تاریخ شائع کریں2013 22 October گھنٹہ 11:57
خبر کا کوڈ : 143668
اسلامی قیادت پر ناظر ماہرین کونسل (مجلس خبرگان رہبری) میں اہلسنت نمائندہ:

تکفیری ٹولوں کی مسلمانوں کے درمیان کوئی حیثیت نہیں

تنا (TNA) برصغیر بیورو
اسلامی جمہوری ایران کے ممتاز اہلسنت عالم دین نے تکفیریوں اور مغربی ممالک کے گماشتوں کی جانب سے دنیا کے مختلف حصوں میں کی جارہی غیر انسانی حرکات کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ’’تکفیری ٹولوں کی مسلمانوں کے درمیان کوئی حیثیت نہیں ہے‘‘۔
تکفیری ٹولوں کی مسلمانوں کے درمیان کوئی حیثیت نہیں
تقریب نیوز (تنا): رپورٹ کے مطابق دنیا کی اکلوتی اسلامی حکومت اسلامی جمہوری ایران میں اسلامی قیادت پر ناظر ماہرین کونسل(مجلس خبرگان رہبری) میں ممتاز اہلسنت عالم دین ، کرد ستانی عوام کے نمائندہ اور بانہ کے امام جمعہ ماموستا عبدالرحمٰن خدائی نے سنندج میں تقریب نیوز کے نامہ نگار سے گفتگو کررہے تھے، ان کا کہنا تھا: ’’اسلام اعتدال اور امن کا دین ہے ۔چنانچہ اسلام کی مستند تعلیمات میں مسلمانوں کو ہمیشہ اخوت اور بھائی چارہ ہی کی نصیحت کی گئی ہے‘‘۔

آپ نے مزید کہا: ’’دشمنان اسلام اپنی پوری طاقت صرف کر کے مسلمانوں کو تشدد پسند ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ دنیا سے کہہ سکیں کہ اسلام جنگ اور تشدد کا دین ہے‘‘۔

ماموستا خدائی نے وضاحت کی: ’’ ان ساری سازشوں اور ہتھکنڈوں کامقصد مسلمانوں کے خدادا قدرتی وسائل پر قبضہ ہے۔دشمن خطہ میں جنگ اور شورش برپا کر کے اپنے ان ناپاک مقاصد تک پہونچنا چاہتے ہیں‘‘۔

بانہ کے اہل سنت امام جمعہ نے آگے چل کر کہا: ’’دہشت گرد تنظیموں کی حمایت اور ان ملحد گروہوں کی مالی اور عسکری مدد مغربی ممالک کے ریجنل پلان کا حصہ ہے۔یہ لوگ ان غیر انسانی اقدامات کے ذریعہ مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال کر ان کے خداد وسائل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

آپ نے شام، عراق اور افغانستان کی شورشوں کو مغربی ممالک کی (عالم اسلام میں بے جا) مداخلت اور تکفیری ٹولوں کی غیر انسانی حرکات کی زندہ مثا ل قرار دیا اور کہا: ’’تکفیری گروہوں کی مسلمانوں کے درمیان کوئی حیثیت نہیں ہے‘‘۔

آپ نے زور دے کر کہا: ’’دشمنوں کو جان لینا چاہئے کہ ایران کے مسلمان عوام ایسے لوگوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے جو ملک کی سلامتی کو زک پہونچانا چاہتے ہیں‘‘۔

ماموستان عبدالرحمٰن خدائی نے دشمنوں کو مخاطب کر کے کہا: ’’اس طرح کے اقدامات سے اسلامی معاشرہ مزید متحد اور مسلمانوں کےجذبۂ شہادت میں اور اضافہ ہوگا۔اس کے علاوہ دشمنوں کو کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے‘‘۔

آپ نے مختلف شعبوں میں ترقی کے لئے امن و سلامتی کو لازمی قرار دیا اور مزید کہا: ’’اگر آج ہمارے پاس دینی، علمی، ثقافتی، عسکری اور سیاسی امور سے متعلق دنیا سے بتانے کے لئے کچھ ہے تو اس سب کی وجہ ملک پر سایہ فگن امن و سکون ہے۔لہٰذا ہمیں پوری طاقت سے اللہ کی اس عظیم نعمت کی حفاظت کرنی چاہئے‘‘۔
http://www.taghribnews.com/vdch-xnz623nk-d.4lt2.html
منبع : نیوز نور
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس