تاریخ شائع کریں2021 19 May گھنٹہ 23:02
خبر کا کوڈ : 504675

فلسطینی مزاحمت عالمی قوانین کے تحت جائز ہے

انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی انٹرویو میں صدر پاکستان نے فلسطین کے معاملے پر اسلامی ممالک کے کردار کے حوالے سے کہا کہ ’مسلم امہ میں صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کوئی سخت اقدام اٹھا سکے۔ سب کہتے ہیں ایکشن لو یہ کرنا اتنا آسان نہیں۔‘
فلسطینی مزاحمت عالمی قوانین کے تحت جائز ہے
بشکریہ:انڈپینڈنٹ اردو

پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی کا فلسطین کے معاملے پر کہنا ہے کہ مسلم امہ میں اسرائیل کے خلاف خود سخت قدم اٹھانے کی صلاحیت نہیں ہے۔

صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’مسلم امہ خود کمزور ہے لہذا طاقتور کی آواز سننی پڑے گی۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی انٹرویو میں صدر پاکستان نے فلسطین کے معاملے پر اسلامی ممالک کے کردار کے حوالے سے کہا کہ ’مسلم امہ میں صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف کوئی سخت اقدام اٹھا سکے۔ سب کہتے ہیں ایکشن لو یہ کرنا اتنا آسان نہیں۔‘

انہوں نے بیت المقدس میں حالیہ کشیدگی کو اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد نہیں بلکہ اسرائیل کا تشدد قرار دیا۔

’کسی قابض کے خلاف مزاحمت عالمی قوانین کے تحت جائز ہے اور حماس کے راکٹ حملے اسے سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔‘

صدر عارف علوی نے کہا کہ ’مسلم امہ رائے استوار کرنے کی کوشش کر رہی ہے، باقی بھی مذمت کر رہے ہیں ہم نے بھی کی ہے۔‘

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کی افواہوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس پر انڈپینڈنٹ کو وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے قطر کی جانب سے اسرائیلی سفیر کو واپس بھیجے جانے کے فیصلے کی تعریف کی۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک بین الاقوامی تعلقات میں موریلٹی (اخلاقیات) نہیں آئے گی کشمیر، فلسطین اور روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک جاری رہے گا۔ ’یہ اخلاقیات مسلمان سب سے بہتر طریقے سے لاسکتے ہیں کیونکہ ان کی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے۔‘

’جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کے علاوہ راستہ نہیں تھا‘

پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل بھیجے جانے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس اس کے سوا دوسرا کوئی آئینی راستہ نہیں تھا۔

انڈپینڈنٹ اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں صدر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس مسترد نہیں کیا، وہ مطمئن نہیں تھی اور تحقیقات نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ ’ہمارے ملک کی عدلیہ ہے لہذا مجھے عدالت کا فیصلہ قبول ہے۔‘

اس سال 26 اپریل کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی صدارتی ریفرنس کے خلاف نظرِ ثانی کی درخواست منظور کر لی تھی۔ میڈیا پر حزب اختلاف کی جانب سے تحریک انصاف کی حکومت، وزیر قانون اور صدر پر اس ریفرنس کو بغیر کسی تحقیق کے آگے بڑھانے پر تنقید ہوئی تھی۔

صدر نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اور کیا کرتا؟ سپریم کورٹ کہتی کہ آپ کے پاس تحقیقات کا اختیار نہیں ہے۔ میں کیا نجی لوگوں سے تفتیش کرواتا، ایف آئی اے سے کرواتا؟ میں نہیں کرسکتا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’ریفرنس کے اندر جو دیا تھا وہ تھا۔ ان کی جائیداد کا ذکر تھا اور انہوں نے انکار نہیں کیا ہے کہ یہ ان کی پراپرٹی تھی۔‘

بتایا کہ جج نے عدالت میں منی ٹریل دیا، تو صدر مملکت نے کہا کہاں دیا؟ ’عدالت نے یہ سب نہیں مانا ہے۔ میرے پاس کسی تحقتقات کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل ہی تھی جہاں میں نے ریفرنس بھیجا تو اس میں کیا غلط تھا۔ آئینی راستہ تو اصل راستہ تھا۔‘  

ان کا کہنا تھا کہ جب تفصیلی فیصلہ آئے گا تو اس میں سب واضح ہو جائے گا۔

مستعفی ہونے کے مطالبے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بےجا ہے کیونکہ انہوں نے تو اس پر ایکشن لیا۔ ’میرے پاس تین ہی آپشن تھے۔ ایک یہ کہ میں اس پر خاموش ہو جاتا، صدر صاحب اس پر بیٹھ جاتے اور بعد میں کہتے میرے پاس بہت ثبوت ہیں میری زبان نہ کھلوانا۔ تیسرا آپشن آئینی تھا اور وہی واحد راستہ تھا۔‘

اوپن بیلٹ

سینٹ کے انتخابات کے دوران اوپن بیلٹ سے متعلق بھی ریفرنس کے بارے میں صدر نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ الیکشن اس مرتبہ ایسے ہی ہو۔ ’میں نواز شریف صاحب سے ایک مرتبہ عمران خان کے ساتھ ملا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ سینٹ میں ووٹ بکتے ہیں لہذا اوپن بیلٹ ہو تو ہم مان گئے تھے۔‘

اپوزیشن کو اس بارے میں اعتماد میں لینے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے انہیں چار پانچ سال پہلے اعتماد میں لے لیا تھا۔ سوال کیاگیا کہ انہوں نے لے لیا تھا آپ نے انہیں اعتماد میں نہیں لیا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ انتخابی اصلاحات پر اب بھی بیٹھنا چاہتے ہیں تو وہ تیار ہیں۔ ’اچھا جب وہ بیٹھیں گے ہی نہیں تو کہیں کہ روک دو تو سب کچھ۔ بند کر دو سانس مت لو۔ ایک ماہ وہ ٹی وی پر بیٹھتے رہے لیکن ہم سے بات کے لیے تیار نہیں تھے۔‘

ایک اور سوال پر کہ اوپن بیلٹ کا معاملہ کیا رات گئی بات گئی اب اس پر کچھ ہوگا یا نہیں تو ان کا جواب تھا کہ اس پر قانون سازی ہوگی۔

اوورسیز پاکستانیوں کا ووٹ، ووٹنگ مشین

اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا قبل از وقت انتخابات سے کوئی تعلق نہیں، اگر اس پر کام آج شروع نہیں ہوتا تو اگلے عام انتخابات میں یہ کام نہیں ہو سکیں گے۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بارے میں جس پر انہوں نے صدارت سے قبل بھی کافی کام کیا تھا کہا کہ تسبیح کی طرح کی مشین ہے جو بیلٹ کے علاوہ ووٹ گنے گی۔ ’بیلٹ اپنی جگہ موجود رہے گا۔ نہ اس کا سافٹ وئر سے کوئی تعلق ہے نہ وائی فائی سے۔‘

اس بارے میں عوامی آگہی کے لیے انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ قومی اسمبلی میں اس مشین کو رکھیں تاکہ لوگ اسے دیکھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں کے مقابلے میں انہوں نے کم آرڈیننس جاری کیے ہیں۔

افغانستان

امریکی انخلا سے ممکنہ صورت حال کے بارے میں سوال کے جواب میں ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کو جلد کسی معاہدے پر پہنچ جانا چاہیے۔ پاکستان کا واحد فائدہ افغانستان میں امن سے جڑا ہے کیونکہ افغانستان کے بعد سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے ہی اٹھایا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ستمبر کے بعد کیا وہ مائنس طالبان سیٹ اپ کابل میں دیکھتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کو ان سے (طالبان) سے بات کرنی چاہیے اور زمینی حقیقت کو دیکھنا چاہیے۔ ’جو افغان چاہتے ہیں وہ ہونا چاہیے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ کا بنایا ہوا افغانستان میں سٹیٹس کو نہیں چل پائے گا۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے حالیہ دورہ کابل اور اس کے فوراً بعد افغان صدر کے ایک جرمن جریدے سے انٹرویو میں پاکستان مخالف بیان کے بارے میں پوچھا کہ کون ہے جو دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری نہیں چاہتا تو ان کا جواب تھا، ’بھارت۔‘

فرانس

فرانس میں مبینہ اسلام مخالف قانون سازی پر ان کے بیان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ مغرب دوغلے پن کا شکار ہے۔ ’ایک جانب وہ ہولوکاسٹ پر بات کرنے نہیں دیتے تو دوسری جانب آزادی اظہار رائے کی بات کرتے ہیں۔‘

ان سے پوچھا کہ کیا وہ ذاتی طور پر فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجنے کے حق میں ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کے جذبات کی عکاسی ضرور ہونی چاہیے۔ ’میں ایک معاہدے کے تحت پارلیمان میں فرانس سے متعلق بحث اور قرار داد کے حق میں ہوں۔ پارلیمان کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ کیا بہتر ہے۔‘    

پیپلز پارٹی

پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی سیاسی لائن اور موقف کافی ملنے لگے ہیں، تو کسی حد تک ایک دوسرے کے قریب آسکتی ہیں دونوں جماعتیں؟ اس بارے ان کا کہنا تھا کہ وہ بات چیت اور تعاون کے حق میں ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان سے کتنی ملاقات یا مشاورت اب بھی ہوتی ہے، اس پر انہوں نے بتایا کہ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ایسا ہوتا چلا آ رہا ہے۔

صدر سے سوال کیا گیا کہ کراچی میں ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی کامیاب نہیں رہی پنجاب میں بھی یہی ہوا تو اس وجہ پی ٹی آئی کی بری کارکردگی ہے، تو ان کا کہنا تھا کہ ایک وجہ تو شفاف انتخابات ہیں۔ ’ماضی سے قدرے زیادہ شفاف انتخابات ہو رہے ہیں۔‘

لیکن انہوں نے تسلیم کیا کہ مہنگائی اور دیگر مسائل پر تحریک انصاف کی حکومت کو توجہ دینی چاہیے۔
http://www.taghribnews.com/vdcgut9nnak9z34.,0ra.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس