QR codeQR code

صدر رئیسی کا دورہ ماسکو ایک مثبت اقدام تھا

25 Jan 2022 گھنٹہ 13:10

اس موقع پر انہوں نے ایرانی صدر کے دورہ روس اور بین الاقوامی کشیدگی، دباؤ اور پابندیوں کے تحت پیوٹن کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مغرب کے دباؤ سے نجات کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مستقل اتحاد کی تلاش کی وجہ سے ہے۔


 چلی کے بین الاقوامی مسائل کے ماہر نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، روس اور چین کے ساتھ اقتصادی و اسٹریٹجک تعلقات کی مضبوطی مغربی تسلط کے ٹوٹنے کا آغاز ہے۔

یہ بات "پابلو خوفرہ لئال" نے منگل کے روز ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

اس موقع پر انہوں نے ایرانی صدر کے دورہ روس اور بین الاقوامی کشیدگی، دباؤ اور پابندیوں کے تحت پیوٹن کے ساتھ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مغرب کے دباؤ سے نجات کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مستقل اتحاد کی تلاش کی وجہ سے ہے۔

خوفرہ لئال نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 20 سالہ معاہدہ ان کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹجک نقطہ نظر کو بھی ظاہر کرتا ہے، صدر رئیسی کا دورہ ماسکو ایک مثبت اقدام تھا جس کے اپنے آپ میں مثبت نتائج سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ ایران، چین اور روس کے درمیان تعاون نے واشنگٹن کے لیے انتباہی گھنٹی بجائی، یہ یونین آبادی کے لحاظ سے دو ارب اور سطحی رقبہ کے لحاظ سے 29 ملین مربع میٹر پر محیط ہے، جو کہ دنیا کی مجموعی آبادی کا 22 فیصد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس اور چین جوہری مذاکرات کا حصہ ہیں اور یہ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن ہیں، جنہیں ویٹو کا حق حاصل ہے۔

چلے کے ماہر نے کہا کہ تینوں ممالک کا تعاون امریکی پابندیوں کو نہیں روک سکتا لیکن اس سے ایران کو تیل اور گیس کی محفوظ برآمد میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ فرانس، برطانیہ اور جرمنی کو اس یونین کا پیغام بھی یاد دلاتا ہے کہ امریکہ کے خلاف ان کی ہتھیار ڈالنے کی پالیسی 88 ملین کی آبادی والے ایران میں سرمایہ کاری کرنے کا موقع لے گی۔


خبر کا کوڈ: 535877

خبر کا ایڈریس :
https://www.taghribnews.com/ur/interview/535877/صدر-رئیسی-کا-دورہ-ماسکو-ایک-مثبت-اقدام-تھا

تقريب خبررسان ايجنسی (TNA)
  https://www.taghribnews.com