تاریخ شائع کریں2021 11 May گھنٹہ 07:49
خبر کا کوڈ : 503416

پاکستان امریکی کو اڈے یا ایئر بیس نہیں دیئے گا

پاکستان کا ایئر بیس دینے کا کوئی ارادہ نہیں، اس حوالے سے قیاس آرئیاں کی جارہی ہے۔ نئی امریکی انتظامیہ سے بہترتعلقات چاہتے ہیں، امریکا نے افغانستان میں پاکستان کے کردارکوسراہا ہے۔
وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کا امریکا کو ایئر بیس یا اڈے دینے کا کوئی ارادہ نہیں، اس حوالے سے قیاس آرئیاں کی جارہی ہے۔ نئی امریکی انتظامیہ سے بہترتعلقات چاہتے ہیں، امریکا نے افغانستان میں پاکستان کے کردارکوسراہا ہے۔
دنیا نیوز کے پروگرام ’نقطہ نظر‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اورسعودی عرب کے تاریخی نوعیت کے تعلقات ہیں، ہرمشکل وقت میں برادر ملک نے ساتھ دیا۔ سعودی عرب کا کشمیرکے حوالے سے کردارڈھکا چھپا نہیں۔ تنازع کشمیرکے معاملے پرتھرڈ پارٹی سے بھارت نے ہمیشہ انکارکیا، میرے خیال میں بھارت ثالثی کے لیے تیارنہیں، دوایٹمی قوتیں جنگ نہیں کرسکتی واحد راستہ گفتگوہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارا محبت کا رشتہ ہے، وزیراعظم نے اپنا نقطہ نظرسعودی عرب کوسمجھایا، وزیراعظم کے 3 روزہ دورے میں ہم نے اپنی سمت کا تعین کرلیا، لوگوں نے سعودی عرب پاکستان تعلقات بارے غلط پروپیگنڈا کیا تھا، عید کے بعد سعودی عرب سے وفد پاکستان آئے گا، سعودی وزیرخارجہ بھی آئینگے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی عرب بھی افغانستان میں امن چاہتا ہے۔ ہم بھی چاہتے ہیں افغانستان اپنے مستقبل کا فیصلہ بات چیت سے حل کرے۔ ہمسایہ ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کر رہے، خدانخواستہ اگر وہاں انارکی پھیلی تو ہمیں بھی نقصان ہو گا، افغانستان کا حل جنگ نہیں مذاکرات سے ہی حل ہوگا۔
پروگرام کے دوران سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے سوال کیا کہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان امریکا کو ایئر بیس دے رہا ہے۔
پروگرام کے دوران میزبان اجمل جامی نے واضح کیا کہ جوزف بائیڈن امریکی صدر منتخب ہونے سے پہلے متعدد بار کہہ چکے تھے کہ انخلاء کو جب ممکن بنائیں گے تو ہمیں بیرون ملک اڈے چاہیے ہوں گے۔
اس سوال کے جواب میں شاہ محمد قریشی نے کہا کہ پاکستان کا ایئر بیس دینے کا کوئی ارادہ نہیں، اس حوالے سے قیاس آرئیاں کی جارہی ہے۔ نئی امریکی انتظامیہ سے بہترتعلقات چاہتے ہیں، امریکا نے افغانستان میں پاکستان کے کردارکوسراہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے برادر ملکوں میں غلط فہمیوں کودور ہونا چاہیے، پاکستان کے امت مسلمہ کے ساتھ اس وقت بہترین تعلقات ہیں، قطر، یمن، ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری آرہی ہے، پاکستان کے چین کے ساتھ تاریخی تعلقات ہے اوررہیں گے، پاکستان کوکسی اورکیمپ میں جانے کی ضرورت نہیں، بھارت کے روس کے ساتھ بہترین تعلقات تھے اب امریکا کا سٹرٹیجک پارٹنرہے۔ پاکستان امریکا تعلقات میں اتار چڑھاؤ رہا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ میں ظلم کیا گیا،مذمت کرتے ہیں، سعودی عرب میں اسرائیل کے حوالے سے کوئی گفتگونہیں ہوئی، اسرائیل کے حوالے سے پاکستان پرکوئی دباؤنہیں، سعودیہ نے دباؤکے باوجود اسرائیل بارے موقف تبدیل نہیں کیا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سعودی عرب میں افغانستان کے معاملات پربھی گفتگوہوئی، برادر ملک نے امن کیلئے پاکستانی کوششوں کو سراہا ، افغانستان میں امن سے پاکستان سمیت خطے کوفائدہ ہوگا۔
کشمیر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)کے کچھ لوگ کشمیرایشوزپرسیاست نہ کریں، میرا موقف بڑا کلیئرہے مقبوضہ کشمیرکے تمام معاملات بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت،پاکستان کے مشرف ،زرداری دور میں ایک آفیشل بیک ڈورچینل تھا، اب کوئی بیک ڈورچینل نہیں، پاکستان اپنے معاملات طے کرنے کو تیار ہے، بھارت نے اپنے معاملات کو بگاڑا ہواہے۔ کشمیرمسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں سے حل کیا جاسکتا ہے، اپنے اصولی موقف پرقائم ہیں، کشمیرایک متنازع علاقہ ہے، آرٹیکل 370کومقبوضہ کشمیرکی پارٹیوں نے بھی مسترد کیا۔
http://www.taghribnews.com/vdcizpawqt1au52.s7ct.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس