تاریخ شائع کریں2021 20 June گھنٹہ 22:11
خبر کا کوڈ : 508604

اگر آزاد فیصلے نہ لکھوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں حلف کی پاس داری نہیں کر رہا

19 جون کو قاضی محمد عیسیٰ کی برسی کے موقعے پر ان کے صاحبزادے اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافی عبدالقیوم صدیقی کے یوٹیوب چینل پر انٹرویو دیا۔
اگر آزاد فیصلے نہ لکھوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں حلف کی پاس داری نہیں کر رہا
سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ اگر آزاد فیصلے نہ لکھوں تو اس کا مطلب ہے کہ میں حلف کی پاس داری نہیں کر رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہے کہ جج صاحبان کو اپنے فیصلوں کے ذریعے بات کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ وکیل کی حیثیت سے ایک آزاد انسان تھے لیکن جج ہونے کی حیثیت سے تبصرہ نہیں کر سکتے۔ ان کے بقول ’آج بھی اگر سیاسی باتیں ہو رہی ہوتیں تو میں آپ سے بات نہ کرتا۔‘

19 جون کو قاضی محمد عیسیٰ کی برسی کے موقعے پر ان کے صاحبزادے اور سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے صحافی عبدالقیوم صدیقی کے یوٹیوب چینل پر انٹرویو دیا۔

گفتگو کی ابتدا میں ہی انہوں نے واضح کیا کہ وہ بطور ایک جج انٹرویو نہیں دے رہے بلکہ قاضی محمد عیسیٰ کے فرزند کی حیثیت سے موجود ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ادارے آئین کے ماتحت ہوتے ہیں، ادارے بنتے ہی آئین سے ہیں۔ ’اگرآئین اداروں کو نہ بنائے تو ادارے نہیں ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ آئین پر ہی سب حلف اٹھاتے ہیں جیسے سپریم کورٹ آئین کے ماتحت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اداروں کی اپنی کوئی اہمیت نہیں لیکن آئین بالاتر ہے۔ ’آرٹیکل پانچ کہتا ہے کہ ہر پاکستانی آئین کا پابند ہے۔‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بقول: ’عوام کو ان لوگوں کے بارے میں بھی پتہ ہونا چاہیے جنہوں نے پاکستان بنایا۔‘

اپنے والد کی قیام پاکستان میں خدمات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کے والد نے پاکستان سے کچھ نہیں لیا، کوئی پینشن لی نہ پلاٹ بلکہ اپنی جائیداد پاکستان پر لٹا دی۔

انہوں نے اپنے آباؤ اجداد کے حوالے سے بتایا کہ ان کے دادا قاضی جلال الدین قندھار سے تعلق رکھتے تھے اور وہاں قاضی تھے۔ ان کا تعلق شاہ مقصود کے خاندان سے تھا۔

انہوں نے بتایا کہ شاہ مقصود ولی اللہ تھے اور قندھار کے قریب ان کا مزار بھی موجود ہے۔

‘میرے دادا اقلیتوں کے حقوق کی آواز تھے لیکن اس وقت کے افغانستان کے حکمرانوں کو ان کی یہ بات پسند نہیں آئی تو وہ ہجرت کر کے بلوچستان کے علاقے پشین میں آ گئے۔

’اس وقت افغانستان تھا اور برٹش انڈیا تھا۔ قاضی جلال الدین نے پشین میں سکونت اختیار کی اور شادی بھی وہیں پر کی۔ ان کے تین بیٹے پیدا ہوئے۔

’قاضی فائز عیسی کے والد ان کی منجھلی اولاد تھے۔ قاضی محمد عیسیٰ لندن سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ اور کوئٹہ میں پہلے بیرسٹر بنے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ مئی 1935 میں آنے والے زلزلے میں ان کا گھر تباہ ہو گیا تھا۔ ’پشین میں جو گھر تھا وہ مٹی سے بنا ہوا تھا۔ کوئٹہ زرغون روڈ پر لگے چنار کے درخت قاضی جلال الدین اونٹوں پر لاد کر قندھار سے پاکستان لائے تھے۔‘
قاضی فائز عیسیٰ نے قیام پاکستان سے قبل اپنے والد قاضی محمد عیسیٰ کی پاکستان بنانے کی کوششوں کے حوالے سے بتایا کہ قائداعظم محمد علی جناح سے قاضی محمد عیسیٰ کی ملاقات 1932 میں لندن میں ہوئی تھی۔

’ان سے دوسری ملاقات میں دوستی کی ابتدا ہوئی۔ وہی ملاقات بلوچستان میں پاکستان مسلم لیگ کی بنیاد کا سبب بنی۔ انہوں نے 1940 میں لیاقت علی خان کو مسلم لیگ بلوچستان کی سالانہ تقریب میں شرکت کی دعوت دی۔‘

انہوں نے ماضی کے اوراق سے مزید بتایا کہ 1943 میں جب قائداعظم نے بلوچستان کا دورہ کیا تو جناح کیپ، جو قائداعظم کے پہننے کے بعد سے مشہور ہوئی اور جناح کیپ کہلائی، وہ اس وقت قائداعظم نے پہلی بار بلوچستان سے خریدی تھیں۔

’قائداعظم کو بلوچستان سے خاص محبت تھی اس لیے 14 نکات میں بلوچستان کو صوبہ بنانے کا کہا گیا تھا۔‘

قاضی فائز عیسیٰ نے بلوچستان کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسائل کی نشاندہی اچھی بات ہوتی ہے لیکن صرف تنقید نہ کی جائے بلکہ پہلے مسئلے کی نشاندہی کی جائے۔

انہوں نے اپنے انٹرویو کا اختتام اس شعر پر کیا:

نیرنگی سیاست دوراں تو دیکھیے

منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
 
http://www.taghribnews.com/vdccx4qp02bqxe8.c7a2.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس