تاریخ شائع کریں2021 14 June گھنٹہ 22:12
خبر کا کوڈ : 507839

شام میں الھول مہاجر کیمپ سے داعش دہشت گرد عناصر عراق منتقل

امریکی حکام الھول مہاجر کیمپ سے تکفیری عناصر عراق منتقل کر کے ہمارے ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش تیار کر رہے ہیں۔ وہ دہشت گردی کو فروغ دے کر عراق میں اپنی فوجی موجودگی زیادہ عرصے تک برقرار رکھنے کے درپے ہیں۔
شام میں الھول مہاجر کیمپ سے داعش دہشت گرد عناصر عراق منتقل
تحریر: رامین حسین آبادیان
بشکریہ: اسلام ٹائمز

 
گذشتہ کچھ دنوں سے امریکہ کی جانب سے شام میں الھول مہاجر کیمپ سے داعش سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر عراق منتقل کر کے عراق میں داعش کی تشکیل نو سے متعلق چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں۔ یوں دکھائی دیتا ہے کہ جو بائیڈن کی مدت صدارت میں امریکہ عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو دوبارہ منظم اور سرگرم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس بارے میں عراق کے سکیورٹی تجزیہ کار امیر عبدالمنعم نے شام میں الھول مہاجر کیمپ سے داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر اور ان کے اہلخانہ کی عراق منتقلی کے بارے میں وارننگ دی ہے۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے عراق میں داعش کی تشکیل نو کی سازش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن الھول مہاجر کیمپ سے داعشی عناصر اور ان کے اہلخانہ کو عراق منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
 
امیر عبدالمنعم نے کہا کہ امریکہ نے عراق میں اس مقصد کیلئے مختلف علاقے زیر غور رکھے ہوئے ہیں جن میں سے ایک صوبہ نینوا کا شمالی علاقہ ہے۔ اس سے پہلے عراق میں داعش کے خلاف برسرپیکار عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی بھی الھول مہاجر کیمپ سے تکفیری دہشت گرد عناصر کی عراق ممکنہ واپسی کے بارے میں خبردار کر چکی ہے۔ حشد الشعبی کے کمانڈر عباس الزیدی نے عراق میں امریکہ کی مشکوک اور دشمنانہ سرگرمیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "امریکہ عراق میں دہشت گردی کو فروغ دے کر یہاں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کی سازش کر رہا ہے۔ امریکہ کا ایک منصوبہ شام میں الھول مہاجر کیمپ سے داعش سے وابستہ تکفیری دہشت گرد عناصر اور ان کے اہلخانہ کو عراق منتقل کرنے پر مبنی ہے۔"
 
عباس الزیدی نے مزید کہا: "حقیقت یہ ہے کہ امریکی حکام الھول مہاجر کیمپ سے تکفیری عناصر عراق منتقل کر کے ہمارے ملک میں بدامنی پھیلانے کی سازش تیار کر رہے ہیں۔ وہ دہشت گردی کو فروغ دے کر عراق میں اپنی فوجی موجودگی زیادہ عرصے تک برقرار رکھنے کے درپے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ امریکی حکمران اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ الھول مہاجر کیمپ میں داعش سے وابستہ عناصر اور ان کے اہلخانہ ایک ٹائم بم کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ بم کسی بھی وقت عراق آ کر پھٹ سکتا ہے۔ عراق کی کئی اہم شخصیات نے بھی اس بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ الھول مہاجر کیمپ میں مقیم افراد کی اکثریت تکفیری دہشت گرد عناصر پر مشتمل ہے اور ان کی ممکنہ عراق واپسی اس ملک میں داعش کے دوبارہ زندہ ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔
 
ان تمام تحفظات کے باوجود امریکی حکام عراقی حکومت پر الھول مہاجر کیمپ میں موجود افراد کو عراق واپس لانے کیلئے شدید دباو ڈال رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ الھول مہاجر کیمپ سے افراد کو عراق واپس لانے کا منصوبہ عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کو دوبارہ زندہ کرنے کی غرض سے انجام پا رہا ہے۔ اس منصوبے میں خاص طور پر عراق کے صوبوں کرکوک، الانبار اور نینوا کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکہ میں جو بائیڈن کے برسراقتدار آنے کے بعد عراق میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے بچے کھچے عناصر کی جانب سے دہشت گردانہ کاروائیوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد بھی داعش کے مردہ بدن میں دوبارہ جان ڈالنا ہے۔ امریکہ عراق میں داعش کی تشکیل نو پر مبنی اپنی سازش کی کامیابی کیلئے الھول مہاجر کیمپ میں موجود عناصر کی عراق منتقلی کو ضروری سمجھتا ہے۔
 
عراقی پارلیمنٹ کی سکیورٹی و دفاع کمیٹی کے رکن بدر الزیادی اس بارے میں کہتے ہیں: "یوں دکھائی دیتا ہے کہ عراقی حکومت امریکہ کی جانب سے مسلسل دباو ڈالے جانے کے بعد الھول مہاجر کیمپ سے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش سے وابستہ عناصر اور ان کے اہلخانہ کو عراق واپس لانے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کیلئے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے۔" مختلف ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراقی حکومت الھول مہاجر کیمپ میں موجود افراد کو موصل شہر کے علاقے الجدعہ منتقل کرنے پر راضی ہو چکی ہے۔ اس فیصلے نے سب سے زیادہ موصل شہر کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ عراق کے کئی رکن پارلیمنٹ بھی اس فیصلے پر اعتراض کر چکے ہیں۔
 
بدر الزیادی نے اس بارے میں تاکید کرتے ہوئے کہا: "عراقی حکومت کا الھول مہاجر کیمپ سے داعش سے وابستہ عناصر اور ان کے اہلخانہ کو الجدعہ منتقل کرنے کا فیصلہ ایک انتہائی خطرناک فیصلہ ہے۔ عراقی حکومت کا یہ فیصلہ ملک کی سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہونے کا باعث بن سکتا ہے اور بہت زیادہ مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔" انہوں نے مزید کہا: "یہ فیصلہ ملک بھر پر انتہائی ناگوار اثرات ظاہر ہونے کا باعث بنے گا۔" شام میں موجود الھول مہاجر کیمپ داعش کی نرسری قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وہاں موجود افراد کی اکثریت داعش سے وابستہ عناصر اور ان کے اہلخانہ پر مشتمل ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی عراق واپسی اس ملک میں داعش کے دوبارہ زندہ ہونے کا مقدمہ ثابت ہو گی۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcbfzbs9rhbgwp.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس