تاریخ شائع کریں2013 9 December گھنٹہ 13:01
خبر کا کوڈ : 147632
ممنون حسین :

پورا پاکستان فرقہ واریت کی زد میں ہے، کسی پر زبردستی اپنا نظریہ مسلط نہیں کیا جاسکتا

تنا (TNA) برصغیر بیورو
مذہبی ہم آہنگی سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت کا کہنا تھا کہ کسی پر زبردستی اپنا نظریہ مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ فرقہ واریت کے ناسور سے نجات کیلئے رواداری اور تحمل ناگزیر ہے۔
پورا پاکستان فرقہ واریت کی زد میں ہے، کسی پر زبردستی اپنا نظریہ مسلط نہیں کیا جاسکتا
تقریب نیوز (تنا): اسلام آباد میں مذہبی ہم آہنگی سے متعلق قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں میں یکساں نصاب تعلیم پر غور کیا جا رہا ہے، اس وقت پورا ملک فرقہ واریت کی زد میں ہے۔ مساجد، چرچ اور خانقاہیں بھی محفوظ نہیں، تاہم کسی پر اپنا نظریہ زبردستی مسلط کرنا ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا اسلام کسی کے ناحق قتل سے روکتا ہے، مسلمانوں کو دہشتگرد کہنا افسوسناک ہے۔ صدر مملکت کا کہنا تھا کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے بہت زیادہ محنت کرنا پڑے گی۔ کانفرنس سے جے یو آئی (س) کے رہنما مولانا سمیع الحق نے بھی خطاب کیا۔

دیگر ذرائع کے مطابق صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ معاشرے میں امن، حسنِ سلوک اور مذہبی رواداری کی تعلیمات کو عام کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، علماء و مشائخ کرام اسلام کی اصل تعلیمات کے مطابق عوام کی مناسب رہنمائی میں اپنا کردار ادا کریں، انہوں نے یہ بات نظریہ پاکستان کونسل (ٹرسٹ) اسلام آباد کے زیراہتمام بین المذاہب ہم آہنگی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صدر مملکت نے اسلامی تعلیمات کی پیروی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کی تعلیمات پر عمل ہی میں ہماری دین اور دنیا کی بھلائی مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک آفاقی دین ہے اور اس کی تعلیمات ابدی حیثیت رکھتی ہیں، ان میں ہر دور اور زمانے کی مشکلات اور مسائل کا حل موجود ہے، اگر ہم خلوصِ نیت سے ان پر عمل کریں تو ہم یقینی طور پر ملک کو موجودہ مشکلات سے نجات دلا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی پر زبردستی اپنا نظریہ مسلط نہیں کیا جاسکتا، فرقہ واریت کی آگ سے کوئی محفوظ نہیں رہا، فرقہ واریت اور دہشتگردی سے مساجد و امام بارگاہیں اور چرچ تک محفوظ نہیں رہے۔

تقریب سے جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کا کہنا تھا کہ فرقہ واریت میں ملوث افراد کو پھانسی دینی چاہئے، انہوں نے کہا کہ ملک میں مذہبی رواداری کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے، عدالتوں نے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ایک بھی ملزم کو سزا نہیں دی۔ ایسے لوگوں کو سرعام پھانسی دی جائے، انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ نے بھی مایوس کیا ہے۔

تقریب سے خطاب میں جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے فرقہ واریت کے پیچھے امریکہ اور بھارت کو قرار دیدیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرقہ واریت اور دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈ بھارت اور امریکہ ہیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک میں فرقہ واریت کو جواز بنا کر جو قتل وغارت ہو رہی ہے وہ قابل مذمت ہے، اس کیخلاف تمام مذہبی جماعتوں کو متحد ہوکر مشترکہ لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔ تقریب میں شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ ساجد علی نقوی بھی موجود تھے۔
http://www.taghribnews.com/vdcc1mqsi2bq0e8.c7a2.html
منبع : اسلام ٹائمز
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس