تاریخ شائع کریں2021 3 August گھنٹہ 17:41
خبر کا کوڈ : 513918

امریکی قبضے اور طالبان بربریت

دو سالوں کے دوران ایک مرتبہ پھر عام شہریوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2021ء کے پہلے تین مہینوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد ایک سال قبل کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھی۔
امریکی قبضے اور طالبان بربریت
امریکی اور نیٹو اتحادی افواج 20 سالہ افغان جنگ کے دوران افغانستان اور پاکستان میں سرحد کے دونوں اطراف 2 لاکھ 42 ہزار سے زائد انسانی جانیں قربان کرنے کے بعد افغانستان سے انخلا کر رہی ہیں۔ امریکہ جن طالبان کو شکست دینے افغانستان میں حملہ آور ہوا تھا وہ اب ایک مرتبہ پھر تیزی سے پورے ملک میں اپنا قبضہ جما رہے ہیں۔

’بی بی سی‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ”2001ء میں جب امریکی زیر قیادت فوجوں نے حملہ کیا تو طالبان اقتدار سے محروم ہو گئے تھے، جمہوری صدارتی انتخاب اور ایک نیا آئین تشکیل دیا گیا۔ تاہم طالبان نے طویل جنگ شروع کر دی، طالبان آہستہ آہستہ طاقت حاصل کرتے گئے اور مزید امریکی اور نیٹو افواج کو تنازعہ میں کھینچ لائے۔ اب جب امریکہ فوجی انخلا کر رہا ہے تو طالبان بھی اپنے بہت سے اضلاع پر دوبارہ قبضہ کر کے اپنے شرعی قوانین کا از سر نو نفاذ کر رہے ہیں۔“

ملک کے کچھ حصوں تک محدود رسائی کی وجہ سے اطلاعات کی تصدیق کرنا مشکل ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ طالبان موجودہ صورتحال میں نمایاں فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

تنازعہ میں سرحدکے آرپار مجموعی ہلاکتیں

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر پاک افغان سرحد کے دونوں اطراف 84 ہزار 191 طالبان جنگجو مارے گئے، جن میں سے 51 ہزار 191 افغانستان میں جبکہ 33 ہزارپاکستان میں مارے گئے، اس تنازعہ کے نتیجے میں 78 ہزار 314 عام شہری مارے گئے، جن میں سے 51 ہزار 613 افغان جبکہ 24 ہزار 358 پاکستانی شامل تھے، سویلین ہلاکتوں میں امدادی کارکنان، صحافی اور ٹھیکیدار بھی شامل ہیں، افغان و پاکستان ملٹری اور پولیس کے 75 ہزار 971 اہلکار ہلاک ہوئے، جن میں سے 69 ہزار افغانستان کے جبکہ 9 ہزار 314 پاکستان کے اہلکار و افسر شامل ہیں، اسی طرح اس 20 سالہ جنگ کے دوران 3 ہزار 586 امریکی اور اتحادی فوجی اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔

گزشتہ دو سالوں کے دوران ایک مرتبہ پھر عام شہریوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2021ء کے پہلے تین مہینوں میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کی تعداد ایک سال قبل کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھی، جبکہ 2020ء میں افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں خواتین اور بچوں کی 43 فیصد ہلاکتیں ہوئیں۔

لاکھوں افراد بے گھر اور غذائی بحران کا شکار

اس تنازعہ میں لاکھوں افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، لاکھوں افراد مشکلات اور بھوک کا شکار ہوئے، جبکہ بے شمار بے گھر ہوئے ہیں۔

گزشتہ سال 4 لاکھ سے زائد افراد اس تنازعہ کی وجہ سے بے گھر ہوئے، 2012ء کے بعد تقریباً 50 لاکھ افراد ملک سے فرار ہونے پر مجبور ہوئے اور واپس آبائی وطن جانے سے قاصر ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے مطابق افغانستان میں دنیا کی تیسری سب سے زیادہ بے گھر ہونے والی آبادی موجود ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق افغان شہری دنیا بھر میں مہاجرین کے اعداد و شمار میں تیسرے نمبر پر ہیں۔ سب سے زیادہ 6.7 ملین شام کے شہری ملک سے فرار ہوئے ہیں، وینزویلا سے 4 ملین، افغانستان سے 2.6 ملین، جنوبی سوڈان سے 2.2 ملین جبکہ میانمار سے 1.1 ملین افراد فرار ہونے پر مجبور ہوئے ہیں۔ افغان مہاجرین کی انتہائی کم تعداد واپس لوٹ رہی ہے اور صرف 2021ء میں اندرون ملک بے گھر ہونے والے شہریوں کی تعداد 2 لاکھ سے متجاوز ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کے باعث لاک ڈاؤن اور نقل و حرکت کی پابندیوں نے عام عوام خاص کر دیہی علاقوں کے عوام کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور کے مطابق 30 فیصد سے زائد آبادی کو ہنگامی صورتحال یا بحران کی سطح کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

خواتین کی تعلیم و روزگار کا مستقبل کیا ہو گا؟

افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد خواتین کے حقوق اور انکی تعلیم کے سلسلے میں کچھ پیشرفت دیکھنے میں آئی تھی۔ 1999ء میں افغانستان میں ایک بھی طالبہ سیکنڈری سکول میں داخل نہیں تھی اور صرف 9 ہزار بچیاں پرائمری سکولوں میں موجود تھیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 2003ء تک 2.4 ملین لڑکیاں سکول میں تھیں اور یہ تعداد اب 30 لاکھ 50 ہزار کے قریب ہے اور سرکاری اور نجی جامعات میں تقریباً ایک تہائی تعداد طالبات کی ہے۔ تاہم یونیسف کے مطابق اب بھی 3.7 ملین سے زائد بچے سکول نہیں جاتے اوران میں 60 فیصد سے زائد تعداد لڑکیوں کی ہے۔ یونیسف کے مطابق اس کی بنیادی وجہ افغان تنازعہ، تدریسی سہولیات کی کمی اور خواتین اساتذہ کی کمی ہے۔ 2017ء کے اعداد و شمار کے مطابق 2003ء تک صرف 6 فیصد طالبات سیکنڈری سکول میں زیر تعلیم تھیں، جبکہ 2017ء میں یہ تعداد بڑھ کر 39 فیصد تک پہنچ چکی تھی۔

طالبان بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اب لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت نہیں کرتے لیکن انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بہت کم طالبان عہدیدار اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں لڑکیوں کو بلوغت کی عمر میں سکول جانے کی اجازت دیتے ہیں۔

افغان خواتین اب عوامی زندگی میں بھی حصہ لے رہی ہیں، سیاسی عہدوں پر فائز ہیں اور کاروباری مواقع بھی حاصل کر رہی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق 5 فیصد افغان خواتین کالج یا یونیورسٹی تک پہنچ رہی ہیں، 22 فیصد خواتین نوکریاں کر رہی ہیں، سول سروس میں 20 فیصد تعداد خواتین کی ہے، 27 فیصد ایم پیز خواتین ہیں، جبکہ 1 ہزار خواتین 2019ء تک اپناکاروبار کر رہی تھیں۔ یہ تمام وہ سرگرمیاں ہیں جو طالبان کے دور اقتدار میں ممنوع تھیں۔

افغانستان کے آئین کے مطابق ایوان زیریں میں 27 فیصد نشستیں خواتین کیلئے لازمی قرار دی گئی ہیں اور 249 نشستوں میں سے 69 نشستوں پر خواتین ممبران پارلیمنٹ موجود ہیں۔ تاہم خواتین کے حوالے سے یہ صورتحال محض چند شہروں تک ہی محدود ہے جبکہ دیہی علاقوں میں خواتین کی زندگی انتہائی تلخ اور دشوار ہے۔

انفراسٹرکچر کے مسائل، عام زندگی میں تبدیلیاں

افغانستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ تک رسائی میں کسی حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں دیگر بہت سارے انفراسٹرکچر مسائل کے باوجود موبائل فون اور انٹرنیٹ تک رسائی بڑھ رہی ہے۔ جنوری 2021ء تک 8.6 ملین سے زائد افراد کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل تھی جو مجموعی آبادی کا تقریباً 22 فیصد ہیں، افغانستان میں اب لاکھوں افراد سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ 69 فیصد کے قریب لوگ موبائل فون استعمال کرتے ہیں، تاہم اقوام متحدہ کے مطابق موبائل سروس کی مسلسل بندش مواصلات کو متاثر کرتی رہتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں 27.5 فیصد آبادی کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے، 78 فیصد موبائل فون استعمال کرتے ہیں جبکہ 46 ملین سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 80 فیصد سے زائد بالغ افغان شہریوں کے پاس بینک اکاؤنٹ موجود نہیں ہے جو کم آمدنی والے ممالک کی اوسط سے بہت زیادہ ہے۔ 85 فیصد آبادی کے پاس بینک اکاؤنٹ نہیں، مرد آبادی کا 23 فیصد بینک اکاؤنٹ ہولڈر ہے جبکہ خواتین میں یہ تعداد 7 فیصد ہے۔ دوسری طرف پاکستان میں 21 فیصد افراد کے پاس بینک اکاؤنٹس ہیں، بھارت میں 80 فیصد جبکہ امریکہ میں 93 فیصد افراد بینک اکاؤنٹ کے مالک ہیں۔ عالمی بینک کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے علاوہ اس کی بنیادی وجہ مذہبی اور ثقافتی عقائد، مالیاتی شعبے پر عدم اعتماد اور مالی خواندگی کی کم شرح ہے۔ تاہم بینک کو توقع ہے کہ نئے منصوبوں سے آئندہ 5 سالوں میں بینک اکاؤنٹس کے مالک افغان بالغ افراد کی تعداد کو دوگنا کرنے میں مدد ملے گی۔

دارالحکومت کابل میں جہاں روایتی مکانات اور عمارتیں پہاڑیوں کے کناروں پر تعمیر کی جاتی تھیں وہاں گزشتہ 20 سالوں میں بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہو چکی ہیں۔

طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد کے برسوں میں کابل میں تیزی سے اربنائزیشن دیکھنے میں آئی، دیہی اضلاع سے بڑی تعداد میں لوگوں نے نقل مکانی کی اور 1990ء کی دہائی میں طالبان سے فرار ہو کر ایران اور پاکستان میں آباد ہونے والے افغانوں کی ایک بڑی تعداد بھی واپس آئی۔ تاہم بڑے شہروں میں تعمیر ہونے والی بلند و بالا عمارتوں کے ساتھ ساتھ شہروں کے کناروں پر جھونپڑیوں اور پناہ گزین کیمپوں کی تعداد میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ روزگار کے ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے جنگ زدہ دیہی علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کرنے والے افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔

امریکی انخلا کے بعد امریکی اور اتحادیوں کی امداد سے چلنے والے سروسز سیکٹر میں بھی ایک بحران سر اٹھا رہا ہے جس کی وجہ سے بیروزگاری میں بدتریج اضافہ ہو رہا ہے۔

پوست دیہی معیشت کا مرکز و محور

افغانستان آج بھی افیون کی پیداوار کا دنیا بھر میں سب سے بڑا مرکز ہے۔ برطانوی حکام کا اندازہ ہے کہ برطانیہ میں آنے والی تقریباً 95 فیصد ہیروئن افغانستان سے آتی ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 20 سالوں میں افغانستان میں پوست کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ملک کے 34 صوبوں میں سے صرف 12 صوبے ایسے ہیں جہاں پوست کاشت نہیں ہوتی۔

پوست کی کاشت کو ختم کرنے کیلئے مختلف پروگرام بھی ترتیب دیئے گئے، انار اور زعفران جیسی فصلوں کی کاشت پر کاشت کاروں کو خصوصی مراعات بھی دی گئیں لیکن افیون کے ساتھ جڑے عالمی سطح پر منافعوں نے پوست کی کاشت کا سلسلہ ختم نہیں ہونے دیا۔ طالبان اور دیگر گروہوں کیلئے ملٹی ملین ڈالر کی آمدنی کا بڑا ذریعہ پوست ہی ہے، پوست کے کاشتکار اکثر طالبان کو اپنی کمائی پر ٹیکس دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

سیاسی عدم استحکام، عدم تحفظ اور روزگار کے بہت کم مواقع کو پوست کی بڑھتی ہوئی پیداوار کے بنیادی محرک کے طو رپر دیکھا جاتا ہے۔

افغانستان میں زراعت کے علاوہ روزگار کا کوئی خاص ذریعہ موجود نہیں ہے، مائننگ نہ ہونے کے برابر ہے، انڈسٹریلائزیشن نہ ہونے کے برابر ہے، محض بڑے شہروں میں چند چھوٹے کارخانے اور فیکٹریاں موجود ہیں۔ گزشتہ 20 سالوں میں عالمی امداد اور اتحادی فوجوں اور شہریوں کی موجودگی کی وجہ سے ایک سروسز سیکٹر قائم ہوا تھا جو امریکی انخلا کے بعد آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے بیروزگاری میں لامتناعی اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری طرف طالبان کی پیش قدمی افغان شہریوں میں مستقبل کے خدشات کو پیدا کئے ہوئے ہے۔
http://www.taghribnews.com/vdcgqw9n7ak9qy4.,0ra.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس