تاریخ شائع کریں2021 25 July گھنٹہ 18:46
خبر کا کوڈ : 512859

عراق اور امریکہ میں اسٹریٹجک مذاکرات کے نئے دور کا آغاز

غداد اور واشنگٹن کے درمیان بہت وسیع تعلقات استوار ہیں، کہا: "عراق کی سکیورٹی فورسز بدستور فوجی ٹریننگ اور سازوسامان اور اسلحہ کیلئے امریکہ کی محتاج ہیں۔" ان کے اس موقف کے خلاف مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے۔
عراق اور امریکہ میں اسٹریٹجک مذاکرات کے نئے دور کا آغاز
تحریر: رامین حسین آبادیان
بشکریہ:اسلام ٹائمز

 
عراق اور امریکہ میں اسٹریٹجک مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ ان مذاکرات کا بنیادی ایجنڈہ عراق سے امریکہ کے فوجی انخلاء کا ٹائم ٹیبل واضح کرنا ہے۔ مذاکرات شروع ہونے کے ساتھ ساتھ عراق میں اسلامی مزاحمتی کے گروہوں اور مختلف شخصیات نے اپنے ملک سے امریکی فوجیوں کے جلد از جلد انخلاء پر زور دیا ہے۔ اس بارے میں قومی حکمت پارٹی کے سربراہ سید عمار حکیم نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر پیغام دیتے ہوئے لکھا: "ہم سب واشنگٹن میں امریکی حکام کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات میں مصروف اپنی مذاکراتی ٹیم پر اعتماد کرتے ہیں۔" انہوں نے مزید لکھا: "ہمیں امید ہے کہ یہ مذاکراتی ٹیم اپنی مہارت اور تجربے کو بروئے کار لا کر قومی مفادات کے تحفظ کو اپنا نصب العین بنائے گی۔"
 
دوسری طرف اسلامی مزاحمتی گروہوں کی کوآرڈینیشن کمیٹی نے بھی ان مذاکرات کے بارے میں ایک بیانیہ جاری کیا ہے جس میں اس بات پر تاکید کی گئی ہے کہ تمام اسلامی مزاحمتی گروہ اس بات پر اتفاق رائے رکھتے ہیں کہ امریکی فوجیوں کو جلد از جلد عراقی سرزمین ترک کر دینی چاہئے۔ اس بیانیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسلامی مزاحمت ہر گز امریکی فوجیوں کو اپنی سرزمین پر مزید موجود رہنے کی اجازت نہیں دے گی۔ اسلامی مزاحمتی گروہوں کی کوآرڈینیشن کمیٹی نے اپنے بیانیے میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ عراق میں موجود امریکی فورسز اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے دفاع اور اسلامی مزاحمتی گروہوں کی جاسوسی کیلئے یہاں موجود ہیں۔ اسی طرح امریکی فوجیوں کے مکمل انخلاء پر زور دیا گیا ہے۔
 
عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے بھی حال ہی میں امریکہ اور عراق کے درمیان شروع ہونے والے اسٹریٹجک مذاکرات کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بغداد اور واشنگٹن کے درمیان بہت وسیع تعلقات استوار ہیں، کہا: "عراق کی سکیورٹی فورسز بدستور فوجی ٹریننگ اور سازوسامان اور اسلحہ کیلئے امریکہ کی محتاج ہیں۔" ان کے اس موقف کے خلاف مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ اسلامی مزاحمتی گروہ "عصائب اہل الحق" کے سیکرٹری جنرل قیس خز علی نے اس بارے میں کہا: "عراقی وزیر خارجہ کا یہ بیان کہ عراقی سکیورٹی فورسز بدستور امریکی فوجیوں کی مدد کی محتاج ہیں، انتہائی افسوسناک ہے۔"
 
قیس خز علی نے مزید کہا: "عراقی وزیر خارجہ کا یہ موقف ہمارے اور ہر ایسے عراقی شہری کی نظر میں ناقابل قبول ہے جو اپنی سکیورٹی فورسز پر فخر کرتا ہے۔ وزیر خارجہ کا یہ بیان ہماری آرمی، فیڈرل پولیس، حشد الشعبی، اینٹی ٹیروریزم فورسز اور دیگر قوتوں کی ان صلاحیتوں اور تجربے کی عکاسی نہیں کرتا جن کے بل بوتے پر انہوں نے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو شکست دی ہے۔" اسی طرح ایک اور اسلامی مزاحمتی گروہ "النجباء" کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نصر الشمری نے اس بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا: "وزیر خارجہ کا بیان قابل افسوس ہے۔ ان کا یہ موقف امریکی خواہش کے مطابق ہے جو کسی نہ کسی بہانے سے عراق میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے درپے ہے۔ امریکی فوجی ہمارے قدرتی وسائل کی لوٹ مار کیلئے یہاں ہیں۔"
 
نصر الشمری نے مزید کہا: "اس قسم کے بیانات عراق کی سکیورٹی فورسز اور ان کی صلاحیتوں کی توہین ہے۔ عراقی سکیورٹی فورسز اپنی توانائیوں اور صلاحیتوں کے باعث ہر قسم کے اندرونی اور بیرونی خطرے کے مقابلے میں ملک کی حفاظت کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔" اس میں کوئی شک نہیں کہ عراق اور امریکہ میں جاری اسٹریٹجک مذاکرات کا نتیجہ عراق سے جلد از جلد امریکی فوجیوں کے انخلاء کی صورت میں ظاہر ہونا چاہئے۔ عراق کے تمام اسلامی مزاحمتی گروہ اور وطن سے مخلص شخصیات اسی بات پر زور دے رہے ہیں۔ لہذا عراق کی سیاسی اور مذہبی شخصیات اور سیاسی پارٹیوں کی اکثریت حالیہ مذاکرات سے صرف ایک ہی نتیجے کی توقع کر رہے ہیں اور وہ ملک سے امریکہ کا فوجی انخلاء ہے۔
 
واشنگٹن اور بغداد میں جاری اسٹریٹجک مذاکرات سے متعلق ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکی حکام ان مذاکرات کے ذریعے اپنے لئے وقت خریدنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکام وقت ضائع کر کے عراقی پارلیمنٹ میں عراق سے امریکی فوجیوں کے جلد از جلد انخلاء پر مشتمل منظور شدہ بل کو غیر موثر بنانا چاہتے ہیں۔ یہ وہی مسئلہ ہے جس کے بارے میں عراق کے اراکین پارلیمنٹ نے شدید پریشانی کا اظہار کیا ہے۔ بہرحال، اس وقت عراقی معاشرے کا سب سے بڑا مطالبہ ملک سے امریکی فوجیوں کا انخلاء ہے اور وہ بغداد اور واشنگٹن میں جاری اسٹریٹجک مذاکرات سے بھی اسی نتیجے کی توقع کر رہے ہیں۔ دوسری طرف عراق کے اسلامی مزاحمتی گروہوں نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے فوجی انخلاء کو ملتوی کیا تو امریکی فوجیوں کے خلاف مسلح کاروائیاں تیز کر دی جائیں گی۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcji8eihuqevoz.3lfu.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس