تاریخ شائع کریں2021 24 July گھنٹہ 20:02
خبر کا کوڈ : 512734

فرانسیسی پارلیمنٹ نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے کالے قانون کی منظوری

اس قانون میں ’خفیہ طور پر چلائے جانے والے‘ سکولوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جو اسلام پسند نظریات کو فروغ دیتے ہیں اس کے علاوہ گھروں پر سکولنگ کی کڑی نگرانی شامل کی گئی ہے۔ جبکہ اس بل کے تحت حکومت کسی بھی اسلامک پرائیویٹ ادارے کو بند کرنے کی مجاذ ہوگی۔
فرانسیسی پارلیمنٹ نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے کالے قانون کی منظوری
بشکریہ:شفقنا اردو

ایک ماہ کی مسلسل بحث و تمحیص کے بعد فرانسیسی پارلیمنٹ نے مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے کالے قانون کی منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کی منظوری سے فرانس بربریت اور ظلم کے ایک قدم مزید قریب ہو گیا ہے۔ اکتوبر 2020 میں فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کی جانب سے یہ علیحدگی پسند بل پیش کیے جانے کے بعد اور پھر کئی مہینوں کی بحث کے بعد بالاخر اس بل کی منظوری دے دی گئی ہے۔علیحدگی پسندی کے اس بل کے بارے میں فرانسیسی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بل اسلامی انتہا پسندی کے خلاف ایک بہترین بل ہے ۔ اس بل کو قانون بننے کے لیے ابھی آئینی کونسل کے پاس بھیجا جانا باقی ہے۔ بہت سارے فرانسیسی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون ان کی مذہبی آزادی کو ختم کر دے گا اور ان کو غیر منصفانہ طریقے سے نشانہ بنایا جائےگا۔
یہ بل فرانسیسی مسلمانوں کو کیسے متاثر کرے گا؟

یہ بل درحقیقت ایک عاجز مسلمان کمیونٹی پیدا کرنا چاہتا ہے اور فرانس کو ایک غاصب ریاست بنانا چاہتا ہے۔ یہ بل حکومت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی بھی تنظیم کو ختم کر سکے۔ 2021 میں فرانسیسی حکومت نے اسی بل کا استعمال کرتے ہوئے دو مسلمان این جی اوز کو ختم کر دیا تھا ۔ جب اس بل کے تحت ثقافتی تعلقات بھی سخت انتظامی کنٹرول میں ہوں گے۔  وہ تنظیمیں جو حکومتی فنڈز حاصل کرنا چاہیں گی انہیں ری پبلکن معاہدے پر دستخط کرنا ہوگے اور اس کی شرائط و ضوابط کا پابند رہنا ہوگا جو کہ درحقیقت ریاستی نظریے کے سامنے سر جھکانا ہاے۔اس بل میں فرانس کے سیکولرزم کے وژن کو جس کے تحت کسی بھی سرکاری ملازم کے لیے سیاسی، فلاسفی اور مذہبی غیر جانبداری ضروری ہے، کو بھی مضبوط بنایا گیا ہے تاہم اب یہ شرائط ان لوگوں پر بھی لاگو ہوں گی جو کہ سرکاری ملازمین نہیں ہیں۔ جبکہ ایسے لوگ جو کہ غیر سرکاری لوگ ہیں مگر سرکاری اداروں کے ساتھ وابستہ ہیں جسیے ٹرین ڈرائیور، ہیلتھ کئیر ورکرز یا دیگر افراد پر بھی لاگو ہوں گے۔

اس قانون میں ’خفیہ طور پر چلائے جانے والے‘ سکولوں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جو اسلام پسند نظریات کو فروغ دیتے ہیں اس کے علاوہ گھروں پر سکولنگ کی کڑی نگرانی شامل کی گئی ہے۔ جبکہ اس بل کے تحت حکومت کسی بھی اسلامک پرائیویٹ ادارے کو بند کرنے کی مجاذ ہوگی۔ اس بل کے ذریعے ازدواجی تعلقات کی بنیاد پر رہائشی پرمٹ حاصل کرنے والوں پر پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔ لڑکیوں کے کنوارے پن کے ٹیسٹ کروانے پر ڈاکٹروں کو جرمانہ یا ان پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔ یہ بل ہوم سکولنگ پر بھی پابندی عائد کرتا ہے اور والدین سے یہ آزادی بھی چھینتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنی مرضی کے سکولوں میں بھیج سکیں ۔ والدین کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ پبلک سیکولر ایجوکیشن سسٹم میں اپنے بچوں کو داخل کرائیں اور ان پر حجاب کی بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

اس طرح فرانسیسی حکومت حقیقت میں اسلام کو کمزور بنا کر سیکولر فلسفے کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ واضح طور پر اسلاموفوبیا سے بچنے کے لیے یہ بل اسلام یا مسلمان کا لفظ استعمال نہیں کرتا جیسا کہ میکرون نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ ہمیں جس چیز پر قابو پانے کی ضرورت ہے وہ اسلام علاحدگی پسندی ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس بل کا نشانہ اسلام اور مسلمان ہیں۔  اگر آئینی کونسل کا حوالہ دیا جائے تو اس بل کی بعض شقیں جیسا کہ ہوم سکولنگ کو ختم کیا جاسکتا ہے اور اس سے بل کا مقصد بھی باقی رہے گا۔

فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ ڈارامنین نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ‘ہمارا ملک علیحدگی پسندی سے دوچار ہے سب سے زیادہ مذہبی انتہا پسندی سے کیونکہ وہ ہمارے قومی اتحاد کو نقصان پہنچا رہی ہے’۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بیماری کو کیا کہنا ہے آپ کو دوا تلاش کرنی ہوگی۔  وزیر داخلہ نے کہا کہ بل کا متن مذاہب سے مقابلہ نہیں کرتا ہے بلکہ اسلام پسندوں کے قبضے کی کوشش کے خلاف ہے۔ علاوہ ازیں ایک سے زائد شادیاں فرانس میں پہلے ہی کالعدم ہے لیکن نیا قانون درخواست دہندگان کو رہائش گاہ کے کاغذات جاری کرنے پر بھی پابندی عائد کرے گا۔ خیال رہے کہ فرانسیسی صدر اسلام اور مسلمان مخالف بیانات کے باعث متعدد مسلم ممالک میں متنازع حیثیت کے طور پر دیکھے جاتے ہیں۔

ان شقوں کی بنا پر نئے قانون پر اس لیے بہت زیادہ تنقید کی جا رہی تھی اور اب بھی کی جا رہی ہے کہ یہ مسلمانوں کو ایک مذہبی اور سماجی برادری کے طور پر بالکل الگ تھلگ کر دیتا ہے۔ اس قانون کے تحت فرانسیسی ریاست کو ایسے نئے وسیع تر اختیارات مل جائیں گے، جن کی مدد سے مسلمانوں کی اظہار رائے کی آزادی بھی متاثر ہو سکتی ہے اور ان کی نمائندہ مذہبی تنظیموں کی سرگرمیوں کو بھی محدود کیا جا سکتا ہے۔

.واضح رہے کہ اسی سال فرانسیسی صدر نے اسلام کو ایسا مذہب قرار دیا تھا جو ‘بحران میں ہے’ اور ان جریدوں کا دفاع کیا تھا جو پیغمبرِ اسلام کے خاکے شائع کرتے ہیں۔ ان بیانات کے بعد فرانسیسی صدر کے خلاف مسلم اکثریتی ممالک میں شدید تنقید کی گئی تھی اور کئی ممالک میں مظاہرین نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔  فرانس میں ریاستی سیکولرزم (لئی ستے) ملکی شناخت کا مرکزی جزو ہے اور عوامی مقامات اور سکولوں میں آزادی اظہار رائے بھی اسی کا حصہ ہے۔ مغربی یورپی ممالک میں سب سے زیادہ مسلمان فرانس میں رہتے ہیں۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcbf5bsarhb8zp.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس