تاریخ شائع کریں2021 8 December گھنٹہ 20:15
خبر کا کوڈ : 529955

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سیاسی تنہائی

الخلیج الجدید نیوز ویب سائٹ نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ "سعودی عرب خلیج تعاون کونسل کا کنٹرول کھو چکا ہے اور متحدہ عرب امارات اب علاقائی سیاست میں اس کا اہم حریف ہے۔" ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید، جو امریکہ کے قابل اعتماد اتحادی ہیں، اب سعودی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سیاسی تنہائی
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
بشکریہ:اسلام ٹائمز

 
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے عرب دنیا کے اپنے پانچ روزہ دورے کا آغاز عمان سے کیا ہے۔ محمد بن سلمان کا 5 روزہ دورہ 5 عرب ممالک عمان، بحرین، قطر، یو اے ای اور کویت کا ہوگا۔ درحقیقت یہ دورہ خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کا ہوگا۔ خلیج تعاون کونسل کا 42 واں سربراہی اجلاس 14 دسمبر کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والا ہے۔ اس لیے بن سلمان کا جی سی سی کے دیگر پانچ ممالک کے دورے کا کونسل کے اگلے ہفتے ہونے والے اجلاس سے براہ راست تعلق بنتا ہے۔ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ محمد بن سلمان کا خلیج فارس تعاون کونسل کے پانچ رکن ممالک کا پہلا دورہ ہے۔ خلیج فارس تعاون کونسل کا اجلاس گذشتہ جنوری میں مغربی سعودی عرب کے علاقے العلا میں ہوا تھا۔ خلیج تعاون کونسل کے اس سربراہی اجلاس مین قطر کے ساتھ چار عرب ریاستوں کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

محمد بن سلمان کے دورے کے بارے میں سب سے اہم مسئلہ سعودی ولی عہد کا ذاتی مسئلہ ہے، وہ اپنے آپ کو سیاسی تنہائی میں محسوس کر رہے ہیں۔ جنوری 2021ء میں جب سے جو بائیڈن نے امریکہ میں اقتدار سنبھالا ہے، محمد بن سلمان کی پوزیشن ملکی اور عالمی سطح پر ہل گئی ہے۔ داخلی سیاست کے حوالے سے  اگرچہ محمد بن سلمان کے پاس اب بھی سعودی عرب کا تخت جیتنے کا پہلا موقع ہے اور وہ طاقت کے ڈھانچے میں کافی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، لیکن محمد بن نائف سمیت ان کے کچھ حریفوں کو بائیڈن حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ دریں اثنا، بن سلمان سعودی طاقت کے ڈھانچے کی تعمیر میں پہلے سے زیادہ محتاط ہوگئے ہیں، کیونکہ امریکہ نے بن نایف کو ایک بڑا رقیب بنا کر بن سلمان کے اندیشوں اور تشویشوں مین اظافہ کر دیا ہے۔

محمد بن سلمان نے 2021ء میں کوئی بیرون ملک سفر نہیں کیا اور یہان تک کہ انہوں نے برسلز میں حالیہ G20 سربراہی اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔ اس کے علاوہ محمد بن سلمان نے گذشتہ 11 ماہ میں امریکی صدر سے کوئی بات چیت نہیں کی۔ سعودی عرب کی علاقائی پالیسی مکمل فلاپ رہی اور اس نے سعودی عرب کے لیے کچھ خاص حاصل نہیں کیا اور محمد بن سلمان کی وضع کردہ اور نافذ کردہ پالیسیوں کی ناتجربہ کاری اور ناکامی گویا عملی طور پر ثابت ہوچکی ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ بن سلمان کا 5 عرب ممالک کا دورہ اماراتی حکام کے شام اور ترکی کے دورے اور اس کے ساتھ ساتھ تہران میں متحدہ عرب امارات کے قومی سلامتی کے مشیر طحنون بن زاید کے دورہ کے بعد ہوگا۔ یہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان علاقائی دشمنی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ بن سلمان کے لئے ناقابل قبول ہے کہ متحدہ عرب امارات اس کی مرضی اور منشاء کے بغیر ایران اور شام سے اپنے تعلقات بہتر بناتا رہے۔

الخلیج الجدید نیوز ویب سائٹ نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ "سعودی عرب خلیج تعاون کونسل کا کنٹرول کھو چکا ہے اور متحدہ عرب امارات اب علاقائی سیاست میں اس کا اہم حریف ہے۔" ابوظہبی کے ولی عہد شہزادہ محمد بن زاید، جو امریکہ کے قابل اعتماد اتحادی ہیں، اب سعودی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے 2017ء میں دہشت گردی کی حمایت اور علاقائی معاملات میں مداخلت کے نام پر قطر کا محاصرہ کیا، محمد بن سلمان بھی اس سلسلہ مین پیش پیش تھے۔ جو بائیڈن کے 2020ء کے صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد سعودیوں نے محاصرہ ختم کر دیا، لیکن انہیں محاصرے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور اس محاصرے کے بہت دور رس نتائج بھی برآمد ہوئے۔ دوسری طرف سعودی عرب 2015ء میں یمن کے معزول صدر عبد المنصور ہادی کو واپس لانے اور انصار الاسلام کا مقابلہ کرنے کی امید میں یمن کے خلاف جنگ میں داخل ہوا، لیکن سات سال بعد اسے بھاری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔"

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ محمد بن سلمان کے پانچ عرب ممالک کے حالیہ دورے کے اہداف و مقاصد ذاتی نوعیت کے ہیں، وہ اس دورے میں سیاسی تنہائی سے باہر آنے کے ساتھ ساتھ یمن کی جنگ جیسے کچھ علاقائی مسائل پر اپنے عرب دوستوں کو اعتماد مین لینے کا ارادہ رکھتے ہین، کیونکہ سعودی عرب کے اندر اور عرب خطے میں یہ بات زبان زد خاص و عام ہے کہ یمن پر جارحیت کے آغاز میں بن سلمان کا کردار سب سے زیادہ ہے۔ بن سلمان مغربی ایشیاء میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ مقابلہ اور رقابت کو بھی اپنے لئے انتہائی اہم سمجھتا ہے اور اسی لئے وہ خلیج فارس تعاون کونسل کے حالیہ اجلاس کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرنے کا خواہاں ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdceno8nnjh8woi.dqbj.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس