تاریخ شائع کریں2021 15 April گھنٹہ 22:56
خبر کا کوڈ : 500122

پاکستان مشرق وسطٰی کھوئی ہوئی قربت کی واپسی

مشرق وسطائی ریاستوں کو کس چیز نے پاکستان کے ساتھ دوبارہ تعلقات کی بحالی پر مجبور کیا ،  مشرق وسطی کے خطے اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور سیکورٹی کی صورتحال کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
پاکستان مشرق وسطٰی کھوئی ہوئی قربت کی واپسی
بشکریہ: شفقنا اردو

یمن جنگ میں غیر جانبدار رہنے کے فیصلے کے بعد پاکستان اور اس کے طویل المدتی عرب حلیفوں کے تعلقات میں بال آگیا۔ خلیج وسطی ایک طویل عرصے سے پاکستانی حکومت اور اس کے عوام کے لئے مالیات اور اقتصادیات کا ایک بڑا ذریعہ رہا ہے۔ گہری مذہبی وابستگی کی بنا پر پاکستان نے سعودی عرب کے مقامات مقدسہ، حساس تنصیبات اور اہم انفرا سٹرکچر کو سیکورٹی فراہم کرنے میں ہمیشہ مدد دی۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں خطی ق جغرافیائی مسائل نے پاکستان کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے توازن کی پالیسی اختیار کرے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے مابین حالیہ ٹیلی فونک رابط منقطع تعلقات کی بحالی میں پہلا قدم ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان اور اس کے عرب حلیفوں کے مابین بہت ساری بدگمانیوں اور غلط فہمیوں نے جنم لیا ہے اور اگر دونوں اطراف اچھے  تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہیں تو انہیں ان بدگمانیوں اور غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا۔ حالیہ جیوسٹریٹیجک حالات نے ایک مرتبہ پھر پرانے حلیفوں کو ایک صف میں لا کھڑا کیا ہے۔ اگرچہ ان تعلقات کی بحالی میں بعض چیلنجز بھی درپیش ہیں تاہم ایسے مواقع بھی موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے کہ مشرق وسطائی ریاستوں کو کس چیز نے پاکستان کے ساتھ دوبارہ تعلقات کی بحالی پر مجبور کیا ،  مشرق وسطی کے خطے اور دنیا کے بدلتے ہوئے حالات اور سیکورٹی کی صورتحال کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں امریکہ نے ایران کے خلاف ہر طرح کا دباو ڈالا اور بے بہا پابندیاں عائد کیں۔ جبکہ جو بائیڈن انتظامیہ ٹرمپ کے بر عکس ایران کی ایٹمی ڈیل کو ازسر نو تازہ کرنا چاہ رہے ہیں۔

اسی طرح ایران اور چین نےمارچ 2021 کو 25 سالہ سٹریٹیجک تعاون کا معاہدہ کیا جس کے تحت چین ایران  کی توانائی کے شعبے ، انفرا سٹرکچر ، دفاع اور بینکنگ کے شعبے میں 400 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس معاہدے نے خطے کے سٹریٹیجک حساب کتاب کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ چین سعودی عرب کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے اور اب اس نے ایران کے ساتھ سٹریٹیجک معاہدہ بھی کر لیا ہے۔ اس بات پر بحث کسی دیگر وقت کے لیے اٹھا رکھی جائے کہ چین ان دو مختلف نظریات کت حامل ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو کیسے متوازن بناتا ہے لیکن ایک بات طے کہ مشرق وسطائی ممالک اور چین اور امریکہ کے مفادات میں زبردست تفاوت پایا جاتا ہے۔ یہی چیز مشرق وسطی کے ممالک کو خطرات لاحق کرتی ہے اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر مجبور کرتی ہے۔لیکن مفاہمت سے قبل خلیجی ممالک کو لامحالہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات میں توازن لانا ہوگا۔ حالیہ چند برسوں میں بھارت نے خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کیے ہیں جس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے۔ 2019 میں سعودی عرب اور بھارت کے مابین ہونے والا سٹریٹیجک پارٹنر شپ کا معاہدہ پاکستان کے لیے پریشانی کا سب ہے۔ اسی طرح بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظالمانہ اقدامات اور جبرو استبداد پر خلیج تعاون کونسل کی خاموشی پاکستان کے لیے پریشان کن ہے اور پاکستان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کہ خلیج تعاون کونسل عملی طور پر کچھ نہیں کر رہی اور پاکستان کو ایسا لگتا ہے کہ یہ سب یمن جنگ میں سعودی حلیف نہ بننے کی سزا ہے۔

بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت جبری طور پر تبدیل کرنے کے بعد پاکستانی قیات کو امید تھی کہ اس کے خلیج وسطی حلیف اس معاملے میں اس کا ساتھ دیں گے مگر انہوں نے کبھی پاکستان کی حمایت نہیں کی جس کے نتیجے میں پاکستان نے اسلامی تعاون کی تنظیم کے کردار پر سوالیہ نشانات اٹھائے اور اس پر زبردست احتجاج کیا۔ تاہم یہ کہا جارہا ہے کہ عرب امارات نے پاکستان اور بھارت کے مابین حالیہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے اہم کراد کیا۔ پاکستان اور بھارت کے مابین چند روز قبل 2003 کے سیز فائر معاہدے کی پاسداری پر اتفاق درحقیقت عرب امارات کی بیک چینل ڈپلومیسی کا ہی نتیجہ ہے۔ پاکستان اور خلیجی ممالک کے  مابین کشیدگی کی ایک وجہ پاکستان کا قطر کا بائیکاٹ کرنے سے انکار کرنا ہے کیونکہ پاکستان خلیجی ممالک کے جھگڑے میں فریق بننے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔ اب جبکہ قطر اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے مابین تنازع ختم ہوچکا ہے اب اب دونوں اطراف پاکستان کے کردار کے معترف ہوگئے ہیں۔

پاکستان اپنی ترجیحات کو جیو سٹریٹیجک سے جیو اکنامک کی طرف لے کر جارہا ہے۔ پاکستان اپنی معیشت کو مضبوط بنانا چاہتا ہے اور اس کے لیے اس کو بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ 2019 میں جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان آئے تو انہوں نے پاکستان کے ساتھ 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کیے جس میں گوادر میں ایک آئل ریفائنری کا قیام اور پیٹرو کمیکل کمپلیکس کی تعمیر شامل تھی۔ تاہم دو سال گزرجانے کے باوجود اس پراجیکٹ میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور ایسا لگ رہا ہے کہ اب وقت ہے کہ دونوں ممالک ان منصوبوں کی تکمیل کے لیے آگے بڑھیں۔ موجودہ وقت میں پاکستان اور خلیج وسطٰی کے ممالک نے اس بات کو سمجھ لیا ہے کہ اس وقت دنیا میں جیوسٹریٹجک تبدیلیاں تیزی سے رونما ہورہی ہیں  اور پاکستان اور اس کے عرب حلیف یہ بات بھی سمجھ چکے ہیں کہ ماضی کبھی بھی مستقبل کا پیش خیمہ نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کو اس وقت اقتصادی شراکت داروں کی ضرورت ہے جبکہ خلیج وسطٰی کے ممالک کو اندرونی سیکورٹی اور جغرافیائی او خطی مفادات کے لیے تحفظ کے لیے توازن کی تلاش ہے جو پاکستان اسے فراہم کر سکتا ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcj8yei8uqeyvz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس