تاریخ شائع کریں2021 16 June گھنٹہ 19:40
خبر کا کوڈ : 508110

انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے نئے چیف پراسیکیوٹر پاکستانی نژاد برطانوی وکیل کریم اسد احمد خان

بیرسٹر کریم 12 فروری 2021 کو نیویارک میں ہونے والے انتخابات میں آئرلینڈ، اٹلی اور سپین کے نمائندوں کو شکست دے کر آئی سی سی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خفیہ ووٹنگ کے ذریعے نئے چیف پراسیکیوٹر منتخب ہوئے ہیں۔
انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے نئے چیف پراسیکیوٹر پاکستانی نژاد برطانوی وکیل کریم اسد احمد خان
انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (عالمی فوجداری عدالت) کے نئے چیف پراسیکیوٹر پاکستانی نژاد برطانوی وکیل کریم اسد احمد خان ہیں اور انہیں یہ ذمہ داری نو سال کے لیے ملی ہے۔ کریم احمد خان عالمی فوجداری عدالت میں بطور وکیل استغاثہ کام کریں گے اور عالمی تنازعات میں ایک اہم کردار ادا کریں گے۔

 عہدہ سنبھالتے ہی انہیں جن اہم کیسز کا سامنا کرنا ہوگا ان میں سب سے اہم افغانستان اور اسرائیل میں ہونے والے جنگی جرائم کے حوالے سے کیسز ہیں۔

 امریکہ نے ان کیسز کی بارہا مخالفت کی ہے اور اب یہ بیرسٹر کریم اسد پر ہے کہ وہ بطور چیف پراسیکیوٹر کیسے ان کیسز کی پیروی کریں گے۔

بیرسٹر کریم 12 فروری 2021 کو نیویارک میں ہونے والے انتخابات میں آئرلینڈ، اٹلی اور سپین کے نمائندوں کو شکست دے کر آئی سی سی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خفیہ ووٹنگ کے ذریعے نئے چیف پراسیکیوٹر منتخب ہوئے ہیں۔ وہ گیمبیا سے تعلق رکھنے والی وکیل فیٹو بینسوڈا کی جگہ 16 جون سے نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

20 سال قبل قائم ہونے والی 123 رکنی عدالت جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم، نسل کشی اور جارحیت کے جرائم سے متعلق مقدمات پر فیصلہ کرتی ہے۔

بیرسٹر کریم آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر کے طور پر فرائض سنبھالنے سے قبل اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

 اقوام متحدہ نے ان کی سربراہی میں عراق میں داعش کی جانب سے کیے گئے جرائم کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی قائم کی تھی۔

کریم خان کی پیشہ ورانہ زندگی پر نظر دوڑائی جائے تو ان کا بین الاقوامی کریمنل لا کا کیریئر27 سال سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ انہیں ایک سخت گیر اور انتہائی زیرک وکیل کے طور پر جانا جاتا ہے۔

انہوں نے ایل ایل بی کی ڈگری کنگز کالج لندن سے حاصل کی اور پی ایچ ڈی کی ڈگری انٹرنیشنل اور کمپیرٹیو لا میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے حاصل کر رکھی ہے۔

 2018 میں انہوں نے چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف آربیٹریٹرز لندن سے انٹرنیشنل آربیٹریشن میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔ اس کے علاوہ بھی وہ متعدد ڈگریاں رکھتے ہیں۔

2017  سے وہ دی ہیگ میں قائم انٹرنیشل کریمنل کورٹ بار ایسوسی ایشن (آئی سی سی بی اے) میں بطور صدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ بین الاقوامی جرائم سے متعلق تقریباً تمام عالمی عدالتوں میں بطور پراسیکیوٹر، وکیل صفائی یا وکیل استغاثہ کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔

آئی سی سی میں ان کی کینیا، سوڈان اور لیبیا سے متعلق مقدمات میں بطور سربراہ وکیل صفائی خدمات کو بہت سراہا گیا تھا۔ انہوں نے لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کے مقدمے کی بھی پیروی کی تھی۔

برطانوی ماہر قانون بیرسٹر راشد اسلم نے کریم احمد خان کی ذاتی زندگی کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’چونکہ کریم احمد خان نہایت حساس مقدمات کے لیے کام کرتے رہے ہیں لہٰذا ان کی ذاتی زندگی اور خاندان سے متعلق معلومات میسر نہیں ہیں تاہم وہ اسلامی قوانین کے متعلق بہت زیادہ علم رکھتے ہیں اور اس بارے میں لیکچرز بھی دیتے رہے ہیں اور ان کا زیادہ تر اشاعتی کام بین الاقوامی کریمنل جسٹس اور انسانی حقوق سے متعلق ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ کریم اسد خان نے روانڈا کے انٹرنیشنل کریمنل ٹربیونل، سابق یوگوسلاویہ کے انٹرنیشنل ٹربیونل اور کورٹ آف کمبوڈیا کے ایکسٹرا آرڈینری چیمبر اور لبنان کے لیے بنائے گئے سپیشل ٹریبیونل کے لیے بھی خدمات انجام دی ہیں۔

آئی سی سی کے نئے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کے لیے اپنا نیا عہدہ سنبھالنے کے بعد سب سے اہم ذمہ داری 2014 میں غزہ کی پٹی اور اس کے نواحی علاقوں میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تصادم کے دوران ہونے والے جنگی جرائم اور افغانستان میں ہونے والے جنگی جرائم کی تفتیش ہوگی۔

کریم خان سے پہلے آئی سی سی کی سابق چیف پراسیکیوٹر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے والی فیٹو بینسوڈا کے عہدے سے برخاست ہونے کی ایک بڑی وجہ امریکہ کی جانب سے ان پر عائد کی گئی پابندیاں تھیں۔ فیٹو بینسوڈا پر یہ پابندیاں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی جانب سے کیے گئے مبینہ جنگی جرائم کی تفتییش کے آغاز کے بعد عائد کی گئی تھیں۔

 اسرائیل نے بھی ان پر الزام عائد کیا تھا کہ یہ تحقیقات کرکے ’آئی سی سی جمہوری ممالک کے اپنے دفاع کے حق کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔‘ خیال رہے کہ امریکہ، اسرائیل، چین اور روس آئی سی سی کو تسلیم نہیں کرتے۔
http://www.taghribnews.com/vdcezv8n7jh87zi.dqbj.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس