<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<!-- generator="نیوز اسٹوڈیو (خبر شائع کرنے اور ادارتی بورڈ کا جامع آٹومیشن سافٹ ویئر) ورژن 3.0" -->
<rss version="2.0" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom">
    <channel>
        <title>تقريب خبررسان ايجنسی -  تازہ ترین عناوینسیاست :: مکمل نسخہ</title>
        <description><![CDATA[کی طرف سے تیار تقريب خبررسان ايجنسی]]></description>
        <link>https://www.taghribnews.com/ur/The_International</link>
        <lastBuildDate>Wed, 15 Jul 2026 07:56:14 GMT</lastBuildDate>
        <generator>نیوز اسٹوڈیو (خبر شائع کرنے اور ادارتی بورڈ کا جامع آٹومیشن سافٹ ویئر) ورژن 3.0</generator>
        <image>
            <url>https://www.taghribnews.com/skins/default/ur/normal/ch01_newsfeed_logo.gif</url>
            <title>تقريب خبررسان ايجنسی -  تازہ ترین عناوینسیاست :: مکمل ...</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/The_International</link>
            <width>100</width>
            <height>70</height>
            <description><![CDATA[کی طرف سے تیار تقريب خبررسان ايجنسی]]></description>
        </image>
        <language>ur</language>
        <copyright>صرف تقريب خبررسان ايجنسی کے نام کے ذکر کے ساتھہ ہی مطالب نقل اورنشر کرنے کی اجازت ہے</copyright>
        <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 07:56:14 GMT</pubDate>
        <category>سیاست</category>
        <ttl>60</ttl>
        <atom:link href="https://www.taghribnews.com/rssj8.12u9vuk119bqtw25g..luzsft.u34uvl4.xml" rel="self" type="application/rss+xml" />
        <item>
            <title>امریکی حملوں کے بعد اسلام آباد ایم او یو ختم ہوچکا</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/730043/امریکی-حملوں-کے-بعد-اسلام-آباد-ایم-او-یو-ختم-ہوچکا</link>
            <description><![CDATA[ایران نے اپنی سرزمین پر ہونے والے تازہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کارروائیوں نے گزشتہ کئی ماہ سے جاری تمام سفارتی کوششوں کو بے معنی اور ناکام بنا دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا کے حالیہ حملے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ تہران کے مطابق یہ حملے نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ&nbsp;نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کے مختلف فوجی اہداف پر ایک اور مرحلے میں حملے کیے ہیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔

ایران نے امریکی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مغربی ایشیا میں امن قائم کرنے کے لیے گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والی تمام سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کر دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کے انتظام اور وہاں ضروری سکیورٹی اقدامات پر ایران کی جانب سے کیے جانے والے انتظامات میں مداخلت کر کے ایک مرتبہ پھر اس اہم بحری گزرگاہ میں عدم استحکام پیدا کر دیا ہے۔

تہران کا کہنا ہے کہ امریکی فوجی مداخلت کے باعث بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی متاثر ہوئی ہے، جس سے عالمی تجارت اور خطے کی سلامتی کے لیے نئے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔]]></description>
            <category>سیاست</category>
            <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 10:20:21 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/730043/امریکی-حملوں-کے-بعد-اسلام-آباد-ایم-او-یو-ختم-ہوچکا</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000730/n00730043-b.jpg" length="26087" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/730042/آبنائے-ہرمز-سے-گزرنے-والے-جہازوں-کی-تعداد-پانچ-ہفتوں-کم-ترین-سطح-پر-آ-گئی</link>
            <description><![CDATA[امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے شپ ٹریکنگ کمپنی کپلر&nbsp;کے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اتوار کے روز صرف چھ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جو گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز سے باہر جانے والے دو بھرے ہوئے آئل ٹینکرز کے ذریعے تقریباً 20 لاکھ بیرل ایرانی خام تیل اور پانچ لاکھ بیرل کویتی تیل کی مصنوعات منتقل کی جا رہی تھیں۔

اعداد و شمار کے مطابق تین خالی آئل ٹینکرز خلیج میں داخل ہوئے تاکہ وہ وہاں سے تیل اور دیگر مصنوعات لوڈ کر سکیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرتے وقت بیشتر بحری جہازوں نے سکیورٹی خدشات کے باعث اپنے ٹرانسپونڈر (شناختی سگنل) عارضی طور پر بند کر دیے، تاکہ ان کی نقل و حرکت کی نگرانی محدود رہے۔

ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں اور بحری سلامتی سے متعلق خدشات نے عالمی شپنگ کمپنیوں کو زیادہ محتاط بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والی تجارتی سرگرمیوں میں واضح کمی دیکھی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور توانائی کی بڑی مقدار مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں، سپلائی چین اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔]]></description>
            <category>سیاست</category>
            <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 10:17:37 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/730042/آبنائے-ہرمز-سے-گزرنے-والے-جہازوں-کی-تعداد-پانچ-ہفتوں-کم-ترین-سطح-پر-آ-گئی</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000730/n00730042-b.jpg" length="22366" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>امریکی جارحیت کے جواب میں خطے میں امریکی اڈے نشانے پر</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/730040/امریکی-جارحیت-کے-جواب-میں-خطے-اڈے-نشانے-پر</link>
            <description><![CDATA[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے کے جوانوں نے امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب دیتے ہوئے اردن، کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے جاری کردہ اعلامیہ نمبر 1&nbsp;کے مطابق امریکہ نے پڑوسی ملکوں میں قائم اپنے فوجی اڈوں کو استعمال کرتے ہوئے گزشتہ رات ایک بار پھر ایران کے ساحلی علاقوں کو وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنایا۔ &nbsp;

بیان میں کہا گيا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے خلاف ورزیوں کے جواب میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے پہلے مرحلے میں اردن میں واقع شہزادہ حسن ایئر بیس میں قائم امریکی فوج کے ایندھن اور گولہ بارود کے ڈپو کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنا کر تباہ کردیا ہے۔

آئی آر جی سی نے اپنے اعلامیہ نمبر 2 میں بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کا بھی اعلان کیا۔بیان میں کہاگيا ہے کہ اپنی جوابی کارروائی کے دوسرے مرحلے میں، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایئرو اسپیس فورس&nbsp;کے جوانوں نے بحرین کے شیخ عیسی بیس میں قائم طفل کش امریکی حکومت&nbsp;کے ہیلی کاپٹر کی مرمت اور دیکھ بھال کے اہم مراکز، ایک P-8 الیکٹرانک جنگی طیارے کے ہینگر اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کو تباہ کر دیا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے اعلامیہ نمبر 3 میں کہا گيا ہے کہ جوابی کارروائی کے تیسرے مرحلے میں متکبر اور جارح امریکی حکومت کی جارحیت کے جواب میں، سپاہ پاسداران&nbsp;کی ایرو اسپیس فورس کے قابل فخر جوانوں&nbsp;نے کویت کے علی سالم میں امریکی اڈے پر ایندھن کے ٹینک اور پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کے ساتھ ساتھ الجبر بیس میں ایک اسٹریٹجک ایف پی ایس ریڈار سسٹم پر مکمل طور پر تباہ کر دیا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اپنے اعلامیہ نمبر 4 &nbsp;میں&nbsp;کہا ہے کہ جوابی کارروائی کے چوتھے مرحلے میں،سپاہ پاسداران&nbsp;کی گراؤنڈ فورس کے بہادر جوانوں &nbsp;نے کویت میں امریکی فوج کے زمین سے زمین پر مار کرنے والے ہائیمارس میزائل&nbsp;کے دو لانچنگ پیڈ اور میزائل ڈپو کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بناکر تباہ کردیا ہے۔]]></description>
            <category>سیاست</category>
            <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 10:15:48 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/730040/امریکی-جارحیت-کے-جواب-میں-خطے-اڈے-نشانے-پر</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000730/n00730040-b.jpg" length="19744" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>غاصب صہیونی فوج کا لبنان کے مشرقی علاقوں پر ڈرون حملہ</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/730039/غاصب-صہیونی-فوج-کا-لبنان-کے-مشرقی-علاقوں-پر-ڈرون-حملہ</link>
            <description><![CDATA[لبنانی ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ غاصب اسرائیلی فوج نے لبنان کے مشرقی علاقوں پر ڈرون حملہ کیا ہے۔

ابتدائی رپورٹوں کے مطابق، صیہونی فوج نے البقاع علاقے میں سرعین ٹاؤن کو نشانہ بنایا ہے۔ اس علاقے سے دھماکے کی آواز سنائی دی ہے۔

اس سے پہلے صیہونی فوج نے لبنان کے جنوبی علاقے بیوت السیاد پر بھی گولہ باری کی۔ گولہ باری سے ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی اب تک کوئی رپورٹ منظر عام پر نہیں آئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ حداثا، حاریص اور بنت جبیل میں بھی صیہونی فوجیوں کی نقل و حرکت دکھائی دی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود غاصب اسرائیلی فوج لبنان کے جنوبی شہروں اور قصبوں کو نشانہ بنانے اور بارودی سرنگوں سے آبادیوں کو تباہ کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

واضح رہے کہ غاصب صیہونی حکومت کی فوج کے حملوں میں گزشتہ 2 مارچ سے اب تک 4 ہزار 322 لبنانی شہری شہید ہوچکے ہیں۔]]></description>
            <category>سیاست</category>
            <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 10:11:44 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/730039/غاصب-صہیونی-فوج-کا-لبنان-کے-مشرقی-علاقوں-پر-ڈرون-حملہ</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000730/n00730039-b.jpg" length="42418" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>ایران نے کویت میں امریکی میزائیلی اڈے کو تباہ کردیا</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/730037/ایران-نے-کویت-میں-امریکی-میزائیلی-اڈے-کو-تباہ-کردیا</link>
            <description><![CDATA[سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی زمینی فورسز نے جوابی کارروائی کے چوتھے مرحلے میں کویت میں موجود امریکی زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی زمینی فورسز نے جوابی کارروائی کے چوتھے مرحلے میں کویت میں موجود امریکی زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا اور دو ہائیمارس لانچرز اور میزائلوں سے بھرے گوداموں کو تباہ کر دیا۔ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔]]></description>
            <category>سیاست</category>
            <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 10:10:16 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/730037/ایران-نے-کویت-میں-امریکی-میزائیلی-اڈے-کو-تباہ-کردیا</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000730/n00730037-b.jpg" length="20341" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>آیت اللہ خامنہ ای کا دل ایرانی عوام اور سرزمین تھے</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/730028/آیت-اللہ-خامنہ-کا-دل-ایرانی-عوام-اور-سرزمین-تھے</link>
            <description><![CDATA[آیت اللہ خامنہ ای سے&nbsp;اگرچہ براہِ راست رابطہ نہیں تھا، تاہم میڈیا اور دہلی میں موجود خانۂ فرہنگ کے ذریعے ان سے آشنائی ہوئی۔ جب معلومات میں اضافہ ہوا تو ہم نے محسوس کہ ایران کے مستقبل، آزادی اور امن کے حوالے سے وہ انتہائی ایماندار بزرگ ہیں۔ پھر ہم خود میڈیا پر ان کی گفتگو سننے لگے۔ جنگ سے پہلے اور بعد میں، وہ اس موضوع پر مسلسل گفتگو کرتے رہے۔ انہوں نے ایران والوں کو دھوکہ نہیں دیا؛ ایران کے عوام اور ملک ان کا دل تھا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے ایران کو سامنے رکھ کر دنیا کے مسلمانوں کا خواب دیکھا اور امن و امان کو فروغ دینا چاہا۔ انہوں نے کوشش کی کہ دنیا کے لوگ آپس میں جڑ جائیں، اگرچہ شیعہ سنی کا مسئلہ بھی درپیش رہا۔ ان کی گفتگو میں ہم نے کبھی شدت نہیں دیکھی؛ وہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے، جس کی وجہ سے ہمارے دلوں کا رجحان ان کی طرف بڑھتا گیا۔

فلسطین تو دنیا کے مسلمانوں کا دل ہے، نہ شیعہ اور نہ سنی۔ جب انسان بیت&zwnj;المقدس کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کے دل میں جوش پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سے پہلے جب میرا یہاں آنا ہوا (شاید ایک سال قبل)، تو میں نے سوال کیا تھا کہ بیت&zwnj;المقدس کا کیا ہوگا؟ مجھے جواب دیا گیا کہ وہ فتح ہوگا اور آپ وہاں نماز پڑھیں گے۔ انہوں نے بیت&zwnj;المقدس کو ایران کے ساتھ منسلک کر کے دنیا کے مسلمانوں کا دل جیت لیا ہے۔ اب لوگوں کے دلوں میں خامنہ ای صاحب اور ایران نے خاص جگہ بنا لی ہے۔

رہا سامراجی طاقت سے لڑنا، تو میں اسے جانبِ اللہ سمجھتا ہوں۔ انہوں نے بڑی منصوبہ بندی اور ٹھنڈے دماغ سے دفاعی اقدامات کیے اور حملے میں پیش قدمی نہیں کی۔ میرے مطالعے کے مطابق، انہوں نے حملہ کرنے سے منع کیا کیونکہ وہ ایسا نہیں چاہتے تھے، لیکن دشمن کو اپنی طاقت کا گھمنڈ تھا۔ جب دشمن نے حملہ کیا تو انہوں نے دو، چار یا دس گھنٹوں میں جوابی کارروائی کر کے انہیں سبق سکھانا شروع کیا۔ رفتہ رفتہ پورے ایشیا، پھر یورپ، پھر افریقہ اور بالآخر امریکہ کے عوام نے اس دفاعی حکمت عملی کو دیکھا تو ان کا ذہن بدلنا شروع ہوا۔ میں نے یہ محسوس کیا کہ امریکہ حقیقتاً ظالم اور متکبر ہے۔ قرآن و سنت کا فیصلہ ہے کہ جو کوئی متکبر اور ظالم ہو، وہ دوہرا ظالم ہے۔

اب جو لوگ امریکہ کے سامراج کے دوست تھے، انہوں نے یہ سوچنا شروع کیا کہ اگر کوئی ایک ملک یہ کرسکتا ہے، تو پہلے زبان، پھر عمل، پھر گفتگو کے ذریعے ایک جگہ پہنچا جا سکتا ہے۔ یہی وہ فائدہ، اشارہ اور لائن آف ایکشن ہے جو انہوں نے ہمیں عطا کیا ہے۔]]></description>
            <category>سیاست</category>
            <pubDate>Mon, 13 Jul 2026 09:40:23 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/730028/آیت-اللہ-خامنہ-کا-دل-ایرانی-عوام-اور-سرزمین-تھے</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000730/n00730028-b.jpg" length="24655" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>ایرانی اور پاکستانی وزرائے خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/729937/ایرانی-اور-پاکستانی-وزرائے-خارجہ-کا-ٹیلیفونک-رابطہ</link>
            <description><![CDATA[پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے ساتھ &nbsp;ٹیلیفونی گفتگو میں کہا ہے کہ سبھی فریقوں کو اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کے مطابق تحمل اور کشیدگی کم کرنے کے راستے پر آگے بڑھنا چاہئے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے شعبہ رابطہ عامہ کے مطابق، سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنے ایرانی ہم منصب سید عباس عراقچی کے ساتھ ٹیلیفونی گفتگو میں علاقے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ دونوں فریقوں سے درخواست کرتے ہیں کہ اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کے مطابق تحمل اور کشیدگی کم کرنے کے راستے پر چلیں۔

انھوں نے کہا کہ گفتگو اور سفارتکاری،اختلافات کے حل اور علاقے میں پائیدار صلح و ثبات کی واحد راہ ہے۔

سینیٹر اسحاق ڈار نے علاقے میں امن کے عمل کو آگے بڑھانے میں تعمیری کردار کے لئے پاکستان کی آمادگی کا اعلان کیا۔

اس سے پہلے اقوام متحدہ ميں پاکستانی مندوب نے بھی علاقے میں جنگ بندی اور پائیدار استحکام کے لئے کشیدگی فوری طور پرختم کرنے کی اپیل کی تھی۔

عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ کشیدگی کسی کے بھی فائدے میں نہیں ہے اور سبھی اختلافات پر امن طور پر حل کرنے کے لئے موجودہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت&nbsp; ہے۔ &nbsp;&nbsp;

&nbsp;
&nbsp;


]]></description>
            <category>سیاست</category>
            <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 13:57:16 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/729937/ایرانی-اور-پاکستانی-وزرائے-خارجہ-کا-ٹیلیفونک-رابطہ</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000729/n00729937-b.jpg" length="24623" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>حالیہ واقعات میں ایرانی حکام کی کارکردگی بے نظیر تھی</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/729936/حالیہ-واقعات-میں-ایرانی-حکام-کی-کارکردگی-بے-نظیر-تھی</link>
            <description><![CDATA[پاکستان کی تعلیم و تربیت کی وزیر مملکت نے کہا ہے کہ حالیہ تغیرات میں ایرانی خواتین کے نمایاں کردار نے بتایا ہے کہ اپنے عوام کو ملی یک جہتی، استقامت اور شجاعت کا درس کس طرح دیا جائے.

اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کی خاتون وزرا کے نویں اجلاس کے موقع پر پاکستان کی تعلیم وتربیت کی&nbsp; وزیر مملکت وجیہ قمر نے خاندان اور خواتین کے امور میں صدر ایران کی مشیر زہرا بہروز آذر سے ملاقات کی۔

&nbsp;انھوں نے اس ملاقات میں، مختلف علاقائی اور بین الاقوامی اداروں میں ایران کی&nbsp;خاتون عہدیداروں سے اپنی ملاقاتوں اور اسی طرح صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے حالیہ دورہ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمیں سکھایا ہے کہ سخت حالات میں، کس طرح ملی یک جہتی، استقامت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا جائے۔

پاکستان کی&nbsp;وزیر تعلیم وتربیت وجیہ قمر نے مختلف شعبوں بالخصوص تعلیم وتربیت کے شعبے میں خواتین کو توانا بنانے اور آگے بڑھانے میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیابی و پیشرفت کو قابل تعریف بتایا۔

&nbsp;انھوں نے کہا کہ پاکستان ایران کے تجربات سے فائدہ اٹھاسکتا ہے۔&nbsp;&nbsp;محترمہ وجیہ قمر نے شہید رہبر انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای رحمت اللہ علیہ کی شہادت کی ایران کی حکومت اور عوام کو تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سانحہ عظیم پر ہم سب، سوگوار ہیں اور سبھی پاکستانی عوام ایران کی سربلندی و سرافرازی کے لئے دعا کرتے ہیں۔

پاکستان&nbsp;کی تعلیم وتربیت کی وزیر مملکت محترمہ وجیہ قمر نے ایران اور پاکستان کے عوام کے لئے، ایک دوسرے کی صلاحیتوں اور توانائیوں سے واقفیت کے مواقع بڑھائے جانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خواتین اور لڑکیوں سے متعلق مختلف شعبوں بالخصوص ڈیجیٹل اقتصاد اور تعلیم وتربیت کے شعبوں مں خواتین کو آگے بڑھانے کے تعلق سے ہم &nbsp;ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ واقعات میں ایرانی حکام کی کارکردگی&nbsp;بے نظیر تھی اور جارحیت نیز اعلی رتبہ حکام کی شہادت کے باوجود حکومت ایران نے معاشرے کے امور بہت اچھی طرح سنبھالا&nbsp;اور آگے لے کر چلی۔


]]></description>
            <category>سیاست</category>
            <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 13:55:20 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/729936/حالیہ-واقعات-میں-ایرانی-حکام-کی-کارکردگی-بے-نظیر-تھی</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000729/n00729936-b.jpg" length="45475" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>غزہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/729935/غزہ-جنگ-بندی-کے-باوجود-اسرائیل-پر-حملے-جاری</link>
            <description><![CDATA[غزہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں میں 7 شہداء کی میتیں غزہ کے اسپتالوں میں لائی گئیں، جبکہ اسی دوران 28 افراد زخمی حالت میں بھی لائے گئے۔ فلسطینی وزارت صحت نے مزید بتایا کہ اطلاعات ہیں کہ اسرائیلی حملوں کے باعث کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہیں۔ ایمبولنس متاثرہ علاقے تک پہنچ نہیں پا رہی ہیں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک 1098 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جبکہ اس دوران زخمی ہونیوالوں کی تعداد 3530 سے تجاوز کرچکی ہے۔ مجموعی طور پر غزہ کی جنگ میں نسل کشی کی وارداتوں میں اسرائیل کے ہاتھوں 73 ہزار 221 فلسطینی شہید ہوئے ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 73 ہزار 643 ہے۔]]></description>
            <category>سیاست</category>
            <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 13:51:10 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/729935/غزہ-جنگ-بندی-کے-باوجود-اسرائیل-پر-حملے-جاری</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000729/n00729935-b.jpg" length="47532" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>دوسرے ممالک میں بھی تشییع ہوتی تو وہاں بھی لاکھوں افراد شریک ہوتے</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/729934/دوسرے-ممالک-میں-بھی-تشییع-ہوتی-وہاں-لاکھوں-افراد-شریک-ہوتے</link>
            <description><![CDATA[جامعۂ مدرسین حوزۂ علمیہ قم کے رکن آیت اللہ محسن فقیہی نے ایک پیغام میں رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ شہید خامنہ ایؒ کے جنازے میں عراقی عوام کی تاریخی شرکت پر حکومت اور عراقی عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں قرآن کریم کی آیت&nbsp;&quot;إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَٰنُ وُدًّا&quot;&nbsp;کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان اور نیک عمل کرنے والوں کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دیتا ہے۔

آیت اللہ فقیہی نے عراق کو ایمان، وفاداری اور جوانمردی کی سرزمین قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس عظیم الشان تشییع میں شریک ہونے کی سعادت حاصل ہوئی، جہاں امتِ مسلمہ نے ایک ایسے رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کیا جو جہاد، استقامت اور آزادی کی علامت تھا۔

انہوں نے کہا کہ عراقی عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ حق کے وفادار ہیں اور مظلوم کا ساتھ دینا ان کی دینی اور اخلاقی شناخت ہے۔ ان کے بقول، یہ تاریخی تشییع اسلامی وحدت اور ایمانی اخوت کا زندہ مظہر تھی، جو قومیت اور جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر ہو کر حق و عدالت کے محور پر امت کو متحد کرتی ہے۔

جامعۂ مدرسین کے رکن نے کہا کہ علما، فضلا، قبائلی عمائدین، نوجوانوں اور خواتین سمیت عراقی معاشرے کے تمام طبقات کی وسیع شرکت نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ عراق وفاداری کی سرزمین ہے اور اس کے عوام آزادی اور عزت کا پرچم بلند کرنے والوں کو کبھی فراموش نہیں کرتے۔

انہوں نے نجف اشرف کی مرجعیت اعلیٰ، حوزۂ علمیہ نجف اور تمام سیاسی و قومی حلقوں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان سب نے اس تاریخی تشییع کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور اللہ تعالیٰ انہیں اس خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے۔

آیت اللہ فقیہی نے مزید کہا کہ یہ عظیم اجتماع اس حقیقت کا بھی عکاس ہے کہ اگر دیگر اسلامی ممالک، خصوصاً بھارت، پاکستان اور دوسرے ممالک میں حالات سازگار ہوتے تو وہاں بھی لاکھوں افراد اس عظیم شہید کو الوداع کہنے کے لیے شریک ہوتے، کیونکہ رہبرِ شہید آزادی، عزت اور استقلال کی ایسی آواز تھے جو سرحدوں سے ماورا ہر آزاد انسان کے دل میں جگہ رکھتی ہے۔

انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس عظیم واقعے کو امتِ مسلمہ کے لیے خیر، اتحاد اور عزت کا نقطۂ آغاز قرار دے، عراق اور ایران کی ترقی، استحکام اور سربلندی میں اضافہ فرمائے، دونوں ممالک کے عوام کو ہر آفت سے محفوظ رکھے اور پوری امتِ مسلمہ کو روشن اور باوقار مستقبل عطا فرمائے۔]]></description>
            <category>سیاست</category>
            <pubDate>Sun, 12 Jul 2026 13:49:41 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/729934/دوسرے-ممالک-میں-بھی-تشییع-ہوتی-وہاں-لاکھوں-افراد-شریک-ہوتے</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000729/n00729934-b.jpg" length="16066" type="image/jpeg"/>
        </item>
    </channel>
</rss>
