تاریخ شائع کریں2021 15 April گھنٹہ 20:55
خبر کا کوڈ : 500101

جبری گمشدگیاں انسانی حقوق و آئین کی خلاف ورزی ہے

سالہا سال تک جبری طور پر لوگوں کو حراست میں رکھنااور ان کی فیملی کے افراد سے ملاقات نہ کروانا درست نہیں ، ان کی زندگی کے بارے میں لواحقین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو دور کیا جائے
جبری گمشدگیاں انسانی حقوق و آئین کی خلاف ورزی ہے
شیعہ علماءکونسل واسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ جبری گمشدگیاں انسانی حقوق و آئین کی خلاف ورزی ہے۔ شہریوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے ، شہریوں کی گمشدگی ایک سنگین مسئلہ ،جس کا حل ضروری ہے ، جبری گرفتار لاپتہ افراد کو طویل عرصہ تک حبس بے جا میں رکھ کر آئین و قانون شکنی کا ارتکاب نہ کیا جائے، بے گناہ افراد کو رہا کیا جائے ۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ جبری گرفتار لاپتہ افراد کے حوالے سے قانون کو مد نظر رکھا جائے کسی کیخلاف کوئی الزام ہو تو غیر جانبدار انہ تحقیق میں الزام ثابت نہ ہونے والوں کو رہا کیا جائے بصور ت دیگر اُسے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے اور خوف وہراس پھیلائے بغیرسرچ وارنٹ کیساتھ گرفتارکیا جائے ، ٹارچر سیلز میں نہ رکھا جائے اور قانو ن کے مطابق 24گھنٹے کے اندر کسی مجاز عدالت میں پیش کیا جائے، گرفتاری کی معقول وجوہات پیش کی جائیں، حقائق پر مبنی چالان عدالت میں پیش کیاجائے اور گرفتار شخص کو اپنے دفاع کیلئے تمام قانونی مواقع فراہم کرتے ہوئےشفاف ٹرائل کا موقع فراہم کیا جائے ۔

علامہ ساجد نقوی نے مسنگ پرسنز کی بازیابی کے لیے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدہ افراد کےلئے آواز بلند کرنا بنیادی اور قانونی حق ہے اور دکھ کی اس گھڑی میں ہماری ہمدردیاں لواحقین کے ساتھ ہیں ۔

آخر میں علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ سالہا سال تک جبری طور پر لوگوں کو حراست میں رکھنااور ان کی فیملی کے افراد سے ملاقات نہ کروانا درست نہیں ، ان کی زندگی کے بارے میں لواحقین کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کو دور کیا جائے اور لاپتہ افراد کو فی الفوررہا کیا جائے ۔
http://www.taghribnews.com/vdcgzz9nqak9zq4.,0ra.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس