تاریخ شائع کریں2021 13 June گھنٹہ 17:41
خبر کا کوڈ : 507686

انصاراللہ یمن کے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے مذاکرات

عنقریب صنعاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ بعض پروازوں کیلئے کھول دیے جانے کی خبر درست ہے اور یہ یمنی عوام کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔
انصاراللہ یمن کے سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے مذاکرات
تحریر: رضا محمد مراد
بشکریہ: اسلام ٹائمز

 
انصاراللہ یمن کے ساتھ سعودی عرب اور اس کے اتحادی ممالک کے مذاکرات جاری ہیں۔ حال ہی میں عمان کی ثالثی میں مذاکرات کا نیا دور انجام پایا ہے۔ مذاکرات کے اس دور میں انصاراللہ یمن کو چند اہم اور بنیادی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ موصولہ رپورٹس کے مطابق سعودی اتحاد انسانی امور کو جنگ کے امور سے علیحدہ کر کے دیکھنے پر مبنی انصاراللہ کا مطالبہ مان گیا ہے۔ یوں میدان جنگ میں متعدد کامیابیوں کے ساتھ ساتھ انصاراللہ یمن کو سفارتی میدان میں بھی بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ یہ مذاکرات یمن کی اعلی سیاسی کاونسل اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے عمان کے وفد کے درمیان منعقد ہوئے۔ ان مذاکرات میں صنعا ایئرپورٹ اور الحدیدہ بندرگاہ کا محاصرہ ختم کئے جانے کی خبر دی جا رہی ہے۔
 
اب تک امریکہ، سعودی عرب اور ان کے اتحادی ممالک یمن میں انسانی امور کو فوجی امور سے جوڑنے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔ امریکی حکومت بھی اب تک انصاراللہ یمن سے مارب کی آزادی کیلئے جاری فوجی آپریشن روک دینے کا مطالبہ کرتی آئی ہے اور اسے یمنی عوام کو انسانی امداد کی بحالی کی شرط قرار دے چکی تھی۔ اس اقدام کا مقصد وہ کامیابیاں سفارتکاری کے میدان میں حاصل کرنا تھا جو سعودی اتحاد فوجی میدان میں حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ یاد رہے مارب کا شہر انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل شہر ہے جس کی آزادی کیلئے انصاراللہ یمن نے کچھ ماہ سے فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ مارب شہر یمن میں سعودی نواز تکفیری دہشت گردوں کا آخری ٹھکانہ تصور کیا جاتا ہے۔
 
مارب شہر آزاد ہونے کی صورت میں نہ سعودی عرب کا یمن میں تکفیری عناصر سے رابطہ منقطع ہو جائے گا بلکہ اس علاقے میں موجود تیل اور گیس کے وسیع ذخائر پر بھی انصاراللہ یمن کا قبضہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ دونوں فریقین کی نظر میں بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ مارب کی اسی اسٹریٹجک اہمیت کے پیش نظر نیوز ویب سائٹ الخبر الیمنی لکھتی ہے: "سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے عمان کے اعلی سطحی وفد کے ذریعے صنعا کو یہ پیغام بھجوایا ہے کہ اگر وہ مارب کے خلاف فوجی آپریشن روک دیں اور سعودی عرب پر میزائل حملے بند کر دیں تو صنعا ایئرپورٹ اور الحدیدہ بندرگاہ کا محاصرہ ختم کر کے یمنی عوام کو روکی جانے والی انسانی امداد فوری طور پر بحال کی جا سکتی ہے۔"
 
دوسری طرف انصاراللہ یمن کے ترجمان اور صنعا کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد عبدالسلام اب تک کئی بار اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ امریکہ اور سعودی عرب کو انسانی نوعیت کے امور کو جنگی امور سے علیحدہ کر کے دیکھنے ہوں گے۔ یمن کی اعلی سیاسی کاونسل بھی اعلان کر چکی ہے کہ وہ یمن کے خلاف محاصرے کے مکمل خاتمے، سعودی اتحاد کی جانب سے فضائی اور زمینی حملوں کے خاتمے، یمن کی سرزمین سے غیر ملکی فوجیوں کے مکمل انخلاء اور یمن کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے عوض جارح سعودی اتحاد کے خلاف حملے روکنے کا فیصلہ ممکن ہے۔ اب ایسی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمان کے مذاکراتی وفد نے محدود پیمانے پر صنعا ایئرپورٹ کھولنے اور الحدیدہ بندرگاہ کا محاصرہ ختم کرنے پر رضامندی کا اظہار کر دیا ہے۔
 
اس بارے میں یمن کی اعلی سیاسی کاونسل کے رکن محمد النعیمی نے یو نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا: "عنقریب صنعاء انٹرنیشنل ایئرپورٹ بعض پروازوں کیلئے کھول دیے جانے کی خبر درست ہے اور یہ یمنی عوام کی استقامت اور ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔ جارح قوتیں اس نتیجے پر پہنچ چکی ہیں یمن کے خلاف ان کی فوجی جارحیت مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہو چکی ہے۔" موصولہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمعرات 10 جون کے دن 27 ہزار ٹن پیٹرول لئے ایک کشتی الحدیدہ بندرگاہ پر لنگرانداز ہوئی ہے۔ گذشتہ چھ ماہ کے دوران اس بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے والی یہ پہلی کشتی ہے۔ دوسری طرف جمعرات کے روز ہی سعودی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مذاکرات کی کامیابی کیلئے یمن پر فضائی حملے روک دیے ہیں۔
 
یاد رہے 25 مارچ 2015ء کے دن موجودہ سعودی ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان نے متحدہ عرب امارات سے مل کر ہزاروں کرائے کے فوجیوں کی مدد سے یمن پر فوجی جارحیت کا آغاز کر دیا تھا اور اپنے اس حملے کو "فیصلہ کن طوفان" کا نام دیا تھا۔ اس وقت سعودی اتحاد کا دعوی تھا کہ وہ محض چند ہفتوں کے اندر اندر انصاراللہ یمن کو کچل کر یمن میں دوبارہ منصور ہادی کی حکومت برسراقتدار لے آئے گا۔ لیکن اب چھ برس گزر جانے کے بعد نہ صرف سعودی اتحاد اپنے کسی مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں رہا بلکہ انصاراللہ یمن فوجی لحاظ سے چند گنا زیادہ طاقتور ہو چکی ہے اور سعودی عرب کو کاری حملوں کا نشانہ بنا چکی ہے۔ انصاراللہ یمن کے تابڑ توڑ حملوں کے باعث یمن جنگ اس وقت سعودی اتحاد کیلئے ایک دلدل میں تبدیل ہو چکی ہے۔
 
http://www.taghribnews.com/vdcbwzbs0rhbg0p.kvur.html
آپ کا نام
آپکا ایمیل ایڈریس