تاریخ شائع کریں2021 18 June گھنٹہ 19:21
خبر کا کوڈ : 508306

تحریک انصاف کی حکومت کا بجٹ

وہ 8۔4 فیصد ٹارگٹ کو عوام ترقیاتی سکیموں میں بے بہا خرچ کر کے پورا کرے۔ اس سال حکومت نے ترقیاتی فنڈز کی مد میں 90 بلین ڈالر کی رقم مختص کی ہے۔ طلب کی بنیاد پر ہونے والی اس نمو کے ساتھ ساتھ افراط زر میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت کا بجٹ
بشکریہ:شفقنا اردو

چونکہ حکومت کا تمام تر ریونیو اور ذرائع ملک کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کافی نہیں ہورہے جس کی بڑی وجہ اخراجات میں 15 فیصد اضافہ ہے یعنی یہ اخراجات حالیہ مالی سال میں 49۔8 ٹریلین روپے پر جا پہنچے ہیں  اس لیے حکومت کوشش کر رہی ہے کہ وہ 8۔4 فیصد ٹارگٹ کو عوام ترقیاتی سکیموں میں بے بہا خرچ کر کے پورا کرے۔ اس سال حکومت نے ترقیاتی فنڈز کی مد میں 90 بلین ڈالر کی رقم مختص کی ہے۔ طلب کی بنیاد پر ہونے والی اس نمو کے ساتھ ساتھ افراط زر میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ تو کیا ہم اس سے یہ اندازہ لگا لیں کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے یا حکومت کو اس بات کا احساس ہے کہ انہیں ایک مشکل ٹاسک کا سامنا ہے اس لیے وہ اس کے لیے نئے طریقے یا پرانے طریقوں میں بہتری لانے کا فیصلہ کر چکی ہے؟

سرمایہ کاری پر مرتب اثرات

دوسرا حکومت کی جانب سے مقامی بنکوں سے بے تحاشا قرض نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے گا جس کو بجٹ میں ماضی کی طرح مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ یہ بات اہمیت نہیں رکھتی کہ حکومت خصوصی سکیموں مثلا کامیاب جوان پروگرام وغیرہ کے ذریعے نوکریوں کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان کا سرمایہ کاری کا جی ڈی پی کے ساتھ تناسب خطے میں سب سے کم ہے۔ خاص طور پر مقامی ترقی نوکریوں اور معاشی نمو کے لیے بہت ضروری ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کو نوجوانوں کو مکمل روزگار کی فراہمی کے لیے 6 سے 8 فیصد تک معاشی نمو درکار ہے۔ دیگر ماہرین بجی مقامی وینچرز کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ حکومت یہ چاہتی ہے کہ ہم اس بات پر یقین کر لیں کہ عوامی ترقیاتی سکیموں پر خرچ اور نوکریوں کی تخلیق معاشی ترقی کا رستہ ہیں۔حکومت یہ بات لوگوں کو باور کرانا چاہتی ہے کہ اس طرح کے اخراجات چاہے کیسے ہی بے ربط ہوں معیشت اور عوامی فلاح کے لیے بہترین ہیں۔ اگر چہ ماضی میں ایسا ہوچکا ہے کہ ان منصوبوں پر ایک بڑی رقم خرچ کرنے کے بعد بھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تاہم اس کو پھر بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا جاسکتا۔

بلاشبہ حکومتی اخراجات ایک ویلفیر ماڈل کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور اس طرح کے ماڈل کے مثبت نتائج کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ مثال کے طور پر 1930 کے عظیم قحط یا بحران کے دوران ریاستیں اپنے شہریوں کے بچاؤ کے لیے آگے آئیں ، اسی طرح مارشل منصوبے کے ذریعے دوسری جنگ عظیم کے بعد جب امریکہ نے یورپین ممالک کو براہ راست فنڈنگ شروع کی کہ وہ اپنی معیشتوں کو سہارا دے کر انہیں مضبوط بنا سکیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ امداد تیسرے ردجے کے ممالک بشمول پاکستان کو بھی دی گئی مگر بجائے اس کہ وہ اپنی معیشت کو درست کرتے وہ بین الاقوامی امداد پر انحصار کرنا شروع ہوگئے۔

حکومتی اخراجات کی بنیاد پر نمو

یہ ممکن ہے کہ حکومت کی جانب سے خرچ میں اضافہ اور ٹیکسز میں اضافہ مختلف وجوہات کی بنا پر جی ڈی پی گروتھ کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر حکومتی خرچ بے روزگاروں کو نوکریوں کے حصول میں مدد دیتا ہے تو لوگوں کے پاس خرچ کے لیے رقم میں اضافہ ہوگا جس سے مشترکہ طلب میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔ تاہم حکومت کی بہت سارے سماجی خرچ مالی اور تجارتی خسارے کی رو میں چلیں گے جس کا نتیجہ مزید قرضوں کی صورت میں نکل سکتا ہے اور خاص کر اگر ریونیو کے متبادل ذرائع نہ تلاش کیے گئے تو۔

مداخلت پسند بجٹ

اگر ماضی میں جائیں تو مشرف عہد کی پالیسیز خالصتا نمو اور ٹرکل ڈاؤن ایفیکٹ پر مشتمل تھی، اگر پی پی پی اور پی ٹی آئی کے سابقہ بجٹس پر نگاہ دوڑائی جائے تو وہ سب حالیہ بجٹ سے کہیں پیچھے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر خطی آئینے میں دیکھا جائے تو ہم اس کو عوام مرکز کہہ سکتے ہیں جس میں مشترکہ نمو کا منصوبہ پسے ہوئے طبقے کو بھی فائدہ دے سکتا ہے اور اس کے لیے ٹرکل ڈاؤن ایفیکٹ کی بھی چنداں ضرورت نہیں۔ میرے خیال میں اس طرح کی مداخلت پسند اپروچ وقت کی ضرورت ہے اورمستقبل میں ایک قابل تعریف روڈ میپ ہے جو پاکستان کو ایک ویلفیر ریاست میں تبدیل کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتا ہے۔  پس یہ نیا بجٹ پسے ہوئے طبقے بشمول اقلیتوں کو مدد دینے اور ان کو اوپر لانے میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتا۔ اس طرح پاکستان کو امید کی ایک نئی کرن نظر آسکتی ہے۔

نچلے طبقے تک ثمرات: پاکستان مزید انتطار نہیں کر سکتا

فری مارکیٹ بہترین کام کر سکتی ہیں اور نچلے طبقے تک ثمرات نئی نوکریوں کی تخلیق اور ملازمت کے عمل کے حصول میں فری مارکیٹس بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ تاہم وزیر خزانہ شوکت ترین کے مطابق پاکستان جیسے ملک کو نچلے طبقے تک ثمرات کی کی منتقلی کے لیے کم از کم بیس سال مسلسل معاشی نمو کی بلا رکاوٹ ضرورت ہے۔ تحریک انصاف کے اس ضمن میں بعض اقدامات قابل تعریف ہیں اور ورلڈ بینک نے بھی پاکستانی حکومت کے احساس پروگرام کو دنیا کے صف اول پروگراموں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ یہ بات قابل افسوس ہے کہ ایوب کے دور میں 22 امیر خاندانوں کو مزید مراعات دے کر امیر کیا گیا او ریہ سمجھا گیا کہ اس کے اثرات نچلے طبقے تک جائیں گے مگر ایسا نہ ہوا۔

اس بجٹ میں احساس پروگرام کے لیے 260 بلین روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر بھی کوئی ٹیکس نہیں لگایاگیا اور ان کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ٹیکس کو ختم کرکے ننخواہوں میں اضافے سے عوام میں خوشحالی آئے گی اس طرح غریب عوام کو فائدہ ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت اگر چاہے تو آمدن کو ٹیکس کی زد میں لاسکتا ہے۔ حکومت خرید رسید نظام کے تحت ٹیکس کی رقم اکٹھی کر سکتی ہے ۔ اس طرح ٹیکسز میں ایک طرز کا اضافہ شوکت ترین نے بتایا ہے کہ انعامی سکیموں پر ٹیکس یں اضافہ کر دیا جائے ۔ 250 ملین کے قریب انعامات ہر ماہ رسید رکھنے والے افراد میں تقسیم کیے جائیں ، اس سے نہ صرف معیشت کو کاغذی شکل میں لانے بلکہ تین لاکھ 12 ہزار ٹیکس ادا کرنے والے بھی ٹیکس نیٹ میں آجائیں گے۔

اب ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت افراط زر اور مہنگائی پر کیسے قابو پائے گی جب کہ حکومت ٹارگٹڈ معاشی نمو کے حصول کے لیے بے بہا خرچ کرنے جا رہی ہے۔ باالفاظ دیگر مالی اور تجارتی خسارے میں اضافہ ہوگا تاوقتیکہ ٹیکس اور نان ٹیکس ریونیو ٹارگٹس حاصل ہوسکیں اور برآمدات کا حجم 30 بلین ڈالر تک نہ پہنچ جائیں۔ ترین کے مطابق مسلسل نمو کے لیے برآمدات کو جی ڈی پی کا 20 فیصد ہونا چاہے۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcbgwbs0rhbgfp.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس