تاریخ شائع کریں2021 13 June گھنٹہ 20:57
خبر کا کوڈ : 507705

چاول پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان کوئی تنازع ہے؟

1987 میں اس نے امریکی ریاست ٹیکساس میں ’فارمز آف ٹیکساس‘ نامی کمپنی میں ملازمت شروع کر دی۔ یہ کمپنی 1990 میں رایس ٹیک انکارپوریشن بن گئی۔ یہ شخص ایک سو ملازمین پر مشتمل اس کمپنی کا سربراہ یا سی ای او بن گیا۔ اس وقت یہ کمپنی صرف چاول فروخت کرتی تھی۔
چاول پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان کوئی تنازع ہے؟
تحریر:وِشال شکلا
بشکریہ: بی بی سی اردو


یہ 1962 کی بات ہے۔ زراعت کے شعبے میں کام کرنے والا ایک کیمیکل انجنیئر برطانیہ سے امریکہ جاتا ہے۔ امریکی بازاروں میں گھومتے ہوئے اسے حیرت ہوئی کہ وہاں باسمتی چاول کیوں فروخت نہیں ہو رہا۔

امریکہ میں یہ صرف رستورانوں میں ہی کیوں ملتا ہے۔ یہ خیال اس شخص کے ذہن سے چپک کر رہ گیا جو لندن کے ریستورانوں میں اکثر باسمتی چاول کھاتا تھا، لیکن پھر وہ چاول کے بارے میں اپنے تحقیقی کام میں مشغول ہوگیا۔

1987 میں اس نے امریکی ریاست ٹیکساس میں ’فارمز آف ٹیکساس‘ نامی کمپنی میں ملازمت شروع کر دی۔ یہ کمپنی 1990 میں رایس ٹیک انکارپوریشن بن گئی۔ یہ شخص ایک سو ملازمین پر مشتمل اس کمپنی کا سربراہ یا سی ای او بن گیا۔ اس وقت یہ کمپنی صرف چاول فروخت کرتی تھی۔

رائس ٹیک سے وابستگی کے دوران اس شخص نے باسمتی اور ٹیکساس کے چاول کو ملا کر ’ٹیکسمتی‘ نامی چاول کے لمبے دانے کی ایک نئی قسم تیار کر ڈالی۔

اگرچہ یہ چاول باسمتی کے مقابلے کا نہیں تھا مگر چونکہ دوسرے ملکوں سے چاول درآمد کرنے کا چلن نہیں تھا اس لیے جلد ہی یہ قسم سپر مارکیٹوں میں دستیاب ہو گئی۔

رائس ٹیک کا پیدا کردہ چاول چار سے پانچ گنا زیادہ قیمت پر بِکنے لگا اور اس کی سالانہ فروحت 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ رائس ٹیک نے ٹیکسمتی چاول کو ’ایلیفینٹ‘، ’ٹِلڈا‘ اور ’لال قلعہ‘ برانڈز کے ناموں سے بیچنا شروع کر دیا۔ جامنی رنگ کے بعض ڈبوں پر تاج محل کی تصویر بھی ہوتی تھی۔ یہ اتنا کامیاب رہا کہ سی ای او نے رائس ٹیک کو ’چاول کا سٹاربکس‘ قرار دیا تھا۔

رائس ٹیک کو اس مقام تک لے جانے والے سی ای او کا نام رابن اینڈروز تھا۔ وہ نمود و نمائش کے شیدائی، جیگوار کی سواری کرنے اور چائے کے شوقین برطانوی تھے۔

اگرچہ یہ ایک عظیم کامیابی کی داستان ہے۔ مگر سنہ 1997 سے رائس ٹیک کا تنزل شروع ہو گیا۔ ہوا یہ کہ انھوں نے یو ایس پیٹنٹ اینڈ ٹریڈمارک آفس سے چاول کی اس دوغلی نسل کا پیٹنٹ یا اختراعی حق اپنے نام درج کروا لیا۔ انڈیا اور پاکستان نے اس کی مخالفت کی، جس کا نتیجہ انڈیا اور پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے حق میں نکلا۔

مگر انڈیا اور پاکستان جو سنہ 1947 تک ایک ہی خطہ تھے اب یہ ثابت کرنے میں لگ گئے کہ اصلی باسمتی پر ان کا حق ہے۔ اور یہ ہی سبب ہے کہ آج سنہ 2021 میں دونوں ہی باسمتی کا جی آئی ٹیگ اپنے نام کروانے پر جھگڑ رہے ہیں۔

جی آئی ٹیگ ہے کیا؟
انیسویں صدی میں بعض یورپی ممالک کو خیال آیا کہ وہ جو بہترین خوراک یا مشروبات تیار کرتے ہیں انھیں تحفظ حاصل ہونا چاہیے تاکہ ان کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا انھیں بنا یا فروخت نہ کر سکے۔ کئی دوسرے ملکوں نے بھی اس خیال کی تائید کی۔

بیسوی صدی میں فرانس وہ پہلا ملک تھا جس نے اس خیال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے جی آئی سسٹم متعارف کروایا اور اپنے ہاں تیار ہونے والی انگور کی شراب کو یہ سرٹیفیکیٹ جاری کیا۔ جی آئی سے مراد جیوگرافک اِنڈیکیشن ٹیگ (جغرافیائی اشاریہ کا نشان) ہے۔

اس سے پتا چلتا ہے کہ کوئی چیز کہاں بنائی گئی ہے اور یہ کہ یہ صورت اور ذائقے میں اصلی ہے۔ مثلاً سؤٹزلینڈ کا پنیر، فرانس کی وائن، کولمبیا کی کافی اور ڈارجلنگ کی چائے۔ یہ ایک طرح کا پیٹنٹ ہے۔

وقت کے ساتھ اس نظام میں پیشرفت ہوتی گئی۔ اب جی آئی ٹیگ ’ایگریمنٹ آن ٹریڈ ریلیٹڈ ایسپکٹس آف انٹلیکچوئل پراپرٹی رائٹس‘ (ٹی آر آئی پی ایس) کے تحت ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) جاری کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی دیسی مصنوعات کے لیے کئی ملکوں کا اپنا جی آئی ٹیگ کا نظام بھی ہے۔ رفتہ رفتہ بین الاقوامی جی آئی ٹیگ کے حصول سے پہلے کسی چیز کے لیے اندرون ملک جی آئی ٹیگ حاصل کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

اگر کوئی ملک جی آئی ٹیگ کے لیے درخواست دیتا ہے تو دوسرے ملکوں کے پاس اس پر اعتراض کے لیے تین ماہ کا وقت ہوتا ہے۔ اس مدت کے دوران اگر اعتراض سامنے آ جائے تو معاملہ ڈبلیو ٹی او کے پاس چلا جاتا ہے جو ٹی آر آئی پی ایس کے تحت کارروائی کر سکتی ہے۔

جی آئی ٹیگ کا مقصد آج بھی وہی ہے۔ یعنی اشیاء کا معیار برقرار رکھنا اور نقلی اشیاء کی فروخت روکنا، مصنوعات بنانے والوں کے مفادات کا تحفظ اور صارفین کے لیے معیاری چیزوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان جی آئی ٹیگ کا جھگڑا کہاں شروع ہوا؟
ہوا یہ کہ باسمتی چاول کے جی آئی ٹیگ کے لیے انڈیا نے یورپی یونین کو درخواست دی۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب یورپی یونین کے 11 ستمبر 2020 کے سرکاری جرنل میں اس کا ذکر آیا۔ جب جرنل شائع ہوا اس وقت تک یورپی یونین نے انڈین باسمتی کو ٹیگ جاری کرنے کا جائزہ لینا شروع کر دیا تھا۔

جب یہ خبر شائع ہوئی تو پاکستان میں ہلچل مچ گئی کیونکہ وہاں پر بھی باسمتی پیدا ہوتا ہے۔ انڈین باسمتی کو جی آئی ٹیگ ملنے کا مطلب ہوتا کہ انڈیا میں پیدا ہونے والا باسمتی چاول ہی اصلی قرار پاتا۔ ظاہر ہے کہ اس کا برا اثر پاکستانی باسمتی کی برآمدات پر پڑتا۔

اسی تناظر میں پاکستان نے پانچ اکتوبر سنہ 2020 کو انڈین دعوے کی مخالفت کا اعلان کر دیا۔ سات دسمبر 2020 کو پاکستان نے یورپی یونین کو انڈین دعوے کے خلاف نوٹس جاری کر دیا۔ پاکستان کا مسئلہ یہ تھا کہ اس وقت تک پاکستان میں جی آئی ٹیگ کا اندرونی نظام نہیں تھا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ یورپی یونین میں جی آئی ٹیگ کے لیے درخواست دینے سے پہلے ضروری ہے کہ اندرونِ ملک جی آئی ٹیگ حاصل کیا جائے۔

اس صورتحال میں پہلے سنہ 2020 میں جیوگرافیکل انڈیکیشن (رجسٹریشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ بنایا گیا۔ اس کے بعد 27 جنوری 2021 میں باسمتی کو جی آئی ٹیگ جاری کیا گیا۔ اس کے بعد پاکستان نے اپنے باسمتی چاول کے جی آئی ٹیگ کے لیے یورپی یونین کو درخواست دی۔ رائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان (آر ای اے پی) کے مطابق اس کی درخواست 5 مارچ سنہ 2021 کو قبول کی گئی۔

یورپی یونین کی ہدایات کے مطابق انڈیا اور پاکستان کو یہ مسئلہ چھ مئی تک آپس میں حل کرنا تھا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ انڈیا نے تین ماہ کی مزید مہلت طلب کی۔

مارچ سنہ 2021 میں انڈیا کے مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے لوک سبھا میں تحریری جواب میں کہا کہ انڈیا باسمتی کے لیے 19 ملکوں میں جی آئی سرٹیفیکیٹ حاصل کر چکا ہے۔ ان کے جواب کے مطابق انڈین باسمتی کو برطانیہ، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور کینیا میں جی آئی ٹیگ اور لوگو مل چکے ہیں۔

باسمتی جس پر دونوں ملک لڑ رہے ہیں آیا کہاں سے؟
زراعت کے سینیئر ماہر دیویندر شرما نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب انڈیا امریکہ میں رائس ٹیک کمپنی کے خلاف قانونی جنگ لڑ رہا تھا تو اس نے اپنے دعوے کے حق میں 50,000 صفحات پر مشتمل دستاویزات پیش کی تھیں۔ ان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ انڈیا میں باسمتی کی پیداوار سوہنی مہیوال کے زمانے سے چلی آ رہی ہے۔ یہ 18ویں صدی میں سندھ اور پنجاب میں جنم لینے والی محبت کی ایک داستان ہے۔

ماہرین لسانیات کا کہنا ہے کہ لفظ باسمتی، واس اور مایپ کا مرکب ہے۔ واس کے معنی 'مہک' اور مایپ کے معنی 'بہت گُتھے ہوئے' کے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ بعد میں یہ مایپ متی بن گیا جس سے چاول کا نام ’باسمتی‘ پڑ گیا۔ متی کے ایک معنی ملکہ بھی ہیں جس کے مطابق باسمتی کا مطلب 'خوشبو کی ملکہ' نکلتا ہے۔ آکسفرڈ ڈکشنری میں بھی لفظ 'باسمتی' درج ہے اور اس کے لفظی معنی 'خوشبو' یا 'مہک' کے ہیں۔

اگر تاریخی دستاویزات پر یقین کیا جائے تو انڈین سر زمین پر باسمتی کی کاشت صدیوں سے ہو رہی ہے۔ انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ وی پی سنگھ اپنی کتاب ’ایرومیٹک رائسز!‘ میں لکھتے ہیں کہ باسمتی کا تذکرہ اتھر وید میں بھی موجود ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ آثار قدیمہ میں اس کے شواہد ہڑپا اور موہنجوداڑو کی کھدائی میں ملے ہیں۔ یہ مقامات اب پاکستان کے صوبوں پنجاب اور سندھ میں ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ سنہ 1947 تک انڈیا اور پاکستان ایک ہی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جی آئی ٹیگ کے لیے انڈیا کی درخواست کے ساتھ لکھا گیا تھا کہ یہ پاکستانی ایما پر بھی ہے کیونکہ اس معاملے میں تنازع پیدا ہونے کا امکان تھا کیونکہ انڈین پنجاب سے صرف پانچ کلومیٹر دور یہ چاول صدیوں سے اگایا جا رہا ہے۔

باسمتمی انڈیا اور پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے؟
دلی کی جواہر لال یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے سابق پروفیسر اور تاریخ داں پُشپیش پنت دنیا بھر کے کھانوں اور غذاؤں پر سند مانے جاتے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے لیے باسمتی کی اہمیت کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں میں باسمتی کی پیداوار میں اضافہ کب ہوا اور اس کا استعمال کیا تھا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ سنہ 1990 سے جب اس کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ ہوا۔ اسی وقت پاکستان بھی چاول برآمد کر رہا تھا مگر اس میں اضافہ 1990 کے بعد ہوا۔

دنیا بھر میں چاول کی پیداوار اور استعمال کا 90 فیصد ایشیا میں ہوتا ہے۔ انڈیا دنیا میں چاول کی پیداوار میں دوسرے اور برآمد کرنے میں پہلے نمبر پر ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ عشرے کے دوران انڈیا نے دنیا بھر میں سب سے زیادہ چاول برآمد کیا ہے۔ اس دوران سنہ 1990 کے بعد سے پاکستان بھی چاول برآمد کرنے والے پانچ بڑے ممالک میں شامل رہا ہے۔

یہ ہی معاملہ باسمتی کا بھی ہے۔ دنیا میں باسمتی پیدا کرنے والے دو ہی ملک ہیں: انڈیا اور پاکستان۔ انڈیا دنیا کا 65 فیصد باسمتی برآمد کرتا ہے جب کہ باقی پاکستان سے جاتا ہے۔

سنہ 2019-20 میں انڈیا نے 44.5 لاکھ ٹن باسمتی برآمد کیا جس کی مالیت 31 ہزار کروڑ روپے تھی۔ جبکہ رواں سال فروری سے اپریل تک انڈیا نے 41.5 لاکھ ٹن باسمتی فروخت کیا جس کی قیمت 27 ہزار کروڑ روپے کے برابر ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان 2.2 بلین ڈالر کا چاول برآمد کرتا ہے۔ پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق پاکستان 800 ملین ڈالر سے ایک ارب ڈالر تک باسمتی برآمد کرتا ہے۔

ان اعداد و شمار میں جو اہم بات پوشید ہے وہ یہ کہ باسمتی دونوں ملکوں کی معیشت کے لیے اہم ہے۔ اور چونکہ منڈی میں ان کے مقابلے پر کوئی دوسرا ملک نہیں ہے اس لیے دونوں کے درمیان مقابلہ بھی سخت ہے۔

یہی سبب ہے کہ جی آئی ٹیگ کے لیے دونوں میں مقابلہ بھی سخت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو لاہور کی البرکت رائس مل کے شریک مالک غلام مرتضیٰ انڈیا کی درخواست پر یہ نہ کہتے کہ ’یہ ہم پر ایٹم بم گرانے کے مترادف ہے۔‘

باسمتی کے دلدادہ اس کے پکتے وقت اس کے لمبے دانے، خوشبو اور دانے کی انفرادیت کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔

بہرکیف حقیقت یہ ہے کہ لکھاری اپنے ذوق کے مطابق اپنے پسندیدہ چاولوں کی بڑھا چڑھا کر تعریف کرتے ہیں۔ مثلاً جب بھی چاول پکتا ہے تو اردگرد سب کو پتہ چل جاتا ہے، کھانے والوں کو اس کا الگ ذائقہ بھی محسوس ہوتا ہے یا پھر چاول کے صحت پر خصوصی اثرات بھی ہوتے ہیں۔ ماہرین باسمتی کی شہرت پر سوال بھی اٹھاتے ہیں۔

پشپیش پنت کا کہنا ہے کہ جی آئی ٹیگ اب بھی نرم انداز میں طاقت کے حصول کا معاملہ ہے مگر باسمتی بہت مہنگا چاول ہے۔

ویدک لٹریچر میں سلا چاول کو بہترین کوالٹی کا چاول قرار دیا گیا ہے۔ خیر چھتیس گڑھ میں زراعت سے متعلق ماہر دیویندر شرما کا کہنا ہے کہ ’انڈیا میں چاول کی 500 خوشبو والی اقسام ہیں لیکن ترجیح باسمتی کو دی جاتی ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو یہ جب اسے پکایا جاتا ہے تو یہ دیر تک رہتا اور دوسرے اس کی مارکیٹ اچھی ہے۔

’ملک کے مختلف حصوں میں بہت سے اچھے اقسام کے چاول اگائے جاتے ہیں اور کالا نمک ایک ایسا ہی حیرت انگیز چاول ہے۔ حکومت اور برآمدکنندگان کو بھی ان چاولوں کو فروغ دینا چاہیے۔ پبلک ڈسٹریبیوشن سسٹم (PDS) کے تحت ہم پنجاب سے چاول آسام کیوں نہیں بھیجتے ہیں۔‘

انڈیا اور پاکستان کا باسمتی کہاں جاتا ہے؟
اس سوال کے جواب سے باسمتی کی سیاست اور کاروبار کا ایک اور ورق کھلتا ہے۔ خلیجی ممالک انڈیا کے سب سے بڑے خریدار ہیں۔ پچھلے چار سالوں میں، ایران، سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت اور یمن نے انڈیا سے باسمتی کی زیادہ سے زیادہ خریداری کی ہے۔ انہی اعدادوشمار سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ انڈیا کے اعلی پانچ درآمد کنندگان یعنی خلیجی ممالک میں انڈین باسمتی کا 70 فیصد حصہ خریدا جاتا ہے۔ جکہ پاکستان کا 40 فیصد باسمتی یورپ جاتا ہے اور باقی آسٹریلیا اور خلیجی ممالک کو برآمد ہوتا ہے۔

گذشتہ چند سالوں میں یورپ میں پاکستانی باسمتی کی کھپت میں اضافہ ہوا ہے جس کی بڑی وجہ جراثیم کش ادویات ہیں۔

سنہ 2018 میں یورپی یونین نے فصلوں میں استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات کی مقدار میں تبدیلی کی تھی۔ لہذا یورپی یونین کے معیار کے مطابق انڈین باسمتی میں ٹرائیسائکلازول کی مقدار بہت زیادہ پائی گئی۔ اس دوا کا استعمال فنگس کو روکنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے باسمتی میں اس دوا کی مقدار کم تھی، لہذا یورپی ممالک نے پاکستان سے زیادہ باسمتی کی درآمد شروع کر دیا۔

اگر انڈیا کو جی آئی ٹیگ مل جاتا ہے تو کیا یورپی ممالک میں باسمتی برآمد کرنے کے لیے انڈیا کو پیسٹیسائڈس کا کم چھڑکاؤ کرنا ہوگا؟ اس سوال کے جواب میں زراعت کے ماہر دیویندر شرما بہت مضبوطی سے کہتے ہیں کہ ’اصل سوال یہ نہیں ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے اپنے کھانے کے لیے اچھے معیار کے کھانے کی فراہمی کیوں نہیں کی جا رہی ہے؟ یورپی ممالک جو چاول پیسٹیسائڈس کی زیادہ مقدار کی وجہ سے نہیں لے رہے ہیں اسے ہم کیوں کھا رہے ہیں؟ ہمیں انڈیا میں باسمتی فروخت کرنے والی کمپنیوں پر دباؤ ڈالنا چاہیے تاکہ کم سے کم پیسٹیسائڈ‎س کے استعمال والے اناج فراہم ہوں۔

اسی طرح برآمدات کی سیاست کے سوال پر پشپش پنت کہتے ہیں: ’ہمیں سمجھنا چاہیے کہ باسمتی کہاں جا رہا ہے۔ اگر زیادہ باسمتی برطانیہ اور یورپ جا رہا ہے اور برطانیہ میں بھی لندن جارہا ہے، تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ ایک بات قابل ذکر یہ بھی ہے کہ باسمتی کا زیادہ تر بریانی اور پلاؤ میں استعمال ہوتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ انڈیا کا باسمتی زیادہ خلیجی ممالک میں جاتا ہے لیکن جب باسمتی میں کیوڑا، زعفران، دودھ اور گرم مصالحے ڈالے جاتے ہیں تو تو اس کی اپنی خوشبو اور ذائقے کی زیادہ اہمیت نہیں رہ جاتی ہے۔

باسمتی چاول اگتا کہاں ہے؟
انڈیا میں سیڈز ایکٹ-1966 میں بتایا گیا ہے ریکارڈ کے مطابق یہاں باسمتی چاول کی کل 29 اقسام ہیں۔ تاہم ملک بھر میں 33 قسم کے باسمتی چاول اگائے جاتے ہیں۔

مئی سنہ 2010 میں انڈین حکومت کے زراعت اور پراسیسڈ خوراک کی برآمدادت سے متعلق ادارے اے پی ای ڈی اے نے ہمالیہ کی سات ریاستوں کو جی ای ٹیگ دیا۔ ان میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر، پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، دلی اور مغربی اتر پردیش کے 26 اضلاع شامل ہیں۔

اس کے علاوہ انڈیا کی دیگر بہت سی ریاستوں میں باسمتی چاول اگایا جاتا ہے۔ مدھیہ پردیش میں اگنے والے باسمتی کو جی آئی ٹیگ دیے جانے پر بہت تنازع ہے کیونکہ جی آئی ٹیگ والی ریاستوں کی پیداوار کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔

انڈیا سے برآمد ہونے والا 80 فیصد باسمتی پنجاب اور ہریانہ میں پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے 18 اضلاع میں باسمتی چاول کی بہترین پیداوار ہوتی ہے۔ بلوچستان میں بھی باسمتی چاول کی کچھ پیداوار ہوتی ہے۔

انڈیا کے سیڈ ایکٹ کے مطابق باسمتی چاول کو پکنے سے پہلے چھ اعشاریہ چھ ایک ایم ایم لمبا اور دو ایم ایم چوڑا ہونا چاہیے۔ اور پکنے کے بعد اسے 12 ایم ایم لمبا ہونا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے جائزے سے پہلے تین ماہ تک اسے محفوظ ماحول میں نارمل درجہ حرارت پر رکھا جائے۔

باسمتی چاول نیپال اور سری لنکا میں بھی اگایا جاتا ہے۔

اسی طرح انڈونیشیا میں مقامی طور پر باسمتی اگایا جاتا ہے جسے سنہ 2007 میں پاکستان سے لیا گیا تھا۔

جی آئی ٹیک کی جنگ میں پاکستان کا کیا موقف ہے؟
سید فہد حسین پاکستان کے صوبہ پنجاب میں باسمتی چاول اگانے والے کسانوں میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا کے پاس کاغذات پر کام ہوا ہے، اس کے پاس ٹیکنالوجی ہے اور مارکیٹنگ بھی ہو رہی ہے لیکن ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس باسمتی اگانے کے لیے زمین ہے۔ یہاں بہترین زمین، پانی اور ہوا دستیاب ہے۔

فہد کا کہنا ہے کہ اب ہمیں اپنا کام کرنا چاہیے کیونکہ یہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ نہیں ہے۔ پاکستان ہو یا انڈیا یہ اصلی اور جعلی باسمتی کی جنگ ہے۔

دوسری جانب ایک رائس مِل کے ایکسپورٹ مینیجر راجہ ارسلان کہتے ہیں کہ یہ پاکستان کے لیے اچھا ہے کیونکہ یہ پاکستانی باسمتی چاول کو مزید شہرت دے گا اور یہ چاول انڈین باسمتی سے زیادہ بہتر ہے۔ یورپی مارکیٹ میں انڈیا کا باسمتی چاول جس مسئلے کا سامنا کر رہا ہے وہ ہمارے کسانوں کی کامیابی ہے۔

سنہ 2005 میں برطانیہ کی خوراک سے متعلق ایجنسی ایف ایس اے کو یہ معلوم ہوا کہ تقریباً نصف سے زیادہ بکنے والے باسمتی چاول جعلی ہیں۔ اس کے بعد ادارے نے برآمد کرنے والوں کے لیے ریگولیشنز بنائے۔

پاکستان اور انڈیا نے امریکی کمپنی کے مقابلے میں کامیابی کیسے حاصل کی؟

ستمبر سنہ 1997 میں رائس ٹیک نے امریکہ میں باسمتی کی تین اقسام کو اگانے کے لیے پیٹنٹ حاصل کیا۔ اس میں ٹیکسامتی اور کاسامتی جو کہ ٹیکساس میں اگائے جاتے ہیں اور کیلیفورنیا میں اگانے جانے والے کاسامتی بھی شامل تھے۔ کمپنی یہ دلیل پیش کرتی ہے کہ وہ امریکہ میں کئی دہائیوں سے ان چاولوں کی پیداوار کر رہی ہے اور انڈیا میں تو باسمتی کو جی آئی ٹیگ بھی نہیں دیا گیا ہے۔

لیکن ان کی اس دلیل نے ایک عالمی محاذ کھول دیا۔ یہ فضا پیدا ہو گئی جس میں یہ کہا گیا کہ ترقی یافتہ ممالک ترقی پذیر ممالک کی دولت ہتھیانے کے لیے مختلف حربے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسے ابھرتی ہوئی اقوام کی دیسی اشیا کی ڈکیتی کہا گیا۔

اس کے جواب میں متعلقہ کمپنی نے یہ دلیل پیش کی کہ اس نے باسمتی کے پیٹنٹ حقوق حاصل نہیں کیے اور باسمتی تو ایک عام اصطلاح ہے۔ کمنپی کے مطابق اس نے امریکہ کا اپنا باسمتی چاول متعارف کروایا ہے۔

مگر یہ کافی نہیں تھا۔ رائس ٹیک کو بہت سی این جی اوز کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور ان کے لیے قانونی چیلینجز بھی تھے۔ ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی کیا جانے لگا۔ حتیٰ کہ برطانیہ نے بھی رائس ٹیک کے چاولوں کو یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ یہ وہ چاول نہیں جن کا دعویٰ کمپنی کرتی ہے۔

اسی عرصے میں انڈیا اور پاکستان میں یہ بحث چھڑ گئی کہ باسمتی تو صدیوں سے ان کی زمین پر اگایا جا رہا ہے اور اس کی خوشبو کی وجہ ہمالیہ سے نکلنے والے دریاؤں کا پانی اور مٹی ہے۔

یہ بھی کہا گیا کہ رائس ٹیک نے جو کیا وہ کلوننگ یا اس کی کاپی ہے اور اس کو امریکہ میں اگانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انڈیا میں باسمتی کو قومی ورثہ قرار دیا جاتا ہے۔ خریدار بھی باسمتی کی نسبت کو انڈیا اور پاکستان سے جوڑتے ہیں۔ اس معاملے نے اس قدر شدت اختیار کی کہ انڈیا میں امریکی سفارتخانے کے باہر مظاہرے بھی ہوئے۔

پہلے انڈیا نے امریکہ کے پیٹنٹ دفتر سے کہا کہ وہ اس معاملے کو دوبارہ دیکھے پھر وہ اس مسئلے کو ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں لے کر گیا۔

28 اپریل سنہ 2000 میں انڈیا نے احتجاجاً دستاویزات جمع کروائیں۔ اس کے بعد گیارہ ستمبر کو رائس ٹیک نے اپنے 20 میں سے چار دعوؤں کو واپس لے لیا۔ ان میں تین دعوے ایسے تھے جن سے امریکی منڈی میں سے انڈین باسمتی کو واپس لیا جا سکتا تھا۔ پھر سنہ 2001 میں رائس ٹیک نے مزید 11 دعوؤں کو واپس لے لیا۔ اور آخر کار 14 اگست سنہ 2001 میں اس کا نام باسمتی سے بدل کر رائس لائنز باس 867، آر ٹی 117 اور آر ٹی 1121 رکھا گیا اور ان سے پیٹنٹ حقوق بھی لے لیے گئے۔

اس ضمن میں سنہ 1999 میں اشیا کی جغرافیائی اعتبار سے رجسٹریشن اور پروٹیکشن کے لیے ایکٹ آیا جسے سنہ 2003 میں لاگو کیا گیا۔ پیٹنٹ کا معاملہ کتنا بڑا ہے پچاس سال پہلے ایسا نہیں تھا لیکن آج کی تاریخ میں ایسے 600 دعوے ہیں۔

لیکن کیا انڈیا اور پاکستان کے درمیان کوئی تنازع ہے؟

پشپیش پنت اس سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ باسمتی چاول کی ملکیت کا معاملہ انڈیا اور نیپال کے درمیان بدھ کی جائے پیدائش کی مانند ہے۔ جیسے کہ بنگال اور اڑیسہ کے درمیان رس گلے کے حوالے سے تنازع ہے اور جیسے لنگڑا اور دسہری آم کے درمیان ہے۔

پنت کہتے ہیں کہ باسمتی سے متعلق بحث بیرونی کمپنیوں کی سیاست اور مالی فائدوں سے جڑی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ریستورانوں میں باسمتی بیچنے والوں نے ایک مصنوعی اسرار پیدا کر رکھا ہے تاکہ ان کی فروخت زیادہ ہو۔

’جی آئی اشیا کی فروخت میں مدد کرتا ہے۔ جو چیزیں بہترین ہیں وہ سٹیسٹ کا معاملہ بھی ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ تاریخی طور پر چاول ایسے علاقوں میں اگایا جاتا ہے جہاں دریا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ پاکستان میں چاول کھانے والے آپ کو لاہور سے آگے کے علاقوں میں ملیں گے جبکہ مکئی کا آٹا اور چنا کھانے والے زیادہ ہوں گے۔

دوسری جانب دیویندر شرما کا کہنا ہے کہ اگر ایک ملک جی آئی ٹیگ حاصل کرتا ہے تو دوسروں کے لیے مارکیٹ اچھی نہیں رہے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سیاست ہوتی ہے تو یہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن اس کے علاوہ یہ ایک صنعتی مسئلہ ہے اور اسے جلد ہی حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ہم نے اس معاملے میں پاکستان سے چاول برآمد کرنے والی ایسوسی ایشن آر ای اے پی سے رابطہ کیا تاکہ اس معاملے پر پاکستان کو موقف جان سکیں لیکن انھوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ اپنے اس فیصلے کی وجہ سے کہ وہ اس مسئلے پر میڈیا کے کسی بھی ادارے سے بات نہیں کریں گے۔

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ دونوں ملک جنھوں نے رائس ٹیکنالوجی کے خلاف اکٹھے جنگ جیتی ہے اپنے اس باہمی تنازع کو کب تک حل کرتے ہیں۔
http://www.taghribnews.com/vdcdz50kkyt0z56.432y.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس