے مختصر عرصے کے لیے یہ ذمہ داری حماد اظہر کے حصے میں آئی، جنہیں 29 مارچ کو ہی وزیر خزانہ مقرر کیا گیا تھا۔

 کابینہ میں ردوبدل کے اس فیصلے سے یوں لگ رہا ہے کہ ایک ہی تجربے کو دہرا کر حکومت پہلے سے مختلف نتیجہ چاہتی ہے۔ شخصیات وہی ہیں مگر قلم دان بدل دیے گئے ہیں۔ ایسے میں آدمی سوچنے پر مجبور ہے کہ ایک شخص جو سال بھر یا اس سے زائد وقت تک ایک وزارت میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے باوجود متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکا تو کیا امکان ہے کہ اُس کی وزارت بدلنے سے نتائج پہلے سے مختلف ہوں گے؟ یہ بھی اہم ہے کہ ایک وفاقی وزیر جو اپنے قلم دان کی ذمہ داریوں اور وزارت کے اسرارورموز کو سمجھنے میں سال برابر وقت صرف کرتا اور اس شعبے کی کسی قدر استعداد حاصل کر لیتا ہے تو اسے کوئی اور محکمہ سونپ دیا جاتا ہے۔ وزارتوں میں ردوبدل کا حالیہ فیصلہ اس حوالے سے قابلِ غور ہے کہ شخصیات کی پیشہ ورانہ مہارت‘ فکری رجحان یا عمومی تجربے کو مدِ نظر رکھے بغیر ادل بدل کیا گیا ہے۔ حماد اظہر صاحب اپنی دو تین ہفتے کی وزارت خزانہ سے قبل وزارت صنعت و ۔۔۔۔۔پیداوار میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے تھے‘۔

جس کا ثبوت رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں لارج سکیل مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 7.9 فیصد گروتھ کی صورت میں موجود ہے‘ لیکن انہیں توانائی کے بالکل نئے مدار میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ عمر ایوب جو توانائی کے شعبے میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کر رہے تھے‘ اب اقتصادی امور کے بالکل مختلف شعبے میں تجربے کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں ان کی مہارت کسی کام نہ آئی‘ گردشی قرضہ بدستور بڑھتا چلا گیا اور محترم وزیر توانائی کے شعبے کی حقیقی بہتری کیلئے کچھ نہ کر سکے تو اب اقتصادی امور کے شعبے میں ان سے کس بہتر کارکردگی کی توقع کی جانی چاہیے۔ کیا یہاں ایک ہی تجربے کو دہرانے سے نتائج میں کسی تبدیلی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے؟ اسی طرح خسرو بختیار جو اقتصادی امور کے شعبے میں کچھ نہ کر سکے‘ اب صنعت و پیداوار کے شعبے میں ان سے کیا امید کی جانی چاہیے؟ محترم شبلی فراز جنہیں گزشتہ برس اسی ماہ اطلاعات کی وزارت دی گئی اور سال بھر وہ حکومت کی ترجمانی میں اپنی سی کوشش کرتے رہے کیا سائنس اور ٹیکنالوجی کا شعبہ ان کی صلاحیتوں کے موافق ہے؟
وزیراعظم عمران خان نے اڑھائی برس کی مختصر مدت میں چھٹی بار کابینہ میں تبدیلی کرتے ہوئے شوکت ترین کو وزیر خزانہ مقرر کیا ہے۔ یہ عہدہ صرف سترہ روز پہلے حماد اظہر کو اس امید کے ساتھ دیا گیا تھا کہ وہ ’مہنگائی پر قابو پانے کے لئے وزیر اعظم کے ایجنڈے کو پورا کریں گے‘ ۔ حیرت ہے کہ وہ کون معجزہ نما ہے جو دو ہفتے کی مختصر مدت میں پاکستان جیسی  معیشت میں قیمتوں کو ایسی سطح پر لا سکتا ہے جس سے عمران خان بھی راضی ہوجائیں اور عوام بھی ان کی توصیف میں رطب اللسان ہوں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی وہ یہ منصب سنبھال چکے ہیں مگر بدقسمتی سے وہ اس وقت معیشت کو نہ سنبھال سکے جس کے بعد انہیں اس عہدے سے استعفی دینا پڑا تھا۔ پیپلزپارٹی کے دور میں جس وقت شوکت ترین صاحب اس منصب پر فائز ہوئے تھے اس وقت معیشت اس سے کہیں زیادہ اچھے حالوں میں تھی ۔ اس وقت تو معیشت کی حالت اس عمارت جیسی ہے جس کو مختلف انجینیرز نے اپنے اپنے تجربات کی بھینٹ چڑھایا ہو۔ کیا شوکت ترین اس قابل ہیں کہ وہ بدنما عمارت کو خوبصورت شکل فراہم کرسکیں؟

خیر شوکت ترین سے ہٹ کر بھی اگر بات کی جائے قحط الرجالی کا یہ عالم ہے کہ حکومت کو ان ذمہ داریوں کیلئے اپنی صفوں میں موزوں شخصیات دستیاب ہی نہیں۔ وزارتوں میں ردوبدل حکومت کا اختیار ہے مگر اس اختیار کا استعمال اسی طرح روا ہے کہ پیشہ ورانہ مہارت‘ علم و تجربہ کے حامل افراد کو ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ سائنس‘ توانائی‘ صنعت و پیداوار‘ اقتصادی امور اور وزارت خزانہ ہی نہیں حکومت کے جملہ شعبوں کی ذمہ داری اگر اہل لوگوں کے ہاتھ میں ہو تو اسی سے تبدیلی ظاہر ہو سکتی ہے۔ عمران خان سب کے لئے یکساں قانون کی بات کرتے رہتے ہیں۔ امید کرنی چاہیے کہ وہ خود کو بھی قانون کے سامنے اسی طرح جواب دہ سمجھتے ہوں گے جیسے وہ دوسروں کو گردانتے ہیں۔ کابینہ میں بار بار تبدیلیوں کے دوران یہی دیکھا گیا ہے کہ چہرے وہی ہیں لیکن وزارتیں تبدیل کردی جاتی ہیں۔ مثلاً شبلی فراز کہاں کے سائنسدان ہیں کہ وہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں کوئی معرکہ سرانجام دے لیں گے۔ اتنے وزیر اور قلمدان تبدیل کرنے پر بھی عمران خان کی حکومت کارکردگی دکھانے میں بدستور ناکام ہے۔ سب کے ساتھ مساوی سلوک کے اصول کے تحت انہیں ایک بار وزارت عظمی کسی دوسرے کے حوالے کر کے دیکھ لینا چاہیے۔ ممکن ہے کہ جس منصب پر وہ تشریف فرما ہیں اس منصب کو ان کی کابینہ میں مومود کوئی شخص زیادہ بہتر طور پر چلا لے۔
http://www.taghribnews.com/vdcb8gbs8rhbgsp.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس