تاریخ شائع کریں2021 22 September گھنٹہ 16:06
خبر کا کوڈ : 519886

مکافات عمل کا ایک سونامی ہے

جس نے ان کا گھر دیکھ لیا ہے۔ کرکٹ سے لے کر جنگلہ بس تک شاید ہی کوئی ایسی چیز بچی ہو جس پر انہوں نے تنقید کی ہو اور مکافات عمل نے وہی چیز طوق کی صورت ان کے گلے میں نہ لٹکا دی ہو۔ ہر وہ چیز جو دوسروں کے نامہ سیاہ کی تیرگی قرار پاتی تھی، ان کی اپنی زلف تک پہنچتی ہے تو حسن بن جاتی ہے۔
مکافات عمل کا ایک سونامی ہے
تحریر:آصف محمود 
بشکریہ:انڈپینڈنٹ اردو


تحریک انصاف حکومت کے ساتھ وہی کر رہی ہے جو بچہ اپنے پہلے کھلونے کے ساتھ کرتا ہے۔ حیرت سے دیکھتا ہے، تجسس سے چھوتا ہے، آواز سے ڈر جاتا ہے، روشنیاں پھوٹتی ہیں تو تالیاں پیٹنے لگتا ہے، قہقہے لگاتا ہے، اچھلتا ہے، کودتا ہے اور لوٹ پوٹ ہو جاتا ہے۔

شہر یار آفریدی اس وقت امریکہ کے محاذ پر داد شجاعت دے رہے ہیں۔ چلنے کا انداز ایسا با رعب ہے جیسے امریکی ایئرپورٹ اتھارٹیز کے قبضے سے منشیات بر آمد کر کے نکلے ہوں یا جیسے ہرکولیس کسی مفتوحہ قلعے کی فصیلوں کا معائنہ کر رہا ہو۔ وہ اس بات سے بے نیاز ہیں کہ کشمیر کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے ان کا رویہ کیسا ہونا چاہیے۔ سفارتی آداب کو بھی شاید وہ حزب اختلاف کی شرارت سمجھ کر نظر انداز کیے بیٹھے ہیں۔ جان انہوں نے اللہ کو دینی ہے اور قصیدہ انہوں نے عمران کا کہنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس طرح کا رواں تبصرہ وہ امریکہ میں فرما رہے ہیں  ایسا ہی حسن سلوک اسلام آباد اایئرپورٹ سے نکل کر کوئی مہمان ہمارے ساتھ کر ے تو ہمیں کیسا لگے؟

ایک عمران اسماعیل ہیں، کراچی کا سمندر جن کا سہرا کہتا ہے۔ گلو گیر لہجے میں انہوں نے قوم کی رہنمائی کی کہ راشد منہاس شہید کی بیوہ نے آج تک شادی نہیں کی۔ امکانی سیاسی بیوگی سے شاید وہ اتنا گھبرا چکے ہیں کہ ایسے قومی ہیرو کی بیوہ تلاش کر لی جس کی کبھی شادی ہی نہیں ہوئی تھی اور جو صرف 20 سال کی عمر میں شہید ہو گیا تھا۔

علم و فضل کی مالاگویا ٹوٹ گئی ہے اور دانش کے موتی ایک ایک کر کے گر رہے ہیں۔ جرمنی اور جاپان کی اب مشترکہ سرحد ہے اور امریکی جاہلوں کو یہ بھی علم نہیں کہ حقانی افغانستان کا ایک قبیلہ ہے۔ ہیلی کاپٹر کا سفر اب اتنا سستا ہو گیا ہے کہ وہ صرف 55  روپے میں ایک کلومیٹر کا سفر کر لیا جاتا ہے۔ احتساب اور شواہد کی بھول بھلیوں سے قوم کو نجات مل چکی ہے کہ برہان تازہ اب یہ ہے جب پٹرول بجلی کی قیمتیں بڑھ جائیں تو سمجھو وزیر اعظم چور ہے۔  لوگ اپنے  یوٹیلٹی بلوں کو دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ بھاگوان جیسا بھی ہے یہ کیا کم ہے کہ جھوٹ نہیں بولتا۔

چیف الیکشن کمشنر کا انتخاب خود وزیر اعظم نے کیا تھا اور اب اعظم سواتی صاحب کھڑے رجز پڑھ رہے ہیں  کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کس طرح ہوئی، مجھے سب پتہ ہے۔ میرے جیسا عامی حیران ہے کہ ’ون ملین ڈالر مین‘ نے عدم اعتماد کا اظہار چیف الیکشن کمشنر پر کیا ہے یا جناب وزیر اعظم پر؟ الیکشن کمیشن بھی سہما پڑا ہو گا کہ جو رجل رشید ایک ملین ڈالر کا جعلی نوٹ عطیہ کر سکتا ہے وہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے کیا کچھ برآمد نہیں کر سکتا۔

کابینہ کا عالم یہ ہے کہ 28 میں سے 21 لوگ دوسری جماعتوں سے لیے گئے ہیں اور ان کی اکثریت سابق ادوار میں بھی عہدوں سے لطف اندوز ہو چکی لیکن قوم کی رہنمائی فرمائی جاتی ہے کہ یہ سارا ستیا ناس پچھلی حکومتوں نے کیا تھا، ہم تو بے قصور ہیں۔  ابھی آدمی فیصلہ نہیں کر پاتا کہ یہ سن کر ہنسے یا روئے کہ نئی منادی ہوتی ہے، ہم تھوڑے ناتجربہ کار تھے، سب ٹھیک ہو جائے گا، بس آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

بندہ پروری دیکھیے، وزیر خزانہ انکشاف فرماتے ہیں کہ ایف بی آر کا نظام سات روز تک بھارتی ہیکرز نے ہیک کر کے رکھا اور ساتھ ہی تسلی دیتے ہیں ’ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔‘ اس دور حکومت میں ویسے تو ہر کام معلوم انسانی تاریخ میں  پہلی بار ہو رہا ہے، یہ واحد کام ہے جس کی بابت کہا گیا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ پہلے روپیہ مصنوعی طور پر مستحکم ہوتا تھا، اب قوم کو بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے قدرتی طور پر اس کی کمر توڑ دی ہے۔

دیانت کے معیار بدل گئے ہیں۔ تاجر اب برف کا باٹ لیے دھوپ میں بیٹھتے ہیں۔ وہ وقت گئے جب توشہ خانے سے چیزیں خرید لینے پر پگڑی اچھلتی تھی ۔ جناب وزیر اعظم کو غیر ملکی دوروں پر ملنے والے تحائف اب قومی راز قرار دیے جا چکے ہیں ۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے فاش ہونے سے قوم کی عزت کو خطرات ہیں۔قوم حیرت میں ہے کہ جناب وزیر اعظم ایسے کون سے تحفے لے آئے جن کے صرف تذکرے سے ہی قومی عزت داؤ پر لگ سکتی ہے۔

انوکھے لاڈلے جذب و مستی میں ہیں۔ کوئی آواز لگاتا ہے، الیکشن کمیشن کو آگ لگا دینی چاہیے۔ کوئی بوٹ اٹھا کر ٹاک شو میں لے آتا ہے اور کوئی  لبوں کی ایک جنبش سے پی آئی اے کی کمر دہری کر دیتا ہے۔ کوئی ردیف قافیے ملا کر فقرے بازی کرتا اور داد طلب ہوتا ہے۔ کوئی مہنگائی کے فضائل بیان کرنے بیٹھ جاتا ہے اور کسی کا دعویٰ ہوتا ہے کہ مہنگائی ہے ہی نہیں۔

مکافات عمل کا ایک سونامی ہے جس نے ان کا گھر دیکھ لیا ہے۔ کرکٹ سے لے کر جنگلہ بس تک شاید ہی کوئی ایسی چیز بچی ہو جس پر انہوں نے تنقید کی ہو اور مکافات عمل نے وہی چیز طوق کی صورت ان کے گلے میں نہ لٹکا دی ہو۔ ہر وہ چیز جو دوسروں کے نامہ سیاہ کی تیرگی قرار پاتی تھی، ان کی اپنی زلف تک پہنچتی ہے تو حسن بن جاتی ہے۔

معیشت سے لے کر امور خارجہ تک ہر چیز بازیچہ اطفال بنا دی گئی ہے اور بانکے ہیں کہ صبح شام چنوتی دے رہے ہوتے ہیں: روک سکتے ہو تو روک لو۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcg7y9n3ak9q74.,0ra.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس