تاریخ شائع کریں2021 18 April گھنٹہ 17:03
خبر کا کوڈ : 500473

قرآن کتاب ہدایت از زبان ولی امر مسلمین

خداوند متعال نے ماہ مبارک رمضان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے کئی چیزوں کی جانب اشارہ کیا ہے جن میں سے ایک اس مبارک مہینے میں قرآن کریم کا نازل ہونا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت 185 میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے: "شَهرُ رَمَضانَ الَّذی اُنزِلَ فیهِ القُرءان ۔۔۔" (رمضان ایسا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا)۔ یہ شاید ماہ مبارک رمضان کا اہم ترین طرہ امتیاز ہے۔
قرآن کتاب ہدایت از زبان ولی امر مسلمین
تحریر: مصطفی ہادی
بشکریہ: اسلام ٹائمز

 
بدھ 14 اپریل کے دن ولی امر مسلمین امام خامنہ ای مدظلہ العالی نے تہران میں قرآن کریم سے متعلقہ سرگرمیاں انجام دینے والے افراد سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے بعض اہم نکات کی جانب اشارہ کیا ہے۔ تحریر حاضر میں چند چیدہ چیدہ نکات قارئین کی خدمت میں پیش کئے جا رہے ہیں۔

1)۔ مختلف قرآنی موضوعات میں ہدایت پر مبنی موضوع کی اہمیت اور مقام

خداوند متعال نے ماہ مبارک رمضان کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے کئی چیزوں کی جانب اشارہ کیا ہے جن میں سے ایک اس مبارک مہینے میں قرآن کریم کا نازل ہونا ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت 185 میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے: "شَهرُ رَمَضانَ الَّذی اُنزِلَ فیهِ القُرءان ۔۔۔" (رمضان ایسا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا)۔ یہ شاید ماہ مبارک رمضان کا اہم ترین طرہ امتیاز ہے۔
 
دوسری طرف قرآن کریم کی بھی ہزاروں فضیلتیں پائی جاتی ہیں جن میں سے اکثر ایسی ہیں جنہیں ہماری عقل درک کرنے سے قاصر ہے۔ لیکن خداوند متعال نے ان تمام خصوصیات میں سے "ہدایت عطا کرنے" کی خصوصیت بیان کی ہے۔ سورہ بقرہ کی اسی آیت میں ارشاد ہوتا ہے: "۔۔۔۔ هُدًی لِلنّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِنَ الهُدیٰ وَ الفُرقان" (انسانوں کیلئے ہدایت اور ہدایت کی واضح دلیلوں کا حامل اور حق اور باطل کے درمیان فرق ظاہر کرنے والا ہے)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ خصوصیات بہت زیادہ اہمیت اور اعلی مقام رکھتی ہے۔ خود قرآن کریم کا آغاز بھی ہدایت سے ہوتا ہے جیسا کہ سورہ حمد میں پڑھتے ہیں: "اِهدِنَا الصِّراطَ المُستَقیم" (خدایا ہمیں سیدھے راستے کی جانب ہدایت فرما)۔ اسی طرح سورہ بقرہ کے آغاز میں فرمایا: "ذٰلِکَ الکِتٰبُ لارَیبَ فیهِ هُدًی لِلمُتَّقین" (یہ ایسی کتاب ہے جس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور متقین کیلئے ہدایت ہے)۔
 
2)۔ قرآن کریم کی ہدایت کا دائرہ انسانی زندگی کے تمام پہلووں پر حاوی

قرآن کریم کی ہدایت انسانوں کے ایک خاص گروہ کیلئے مخصوص نہیں ہے بلکہ پوری عالم بشریت کیلئے ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی ہدایت انسانی زندگی کے ایک یا چند مخصوص پہلووں تک بھی محدود نہیں ہے۔ قرآن کریم انسان کی زندگی کے تمام پہلووں کیلئے ہدایت فراہم کرتا ہے۔ قرآن کریم نے انسانی زندگی کے کسی پہلو سے چشم پوشی نہیں کی۔ انسان کی روحانی ترقی سے لے کر انسانی معاشروں کی ضروریات، ان کی مدیریت، ان میں عدل و انصاف کے قیام اور انسان کے ظاہری اور باطنی دشمنوں سے مقابلے کیلئے جہاد پر تاکید کرنے، اخلاق، گھرانے کے امور، اولاد کی تربیت وغیرہ جیسے تمام موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
 
3)۔ قرآنی تعلیمات کو سمجھنے کیلئے تدبر کی ضرورت

قرآن کریم کا انداز عام انسانی کتب کی مانند نہیں کہ ایک فہرست پائی جاتی ہو اور مختلف ابواب پر مشتمل ہو۔ خداوند متعال نے قرآن کریم میں بعض جگہ ایک لفظ یا ایک اشارے کے ذریعے انسان کیلئے معرفت کے سمندر بیان کر ڈالے ہیں۔ لہذا اگر ہم قرآن کریم میں تفکر کریں، تدبر کریں اور اس کے مختلف پہلووں کا بغور جائزہ لیں تو بعض اوقات ایک لفظ سے وسیع مطالب حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح قرآن کریم میں جو مختلف واقعات کہانیوں کی صورت میں بیان ہوئے ہیں جن میں سے بعض انبیاء الہی کے بارے میں ہیں جبکہ بعض عام افراد کے بارے میں ہیں۔ ان تمام واقعات میں انسان کی ہدایت کا سامان موجود ہے۔ ان واقعات کے ذریعے ایسے مطالب بیان کئے گئے ہیں جو کلی ہیں اور ہر زمانے میں لاگو ہوتے ہیں۔
 
مثال کے طور پر سورہ آل عمران کی آیت 173 میں ارشاد ہوتا ہے: "الَّذینَ قالَ لَهُمُ النّاسُ اِنَّ النّاسَ قَد جَمَعوا لَکُم فَاخشَوهُم فَزادَهُم ایمانًا وَ قالوا حَسبُنَا اللهُ وَ نِعمَ الوَکیل" (وہ افراد جنہیں لوگوں نے کہا کہ لوگ تم سے جنگ کرنے کیلئے اکٹھے ہو چکے ہیں لہذا ان سے ڈریں، لیکن ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ بہترین حمایت کرنے والا ہے)۔ یہ جنگ احد کے بعد کا واقعہ ہے۔ جب مسلمانوں کا لشکر ظاہری شکست کے بعد بہت زیادہ زخمیوں کے ہمراہ واپس آ رہا تھا۔ کچھ منافقین نے انہیں ڈرانے کی کوشش کی۔ رسول خدا ص نے صرف زخمیوں کو اپنے ساتھ لیا اور جا کر انہیں شکست دے دی۔ اس واقعہ سے حاصل ہونے والا سبق آج بھی ہمارے لئے مفید ہے۔ ہر زمانے کیلئے ہے۔
 
4)۔ تقوی، قرآن سے ہدایت حاصل کرنے کی لازمی شرط

اگرچہ قرآن کریم تک ہم سب کو رسائی حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم قرآن کریم سے بہرہ مند ہوتے ہیں؟ یا اس سے بہرہ مند ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم نے تمام انسانوں کیلئے ہدایت پیش کی ہے لیکن ہم کس صورت میں اس ہدایت سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں؟ قرآن کریم میں ارشاد خداوندی ہے: "هُدًی لِلمُتَّقین" (متقین کیلئے ہدایت ہے) ایک اور جگہ فرمایا: "هُدًی وَ رَحمَةً لِقَومٍ یُؤمِنون" (اہل ایمان کیلئے ہدایت اور رحمت ہے، سورہ اعراف)۔ ان آیات میں ہدایات کے مختلف درجات اور مراتب کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔ جب تقوی پایا جائے گا تو یہ ہدایت بھی ہمیں نصیب ہوتی رہے گی۔
http://www.taghribnews.com/vdciyuawpt1au52.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس