<?xml version="1.0" encoding="utf-8"?>
<!-- generator="نیوز اسٹوڈیو (خبر شائع کرنے اور ادارتی بورڈ کا جامع آٹومیشن سافٹ ویئر) ورژن 3.0" -->
<rss version="2.0" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom">
    <channel>
        <title>تقريب خبررسان ايجنسی -  تازہ ترین عناوینفرہنگ و ثقافت :: مکمل نسخہ</title>
        <description><![CDATA[کی طرف سے تیار تقريب خبررسان ايجنسی]]></description>
        <link>https://www.taghribnews.com/ur/culture</link>
        <lastBuildDate>Wed, 15 Jul 2026 06:57:15 GMT</lastBuildDate>
        <generator>نیوز اسٹوڈیو (خبر شائع کرنے اور ادارتی بورڈ کا جامع آٹومیشن سافٹ ویئر) ورژن 3.0</generator>
        <image>
            <url>https://www.taghribnews.com/skins/default/ur/normal/ch01_newsfeed_logo.gif</url>
            <title>تقريب خبررسان ايجنسی -  تازہ ترین عناوینفرہنگ و ...</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/culture</link>
            <width>100</width>
            <height>70</height>
            <description><![CDATA[کی طرف سے تیار تقريب خبررسان ايجنسی]]></description>
        </image>
        <language>ur</language>
        <copyright>صرف تقريب خبررسان ايجنسی کے نام کے ذکر کے ساتھہ ہی مطالب نقل اورنشر کرنے کی اجازت ہے</copyright>
        <pubDate>Wed, 15 Jul 2026 06:57:15 GMT</pubDate>
        <category>فرہنگ و ثقافت</category>
        <ttl>60</ttl>
        <atom:link href="https://www.taghribnews.com/rssir.,ltizt4,,ik1pxlne..7t2bcr.tsdtz7d.xml" rel="self" type="application/rss+xml" />
        <item>
            <title>ریسلنگ میں تاریخی کارنامہ، ایران نے فری اسٹائل کے بعد گریکو رومن میں بھی عالمی ٹائٹل جیت لیا</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/692252/ریسلنگ-میں-تاریخی-کارنامہ-ایران-نے-فری-اسٹائل-کے-بعد-گریکو-رومن-بھی-عالمی-ٹائٹل-جیت-لیا</link>
            <description><![CDATA[ایران کی ریسلنگ ٹیم نے تاریخ رقم کر دی۔

عالمی چیمپئن شپ 2025 میں پہلے فری اسٹائل ٹیم نے عالمی ٹائٹل اپنے نام کیا اور اب گریکو رومن ٹیم نے بھی ایک روز قبل ہی پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔

کروشیا کے شہر زغرب میں جاری گریکو رومن ورلڈ ریسلنگ چیمپئن شپ میں ایران کے امین میرزازادہ (130 کلوگرام) اور غلامرضا فرخی (82 کلوگرام) نے سونے کے تمغے جیتے جبکہ پیغام احمدی (55 کلوگرام) چاندی کا تمغہ اپنے نام کرنے میں کامیاب رہے۔&nbsp;

علاوہ ازیں محمد ہادی ساروی بھی فائنل میں پہنچ گئے ہیں اور دانیال سہرابی کے پاس بھی کانسی کے تمغے کا موقع میسر ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایرانی فری اسٹائل ٹیم بھی 2 طلائی، 2 چاندی اور 3 کانسی کے تمغوں کے ساتھ 145 پوائنٹس بنا کر چھٹی بار عالمی چیمپئن بنی تھی۔

ٹیم رینکنگ میں امریکہ 134 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے اور جاپان 111 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔

ایران کی فری اسٹائل ٹیم اس سے قبل 1961، 1965، 1998، 2002 اور 2013 میں عالمی چیمپئن بنی تھی۔ اس کے علاوہ 9 بار رنر اپ اور 14 مرتبہ تیسرے نمبر پر بھی آئی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ ایران کی فری اسٹائل اور گریکو رومن دونوں ٹیموں نے بیک وقت عالمی چیمپئن شپ جیت کر ملکی تاریخ میں سنہری باب رقم کیا ہے۔]]></description>
            <category>فرہنگ و ثقافت</category>
            <pubDate>Sat, 20 Sep 2025 20:35:30 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/692252/ریسلنگ-میں-تاریخی-کارنامہ-ایران-نے-فری-اسٹائل-کے-بعد-گریکو-رومن-بھی-عالمی-ٹائٹل-جیت-لیا</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000692/n00692252-b.jpg" length="39499" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>حالیہ بدامنی کے باوجود، شام میں امریکی اثرورسوخ کے نئے منصوبے کی داغ بیل ڈالدی گئی</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/684663/حالیہ-بدامنی-کے-باوجود-شام-میں-امریکی-اثرورسوخ-نئے-منصوبے-کی-داغ-بیل-ڈالدی-گئی</link>
            <description><![CDATA[Argent LNG&nbsp;کے CEO نے کل اعلان کیا کہ امریکی کمپنیاں Baker Hughes، Hunt Energy اور Argent LNG شام کے تباہ شدہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے باہمی تعاون سے شام کے تیل، گیس اور بجلی کے شعبوں کے لیے ایک جامع منصوبہ تیار کریں گی۔

یہ کمپنیاں تیل اور گیس کی تلاش اور بجلی کے &nbsp;پیداواری منصوبوں میں کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

اس سے قبل کئی عرب خلیجی ممالک کی کمپنیوں نے شام کے بجلی پیدا کرنے کے بنیادی ڈھانچے اور بندرگاہوں کو مضبوط بنانے کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

امریکی منصوبہ دریائے فرات کے مغرب میں ان علاقوں سے شروع ہونے والا ہے جو شامی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔

&nbsp;


]]></description>
            <category>فرہنگ و ثقافت</category>
            <pubDate>Sat, 19 Jul 2025 17:16:44 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/684663/حالیہ-بدامنی-کے-باوجود-شام-میں-امریکی-اثرورسوخ-نئے-منصوبے-کی-داغ-بیل-ڈالدی-گئی</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000684/n00684663-b.jpg" length="45841" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>8ویں امام حضرت علی بن موسی الرضا علیہ اسلام کی ولادت باسعادت</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/note/676531/8ویں-امام-حضرت-علی-بن-موسی-الرضا-علیہ-اسلام-کی-ولادت-باسعادت</link>
            <description><![CDATA[11 ذی القعدہ کو آٹھویں امام حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت کا دن ہے۔

حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل سے تھے۔ آپ نے اپنے والد حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام کے بعد امامت سنبھالی۔ امام رضا علیہ السلام کی ولادت کے موقع پر دنیا بھر سے مسلمان ایران میں واقع ان کے مقدس روضے کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔

حضرت امام رضا علیہ السلام کی زندگی
حضرت امام رضا علیہ السلام کی ولادت مدینہ منورہ میں 11 ذوالقعدہ 148 ہجری کو ہوئی۔ آپ کے والد گرامی حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے آپ کا نام &quot;علی&quot; رکھا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی رضا کے اظہار کے طور پر آپ کو &quot;رضا&quot; کا لقب عطا ہوا، اور آپ کی کنیت &quot;ابوالحسن&quot; تھی۔

آپ کی امامت کا دور 183 ہجری میں اس وقت شروع ہوا جب آپ کی عمر 35 برس تھی، اور آپ نے تقریباً 20 برس تک یہ الٰہی منصب سنبھالا۔ آپ کے دور امامت میں تین عباسی خلفاء کا زمانہ شامل ہے۔ پہلے دس برس ہارون الرشید، پھر پانچ برس امین، اور آخری پانچ برس مامون الرشید۔

جب امام رضا علیہ السلام نے امامت سنبھالی تو اس وقت سیاسی حکومت بغداد میں ہارون الرشید کے ہاتھ میں تھی۔ ہارون کی حکومت ظلم و جبر پر مبنی تھی، جس کے باعث وقت کے ساتھ ساتھ اس کی طاقت کمزور ہونے لگی اور مختلف مقامات پر بغاوت ہونے لگی۔ اس موقع پر امام رضا علیہ السلام نے مدینہ میں اپنے منصب امامت کا اعلان کیا اور عوام کے دینی و سماجی مسائل کے حل میں بھرپور کردار ادا کیا۔

امام رضا علیہ السلام کی زندگی اور امامت کا دور وہ زمانہ تھا جب اہل بیت علیہم السلام کی طرف لوگوں کا رجحان اپنی بلندی پر تھا، اور ان کی عوامی حمایت میں غیر معمولی اضافہ ہورہا تھا۔

حضرت امام رضا علیہ السلام کی ایران آمد
حضرت امام رضا علیہ السلام کی امامت کا دور بیس سال پر مشتمل تھا، جس میں سے سترہ سال آپ نے مدینہ منورہ میں گزارے اور آخری تین سال ایران کے علاقے خراسان میں بسر کیے۔ ہارون الرشید کی وفات کے بعد اس کا بیٹا مامون تخت خلافت پر بیٹھا۔

اس دور کے شیعہ امام رضا علیہ السلام کو اپنا الٰہی امام اور خلیفہ مانتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ عباسی خلیفہ مامون جانتا تھا کہ امام رضا علیہ السلام کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حقیقی جانشین سمجھا جاتا ہے لہذا ان سے خائف تھا۔ اسی خوف کے تحت مامون نے امام رضا علیہ السلام کو مرو بلانے کا فیصلہ کیا تاکہ ظاہری دوستی کا تاثر دے سکے اور یہ ظاہر کرے کہ اس کی حکومت کو امام علیہ السلام کی تائید حاصل ہے۔

ابتدائی طور پر امام رضا علیہ السلام نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا۔ لیکن جب مامون کی دعوت دھمکی میں بدل گئی، تو امام کو 200 ہجری میں مجبوراً خراسان کی طرف روانہ ہونا پڑا۔ امام نے یہ سفر خونریزی سے بچنے کے لیے اختیار کیا، تاکہ شیعوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ آپ نے اس جبر سے بھرے سفر پر واضح ناراضگی کا اظہار کیا۔

جب امام رضا علیہ السلام نے محسوس کیا کہ اب سفر ناگزیر ہے، تو آپ نے بار بار مسجد نبوی میں حاضری دی اور اس انداز میں زیارت کی کہ ہر شخص سمجھ گیا کہ یہ سفر امام علیہ السلام کی مرضی کے خلاف ہے۔ اس کے بعد امام نے اپنے تمام قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو جمع کر کے فرمایا: میرے لیے روؤ، کیونکہ میں مدینہ واپس نہیں آؤں گا۔ یہ جملہ واضح کرتا ہے کہ امام مامون کی شیطانی سازش سے بخوبی آگاہ تھے، لیکن حالات کے جبر کے سبب اس دعوت کو قبول کرنے پر مجبور ہوئے۔

جب امام رضا علیہ السلام بالآخر مرو پہنچے، جو اس وقت مامون کا دارالخلافہ تھا، تو مامون خود اور کچھ ممتاز عباسی عمائدین نے آپ کا استقبال کیا۔

مامون اور امام رضا علیہ السلام
ابتداء میں مامون نے امام رضا علیہ السلام کو خلافت کی پیشکش کی، لیکن امام نے اس پیشکش کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ رد کر دیا اور فرمایا: اگر خلافت تمہارا حق ہے، اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس مقام کے لیے منتخب کیا ہے، تو تمہیں یہ اختیار نہیں کہ اسے کسی اور کو سونپو۔ تم اللہ کی طرف سے عطا کردہ منصب سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔ اور اگر خلافت تمہارا حق نہیں، تو تمہیں یہ اختیار بھی نہیں کہ کسی ایسی چیز کی پیشکش کرو جو تمہاری ملکیت ہی نہیں۔

مامون نے جب خلافت کی پیشکش میں ناکامی دیکھی تو اس نے امام کو ولی عہد بنانے کی تجویز دی۔ امام علیہ السلام نے اس تجویز کو بھی رد کر دیا، لیکن آخر کار شدید دباؤ کے تحت امام کو ولی عہدی قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ تاہم اس سے پہلے امام نے چند شرائط رکھیں جن میں یہ شامل تھا کہ وہ حکومتی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی گورنر یا عہدیدار کی تقرری یا برطرفی میں حصہ لیں گے۔ یہ شرائط اس بات کا کھلا ثبوت تھیں کہ امام رضا علیہ السلام مامون کی حکومت کو شرعی یا قانونی حیثیت نہیں دیتے تھے اور کسی سرکاری ذمہ داری کو قبول نہیں کرتے تھے۔

امام رضا علیہ السلام کی شہادت
جب مامون کی تمام چالیں ناکام ہو گئیں اور اس نے دیکھا کہ امام رضا علیہ السلام کی مقبولیت روز بروز بڑھ رہی ہے اور لوگ ان سے شدید محبت کرنے لگے ہیں، تو اس نے امام کو شہید کرنے کا فیصلہ کیا۔ مامون نے انگور یا انار کے ذریعے امام کو زہر دیا، جس کے نتیجے میں 203 ہجری میں امام رضا علیہ السلام نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔

آپ کو طوس یعنی موجودہ مشہد، ایران میں دفن کیا گیا۔ امام علیہ السلام کا عظیم روضہ آج بھی وہیں موجود ہے۔

امام رضا علیہ السلام کے فرزند، حضرت امام محمد تقی الجواد علیہ السلام نے اپنے والد کے جسدِ مبارک کو غسل دیا اور نماز جنازہ پڑھائی، لیکن یہ عمل خفیہ طور پر انجام دیا گیا۔ امام کا جسدِ اقدس مشہد میں آپ کے پیروکاروں اور محبّین کی موجودگی میں دفن کیا گیا، اور صدیوں سے آپ کا روضہ ایرانیوں کے لیے برکت و عظمت کا باعث ہے۔ امام رضا علیہ السلام کا روضہ مبارک ایران کا سب سے بڑا، اہم اور نمایاں مذہبی مرکز ہے جو ایرانی-اسلامی طرزِ تعمیر کی بہترین مثال ہے۔ ہر سال ایران اور دنیا بھر سے لاکھوں زائرین امام کے روضے کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔
امام رضا علیہ السلام کے روضہ کا احاطہ عظیم الشان عمارتوں کا مجموعہ ہے جس میں خود روضہ مبارک، صحن، ایوانات (برآمدے)، ایک عجائب گھر، ایک عظیم کتب خانہ، چار مدارس دینیہ، ایک قبرستان، رضوی یونیورسٹی برائے علوم اسلامی، زائرین کے لیے وسیع دستر خوان، وسیع نماز ہال اور کئی دیگر عمارات شامل ہیں۔

مسجد گوہرشاد تیموری دور میں تعمیر کی گئی ایک عظیم الشان جامع مسجد ہے جو اب روضہ امام رضا علیہ السلام کے احاطے میں واقع ایک مرکزی مصلا کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔

یہ مسجد مشہد کی قدیم ترین مساجد میں سے ہے، اور اپنی دلکش فنِ تعمیر کی بدولت یہ ایران کے اہم ثقافتی، تاریخی اور مذہبی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔

ایرانی فن آئینہ کاری اور روضہ امام رضا علیہ السلام
آئینہ کاری ایرانی فن کا ایک خوبصورت حصہ ہے اور یہ فنِ تعمیر کی تزئین و آرائش کا ایک ذیلی شعبہ سمجھا جاتا ہے۔ اس فن کی تاریخ ایران میں صفوی دور سے شروع ہوتی ہے اور قاجار دور میں یہ فن اپنے عروج پر پہنچا۔ اسی وجہ سے امام رضا علیہ السلام کے روضے کی موجودگی نے مشہد کو آئینہ کاری کے بڑے مراکز میں شامل کردیا۔

روضہ امام رضا علیہ السلام میں کئی مقامات اور ایوانات ایسے ہیں جو رنگا رنگ اور نفیس آئینوں سے مزین ہیں، جو روضے کی زیارت کے لئے آنے والوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔]]></description>
            <category>فرہنگ و ثقافت</category>
            <pubDate>Fri, 09 May 2025 14:51:11 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/note/676531/8ویں-امام-حضرت-علی-بن-موسی-الرضا-علیہ-اسلام-کی-ولادت-باسعادت</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000676/n00676531-b.jpg" length="46340" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>آیت اللہ صدیقی: اسرائیلی حکومت کے ساتھ جنگ ​​حق اور باطل کے درمیان جنگ ہے</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/news/657498/آیت-اللہ-صدیقی-اسرائیلی-حکومت-کے-ساتھ-جنگ-حق-اور-باطل-درمیان-ہے</link>
            <description><![CDATA[تہران میں نماز جمعہ کے مبلغ نے کہا: آج کا دن صرف غزہ اور لبنان کے ساتھ اسرائیلی حکومت کی جنگ نہیں ہے بلکہ دین و مذہب، حق و باطل کی جنگ ہے۔

آیت اللہ کاظم صدیقی نے اس ہفتے دارالحکومت تہران یونیورسٹی میں نماز جمعہ کے خطبوں میں کہا: نفس کا تقویٰ اور سچائی نیک اعمال ہیں۔ تمام عطیات، احسانات،&nbsp;نیک کاموں کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اگر تقویٰ نہ ہوں تو قبولیت کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: آج اسرائیلی حکومت کی غزہ اور لبنان کے ساتھ جنگ ​​صرف ایک جنگ نہیں ہے بلکہ یہ دین اور مذہب، حق اور باطل کے درمیان جنگ ہے۔

حضرت زہرا س کی زندگی کی جہتیں غیر معمولی ہیں۔

تہران میں نماز جمعہ کے مبلغ نے کہا: حضرت زہرا (س) توحید اور ادیان کا جوہر ہیں۔ حضرت زہرا (س) کی زندگی کی جہتیں غیر معمولی ہیں اور ہمیں اسے سمجھنے اور پہچاننے کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ہمیں دنیا کو بتانا چاہیے کہ حضرت زہرا (س) ایک حقیقی رہنما کے کردار میں ہیں۔ جیسا کہ امام (رح) نے فرمایا کہ اگر حضرت زہرا (س) مرد ہوتیں تو وہ نبی ہوتیں۔

آیت اللہ صدیقی نے کہا: حضرت زہرا (س) بیوی رکھنے، بچوں کی پرورش، دین کی حفاظت، قرآن کی حفاظت، تصوف اور بدیہی امور میں ممتاز تھیں اور اپنے والد اور شوہر کے علاوہ کوئی ان کے برابر نہیں جانا جاتا۔

انہوں نے واضح کیا: حضرت زہرا (س) قربانی، &nbsp;صبر، زاہد، اخلاق، تعلیم، جہاد کی وضاحت اور الہی فضائل کے لیے مشہور ہیں اور ان کے چھوڑے ہوئے کام &quot;کتاب حضرت زہرا (س)&quot; ہیں۔

تہران میں نماز جمعہ کے مبلغ نے کہا: یہ انقلاب جو کہ فاطمی انقلاب تھا، آج ثمر آور ہوا ہے۔ امام راحل حضرت فاطمہ س کے فرزند اور ہماری تاریخ کی ایک غیر معمولی شخصیت تھے۔ امام وہاں سے چلے اور پرچم دوبارہ فاطمہ س کے بیٹے امام خامنہ ای کے ہاتھ میں رکھ دیا گیا۔

انہوں نے کہا: آج کا مسئلہ ایرانی انقلاب نہیں بلکہ اسلامی انقلاب ہے۔ انقلاب کے بانیوں نے شروع سے کہا کہ یہ انقلاب امام زمانہ علیہ السلام کا انقلاب ہے۔ ہمارے عظیم شہداء، جن کے خون نے اعلیٰ اقدار، قرآن، عزت، آزادی اور غیرت کو زندہ کیا، اس صوبے سے نوازا جو ان کی عدم موجودگی میں حضرت زہرا س کی اولاد کو دیا گیا۔

امریکی صدارت کے لیے ٹرمپ کا انتخاب ہمارے لیے اہم نہیں ہے۔

آیت اللہ صدیقی نے کہا: امریکی صدارت کے لیے ٹرمپ کا انتخاب ہمارے لیے اہم نہیں ہے۔ امریکہ کے پاس تسلط اور لوٹ مار کے پھیلاؤ اور دہشت گرد گروہوں کی تشکیل اور قوموں کے درمیان بغاوت اور انتشار پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ آج بھی ملک کے اندر کچھ لوگ، جو امریکہ پر ہمیشہ تنقید کرتے ہیں، کہنا چاہتے ہیں کہ اختلافات کا سلسلہ ہے، اس لیے ایسا نہیں ہے اور نہ ہی ریپبلکن اور ڈیموکریٹس میں کوئی فرق ہے۔

انہوں نے ریاض سربراہی اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اسلامی ممالک کے سربراہان ریاض میں جمع ہوئے لیکن بدقسمتی سے انہوں نے مزاحمتی محاذ کی مدد نہیں کی۔ اس سلسلے میں ہم اس قسم کے نتائج کی مذمت کرتے ہیں۔]]></description>
            <category>فرہنگ و ثقافت</category>
            <pubDate>Fri, 15 Nov 2024 11:05:03 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/news/657498/آیت-اللہ-صدیقی-اسرائیلی-حکومت-کے-ساتھ-جنگ-حق-اور-باطل-درمیان-ہے</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000657/n00657498-b.jpg" length="41923" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس کا ساتھی  شہید مشتاق السعیدی</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/article/656792/شہید-قاسم-سلیمانی-اور-ابومہدی-المہندس-کا-ساتھی-مشتاق-السعیدی</link>
            <description><![CDATA[بشکریہ: مہر خبررساں ایجنسی

شہید مشتاق السعیدی اپنے دل میں داعش کے محاصرے میں آنے والوں کا درد رکھتے تھے اور ان کی نجات کے لئے اپنی جان خطرے میں ڈالتے تھے۔

شہداء زندہ ہیں۔ زندگی کے ہر شعبے میں دوسروں پر ان کے اثرات نمایاں ہوتے ہیں۔ شہداء کی طرح ان کے آثار بھی کبھی ختم نہیں ہوتے ہیں یہی ان کے زندہ ہونے کی علامت ہے۔ اسی سے واضح ہوتا ہے کہ زندہ سلیمانی اور زندہ ابومہدی کی نسبت شہید سلیمانی اور شہید ابو مہدی دشمن کے لئے زیادہ خطرناک ثابت ہورہے ہیں۔

شہداء کا اثر صرف اس سرزمین تک محدود نہیں ہے جہاں وہ رہتے یا لڑتے تھے کیونکہ شہداء نے مختلف ممالک جیسے افغانستان، یمن، لبنان، عراق، پاکستان، شام اور نائیجیریا میں جارحیت اور سامراجی قبضے کے خلاف اعلیٰ اہداف حاصل کیے۔ شہادت کے بعد بین الاقوامی سطح پر ان کے اثرات محسوس کئے گئے۔ آج ہم انگلینڈ، امریکہ، فرانس، جرمنی، جنوبی کوریا، اردن، سویڈن اور آئرلینڈ جیسے ممالک میں اس کا اثر دیکھ سکتے ہیں جہاں آزادی کے متلاشی طلباء اور فلسطین کے حامی، فلسطینی قوم کے ساتھ یکجہتی کے مظاہرے کرتے ہیں اور غزہ میں فلسطینی عوام کی نسل کشی کی مسلسل مذمت کرتے ہیں۔

7 اکتوبر 2023 کے بعد بہت سے ممالک مخصوصا مشرق وسطیٰ میں مقاومت معاشرے میں سب سے زیادہ زیربحث آنے والے مسائل میں شامل ہوگئی ہے۔ یمن سے لے کر فلسطین تک صہیونی حکومت کے خلاف ہونے والے مزاحمتی اقدامات موضوع بحث بن رہے ہیں۔

چونکہ ہر معاشرے کو اپنے مقاصد اور اقدار تک پہنچنے کے لیے نمونہ عمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہداء معاشرے میں رہنے والوں مخصوصا جوان طبقے کے لئے بہترین نمونہ اور رول ماڈل ہوتے ہیں۔ بلاشبہ بہت سے شہداء کی تاریخ نشیب و فراز سے لبریز ہے جس سے عام لوگ مخصوصا جوان نسل واقف نہیں۔ اسی وجہ سے رہبر معظم شہداء کی یاد زندہ رکھنے کی مسلسل تاکید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ شہداء کی یادوں کو زندہ رکھنا شہادت سے کم نہیں۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے مہر نیوز میں شہداء طوفان الاقصی کے نام سے ایک سلسلہ شروع کیا جارہا ہے تاکہ معروف شہداء کی زندگی کے بارے میں قارئین کو کچھ آگاہی حاصل ہوجائے۔

مقدمہ اور پہلی رپورٹ شروع کرنے کے لیے ہم نے شہید &quot;مشتاق السعیدی&quot; کی زندگی کا جائزہ لیا ہے جس کا نام &quot;ابوتقوا&quot; ہے۔

حملہ آوروں کے خلاف جنگ؛ ایک دینی فریضہ

شہید سردار &quot;مشتاق السعیدی&quot; جو &quot;ابو تقوا&quot; کے نام سے مشہور تھے عراق سے تعلق رکھنے والی حرکۃ النجباء کے نائب سربراہ تھے اور نسبتاً پسماندہ علاقے میں رہتے تھے۔ ابو تقوا نے صدام کی آمرانہ حکومت سے لے کر اقتدار جارح امریکی حکومت تک منتقلی کے بعد تک اپنی جہادی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کا عقیدہ تھا: &quot;حملہ آوروں اور تکفیری محاذ کے خلاف جنگ ایک عقلی اور دینی فریضہ ہے۔ ہمارا ہر عمل امام زمان علیہ السلام کے ظہور کے لئے مقدمہ ہونا چاہئے۔

ابو تقوی کی توجہ مقاومتی جوانوں میں معنویت اور حوصلہ بڑھانے پر مرکوز رہتی تھی۔ شہید مشتاق السعیدی اطمینان نفس، ذہانت اور بڑی ہمت کے مالک تھے۔ مشکل ترین حالات میں انہوں نے اپنے شانہ بشانہ رہ کر لڑنے والے جوانوں حوصلہ اور سکون پہنچانے کی کوشش کی۔ وہ ہمیشہ معنویت اور ذکر الہی کے ذریعے اپنا حوصلہ برقرار رکھنے پر تاکید کرتے تھے۔ انہوں نے ایمان اور تقوی کی بنیاد پر قابض امریکیوں کے خلاف جنگ میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

انتھک جیسے شہید حاج قاسم اور شہید ابومہدی

النباعی، ام طلائب، الحویش سامراء، تکریت، بیجی، قیروان، قاھرہ اور ام زنبایر جیسے علاقوں کی آزادی کے لئے ہونے والے آپریشنز میں شہید مشتاق موجود تھے۔ وہ شہید حاج قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کے قریبی دوستوں میں سے تھے اور ان کی طرح میدان جنگ میں کبھی تھکاوٹ کا شکار نہیں ہوتے تھے۔ ابو تقوا کا دل داعش کے محاصرے میں پھنسے لوگوں کے لیے دھڑکتا تھا، اسی لیے اس نے اپنے آپ کو دن رات عوام اور مظلوموں کے محاذ کے دفاع کے لیے وقف کر رکھا تھا۔

شہید ابومہدی المہندس کے ساتھ باپ بیٹے کا رشتہ

ابو مہدی المہندس کی تمام تر توجہ اور پدرانہ شفقت کی وجہ سے مقاومتی کمانڈروں کے عزم اور حوصلے بہت بلند رہتے تھے۔ شہید مشتاق اور شہید ابومہدی کے درمیان باپ بیٹے کی طرح مضبوط تعلق اور رشتہ تھا۔ زیادہ ذمہ داریوں کی وجہ سے شہید ابومہدی ان پر خصوصی توجہ کرتے تھے۔ شہید حاج قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی پر حملے کے بعد دوسرے کمانڈروں کی طرح شہید مشتاق بھی نہایت ہی غمگیں اور محزون تھے۔ انہوں نے امریکہ سے سخت امتحان لینے کے لئے موثر اقدامات کیے۔

شہید مشتاق السعیدی؛ عاجز کمانڈر

صبر و تحمل اور دین کے دفاع میں ایثار و قربانی ان چیزوں میں شامل تھی جن پر مشتاق السعیدی خصوصی تاکید کرتے تھے۔ انہوں نے زبان سے زیادہ عمل کے ذریعے لوگوں کو حق کی طرف دعوت دی اور &quot;کونوا دعاۃ للناس بغیر السنتکم&quot; کا عملی نمونہ بن گئے۔ سادگی، اطمینان نفس، غریبوں کی مدد، عبادت اور توسل کو اہمیت دینا اور شب جمعہ کو ائمہ معصومین کی خصوصی زیارت کرنا ان کی خصوصیات میں شامل ہیں۔ اگر سامراج کے خلاف جنگ میں ایک کمانڈر تھے لیکن ہر چھوٹے بڑے کام کے لئے ہمیشہ آمادہ رہتے تھے۔

الاقصیٰ طوفان کا آغاز اور ابو تقوی کی شہادت

حرکۃ النجباء کے سیکریٹری جنرل نے امریکی سفیر کو عراق کے وکیل کی حیثیت سے کام کرنے کی اجازت نہ دینے کے بیان میں امریکہ سیخ پا ہوا۔ اسی دوران فلسطینی مقاومت نے صہیونی حکومت کے خلاف طوفان الاقصی آپریشن کیا۔ حرکۃ النجباء سمیت عراقی مقاومتی تنظیموں نے فلسطینی مظلوم عوام کے دفاع کے لئے غاصب صہیونی حکومت کے خلاف کاروائی اور امریکہ تنصیبات پر حملے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد بغداد میں امریکی سفیر نے اعلان کیا کہ شیخ اکرم الکعبی سمیت عراقی مقاومتی رہنماوں کو خصوصی ٹارگٹ کیا جائے گا۔

عراق میں اسلامی مزاحمتی گروپ کے خلاف ان پے در پے دھمکیوں کے بعد امریکی حکومت نے 15 جنوری 2023 کو بغداد میں ایک بزدلانہ کاروائی کی جس میں حرکۃ النجباء کے نائب سربراہ ابوتقوا اور حشد الشعبی کے ایک اعلی کمانڈر کی شہادت واقع ہوئی۔

شہید کے خون کا اثر اور جوانوں کا جذبہ انتقام

امریکی ڈرونز کے ذریعے تباہ شدہ شہید حاج ابو تقوا کی گاڑی کی تصاویر منتشر ہوتے ہی شہید باقر الصدر اور امام خمینی کے مکتب کے شاگردوں نے اعلان کیا کہ وہ امریکہ سے انتقام لینے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ وہ دشمن کے ہاتھوں بہنے والے اس مقدس لہو کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ امریکہ سن لے کہ جب تک خطے سے اس کا مکمل انخلاء نہیں ہوتا مقاومتی جوان چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اس راہ میں فتح یا شہادت مقاومتی جوانوں کی تمنا ہے۔

شہید ابوتقوا کے بعد عراقی مقاومت کی جانب سے صہیونی حکومت کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں۔ فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے لئے صہیونی تنصیبات پر حملے کیے جارہے ہیں۔ مقاومت عراق نے کہا ہے کہ جب تک اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں پر جارحیت ختم نہ کرے، عراقی مقاومت کے حملے جاری رہیں گے۔]]></description>
            <category>فرہنگ و ثقافت</category>
            <pubDate>Fri, 08 Nov 2024 10:34:21 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/article/656792/شہید-قاسم-سلیمانی-اور-ابومہدی-المہندس-کا-ساتھی-مشتاق-السعیدی</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000656/n00656792-b.jpg" length="32780" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>امام حسن عسکری علیہ اسلام کی تدبیر اور اپنے چاہنے والوں کی مشکلات کا حل</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/article/653650/امام-حسن-عسکری-علیہ-اسلام-کی-تدبیر-اور-اپنے-چاہنے-والوں-مشکلات-کا-حل</link>
            <description><![CDATA[تحریر: روح الله توحیدی&zwnj; نیا
تلخیص و ترجمہ: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
بشکریہ:حوزہ نیوز ایجنسی

آج کے اس پرآشوب دور میں جہاں ہر طرف نفسانفسی کا عالم ہے ہر ایک خود میں مگن ہے، ایک جوان ایسے آئیڈیل کی تلاش میں حیران و سرگردان ہے جسے اپنی زندگی کا آئینہ بنا کر کامیابی کی بلندیوں کو طے کرتا ہوا اپنی منزل مطلوب تک پہنچ جائے ایسے میں ضروری ہے کہ ہم ان شخصیتوں کے کردار و افکار کو جوانوں کے سامنے پیش کر سکیں، جو ہر اعتبار سے ایک مکمل آئیڈیل ہیں۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کی ذات بابرکت انہیں ہستیوں میں سے ایک ہے جسے اس پر محن دور میں جوانوں کے آئیڈیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ بقول رہبر انقلاب &quot;امام حسن عسکری علیہ السلام کی ذات تمام مومنین کے لئے اور خاص طور پر جوانوں کے لئے ایک نمونہ بن سکتی ہے، ایسے امام جنکے سلسلہ سے آپکے حامیوں اور آپ کے مخالفوں دونوں نے ہی آپ کے فضل کا، علم و تقوی کا، طہارت و عصمت کا دشمنوں کے مقابل آپکی شجاعت کا مشکلات کے مقابل صبر و استقامت کا اعتراف کیا ہے اور جب آپکی شہادت واقع ہوئی تو آپکی کل عمر ۲۸ برس تھی۔ (1)

امام حسن عسکری علیہ اسلام اور آپکے شیعوں پر پابندیاں:

ادوار آئمہ طاہرین علیہ السلام میں امام حسن عسکری علیہ السلام کا دور سخت ترین دور ہے، ایسا دور جس میں آپ پر بھی پابندیاں تھیں آپکے چاہنے والوں پر بھی نظر رکھی جا رہی تھِی اور شیعوں پر سیاسی و سماجی لحاظ سے بہت سختیاں تھیں اور انکی کڑی نگرانی ہوتی تھی، حتٰی کہ زندان میں بھی علیحدہ سے آپ اور آپکے شیعوں پر جاسوسوں کو رکھا گیا تھا کہ ہر نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔ (2) اسکے علاوہ جب کبھی امام علیہ السلام کو نسبی آزادی دی جاتی تو امام علیہ السلام کو مامور کیا جاتا کہ ہفتہ میں دو بار دارالخلافہ میں حاضری دیں۔ (3) پابندیاں اس قدر سخت تھیں کہ آپکے اصحاب و چاہنے والے عمومی جگہوں پر آپ سے مخاطب بھی نہیں ہو سکتے تھے۔ (4) اور بارہا ایسا بھی ہوا کہ آپ کے چاہنے والوں کو بھی آپ کے ساتھ ہی قید کر دیا گیا۔(5)

اس قدر پابندیوں اور سختیوں کا سبب یہ تھا کہ ایک تو حکومت وقت اس بات سے باخبر تھی کہ امامت کا تصور کیا ہے اور شیعہ عقائد کے اعتبار سے امام علیہ السلام کے علاوہ ہر کسی کی حکومت کو نااہل سمجھتے ہیں، دوسری طرف عباسیوں کے خلاف الگ الگ جگہوں سے آوازیں اٹھ رہی تھیں، ایسے میں کچھ لوگ یہ جھوٹی خبریں بھِی پہنچا رہے تھے کہ امام علیہ السلام کا اپنے چاہنے والوں سے گہرا رابطہ ہے، خط و کتابت کے ذریعہ بھی اور وکیلوں کے ذریعہ بھی اور لوگ آپ تک رقومات شرعیہ کو بھیجتے ہیں اور مخفی طور پر شیعوں کے مختلف گروہ آپ سے رابطہ میں بھی ہیں اس لئے حکومت کی جانب سے کڑی نگرانی ہو رہی تھی اور یہی وجہ تھی کہ ۶ سال کے دور امامت میں آپ کو ہمیشہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے سلسلہ سے خدشہ رہا کہ انکے زندگی کے چراغوں کو حکومت کی جانب سے کسی بھی قت گل کیا جا سکتا ہے۔(6)

امام علیہ السلام کی تدبیر اور اپنے چاہنے والوں کی مشکلات کا حل:

اس گھٹن کے ماحول میں بھی امام علیہ السلام نے شیعوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کوئی دقیقہ فروگزار نہ کیا بلکہ اپنے چاہنے والوں کی ہدایت کے لئے اور بھی تیزی سے کام کیا، جس کے سبب شیعوں کی تعداد میں قابل ملاحظہ اضافہ ہوا اور شیعہ دور دراز کے علاقوں تک پہنچ گئے۔ امام علیہ السلام نے ہجرت کر کے دور دراز کے علاقوں میں بود و باش اختیار کرنے والے شیعوں کو بھی تنہا نہیں چھوڑا بلکہ انکے مسائل کے حل کے لئے اپنے وکیلوں کو روانہ کیا، جو ہر جگہ کے شیعوں کے مسائل سے آگاہ ہوتے اور انکے مسائل کو حل کرتے۔ (7) نمونے کے طور پر ہم ایران میں خراسان، جبال اور گرگان سے لیکر قم، اہواز، تک کے علاقوں کا نام لے سکتے ہیں، جہاں امام علیہ السلام کی جانب سے وکیلوں کا ایک سلسلہ قائم تھا جو ان علاقوں کے حالات سے امام علیہ السلام کو باخبر کرتا اور امام علیہ السلام شیعوں کی رہبری کے لئے ضروری ہدایات فرماتے۔ (8)

امام علیہ السلام پر گرچہ حکومت کی طرف سے سخت نگرانی تھی، اسکے باوجود آپ نے شیعوں کے مسائل کو حل کرنا اپنی اولیں ضرورت سمجھا اور جہاں جیسے ہوا انکے مسائل کو حل کیا اگر کہیں خط لکھ کرکوئی مسئلہ حل ہو رہا تھا تو خط لکھا، (9) اگر کہیں بدعتوں کا رواج ہو رہا تھا اور مساجد کو محلوں کی شکل میں بنایا جا رہا تھا تو وہاں بھی ضروری رہنمائی کرتے ہوئے اس کام سے لوگوں کو روکا کہ مساجد کو محلوں کی طرح نہ بنائیں اور انکی زینت ایسے نہ کریں، جیسے بادشاہوں کے محلوں کی ہوتی ہے۔ (10) اگر کہیں اس بات پر اختلاف ہوا کہ &quot;من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ&quot; سے کیا مراد ہے، تو آپ نے اسکی وضاحت کی اور اس بات کو بیان کیا کہ یہی ولایت امیر المومنین علیہ السلام حزب اللہی جماعت کو دوسرے گروہوں سے الگ کرنے کا معیار ہے۔ (11)

تمام تر گھٹن اور دباؤ کے ماحول میں بھی آپ نے ان لوگوں کی تحسین و تمجید فرمائی، جو ظلم کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور ایسے لوگوں کو ظلم کے خلاف ڈٹے ہوئے مجاہد شیر اور دشمن کے چہرے کو بگاڑ دینے والے سورماؤں کے طور پر پیش کیا۔(12) امام علیہ السلام کی یہ کل کی کوششیں تھیں کہ آج شیعت دنیا میں سر بلند ہے آپ نے سخت ترین حالات میں بھی شیعوں کا مان بڑھایا، انہیں حوصلہ دیا کہ ہرگز مایوس نہ ہوں آگے بڑھتے رہیں، آپکے پیش نظر وہ حالات تھے جو عصر غیبت میں پیش آنے والے تھے، جنکا قیاس عصر حضور آئمہ سے نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا آپ نے ایک طرف تو فکری و سماجی طور پر شیعوں کو مضبوط کیا، دوسری طرف مالی مسائل میں بھی انہیں تنہا نہیں چھوڑا اور جہاں ضرورت پڑی وہاں آپ نے شیعوں کی مالی مدد فرمائی اور ان مشکلات کے حل کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے ہونے والے ظلم کو ناچیز سمجھنے کی دعوت دی اور اپنے وکیلوں کے ذریعہ شیعوں کے درمیان یہ بات راسخ کرا دی کہ ظلم آج ہے کل نہیں رہے گا اور ظلم کا شکار ہو کر ہمت نہ ہارو اسے ناچیز سمجھ کر کل کے سرمایہ کی طرف بڑھو اور برے و سخت حالات میں خدا پر بھروسہ کرو۔ (13)

کردار کی بلندی اور دشمنوں کا اعتراف:

امام علیہ السلام نے جہاں شیعوں کی رہنمائی کے لئے وکیلوں کے ذریعہ ہر جگہ کی خبر رکھی اور ضروری ہدایات کے ذریعہ انہیں سربلند کیا، وہیں اپنے کردار کے ذریعہ اپنے دشمنوں کے منھ کو بھی بند کیا، حتٰی کہ ان لوگوں تک کو آپ واپس لانے میں کامیاب ہو گئے، جو امامت کے سرچشمے سے ہٹ کر انحراف کا شکار ہو گئے تھے چنانچہ ۲۰ سال کے سن میں منصب امامت پر فائز ہوئے اور اسکے باوجود کے امام ہادی علیہ السلام کے اکثر پیروکاروں نے آپ کی امامت کو قبول کیا، کچھ ایسے بھی لوگ تھے جو منحرف ہو گئے، لیکن امام علیہ السلام نے اپنے کردار کو اتنا بلند کیا کہ ان منحرفین کے پاس بھی کوئی جواب نہ تھا اور کچھ مدت کے بعد انہیں بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ دوبارہ اپنے سرچشمہ ولایت پر واپس آ گئے۔ (14) امام ہادی علیہ السلام کے بعد اس دور کی خاص فضا کو دیکھتے ہوئے یہ بات اپنے آپ میں بہت بڑی ہے کہ امام ہادی علیہ السلام کو زندگی کے آخری ایام میں کھلم کھلا موقع نہ مل سکا کہ آپ کے سلسلہ سے لوگوں کو بتا سکیں اور اپنے بعد کے امام کی حیثیت سے آپ کا مکمل تعارف کرا سکیں۔(15)

یہی وجہ ہے کہ امام ہادی علیہ السلام کے دوران حکومت میں بھی بعض لوگ امام کے دوسرے فرزند کی امامت کے قائل تھے۔ نہ صرف آپکے کردار کی بلندی کا اعتراف دشمنوں کو تھا بلکہ اس دور کے بڑے علماء بھی آپ کے علم و فضل کے قائل تھے چنانچہ اسحاق کندی جیسے عالم کا اپنے ہی ہاتھوں سے لکھی گئی کتاب کا اپنے ہاتھوں ہی جلا دینا کوئی معمولی بات نہیں ہے اور آپکے بھیجے گئے شاگرد سے یہ کہنا آپ کے علم کا اعتراف ہے کہ یہ بات ایسے ہی گھر سے نکل سکتی ہے۔ (18) کردار کی بلندی و پاکیزگی کا عالم یہ ہے کہ جب زندان بان سے تمام تر سختیوں کی تاکید کے بعد آپ کے سلسلہ سے پوچھا گیا تو اسکے پاس آپ کی تمجید و تحسین کے سوا کچھ کہنے کو نہیں تھا، لہٰذا اسکے پاس اسکے علاوہ الفاظ ہی نہ تھے کہ تم نے جس کی نگرانی کے لئے مجھے بھیجا اسکی نگرانی کیا کروں کہ وہ ہر وقت مشغول عبادت رہتا ہے۔ (17)

احمد بن عبید اللہ بن خاقان کا یہ اعتراف آپ کی عظمت کو آپ کے مخالفین و دشمنوں کے درمیان بیان کرنے کے لئے کافی ہے کہ جو کہتا نظر آتا ہے۔ &quot;میں نے رفتار و کردار اور پاکدامنی و طہارت و نجابت میں حسن بن علی ابن محمد ابن الرضا سے بڑھ کر کوئی نہ دیکھا کہ میں نے جس سے بھی بھی انکے بارے میں سوال کیا، چاہے وہ اہل قلم ہوں یا منصب قضاوت پر فائز افراد یا وزراء سب نے انکے بارے میں بہت ہی احترام کے ساتھ جو کچھ کہا وہ تحسین و تمجید کے سوا کچھ نہ تھا، میں نے دوست و دشمن کسی کو نہ پایا جو انہیں خیر سے یاد نہ کرتا ہو۔ (18) ایسی شخصیت کی زندگی کے رہنما اصول یقینا آج کے جوانوں کے لئے ضروری ہیں کہ وہ جانیں انکے پاس کتنا عظیم سرمایہ انکے آئمہ طاہرین کی بابرکت حیات کے طور پر موجود ہیں، جنہوں نے سختیوں اور دشواریوں میں رہتے ہوئے بھی اپنے شیعوں کی رہنمائی کی آج اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم اپنا سر فخر سے بلند کر کے کہ سکتے ہیں کہ ہم شیعہ ہیں۔

حواشی:

1۔ بیانات دیدار اقشار مردم و خانواده شهدا و ایثارگران ۱۳۹۰/۱۲/۱۰.

2۔ طبرسی، اعلام الوری، ص۳۵۴.

3۔ طوسی، الغیبة، ص۱۳۹.

4۔ ،رک: اربلی، کشف الغمة، ج۳، ص۲۱۸.

5۔ ایضا ، ص۱۳۲.

6۔ رک: سید بن طاووس، مهج الدعوات، ص۶۳.

7۔ رک: سید بن طاووس، مهج الدعوات، ص۶۳.

8۔ ابن شهرآشوب، مناقب آل ابی&zwnj;طالب، ج۴، ص۴۲۵؛ اربلی، کشف الغمة، ج۲، ص۴۲۵ و ۴۲۷؛ صدوق، کمال الدین و تمام النعمة، ص۴۲۷.

9۔ سید بن طاووس، مهج الدعوات، ص۴۴- ۴۵).

10۔ طوسی، الغیبة، ص۲۰۶.

11۔ اراد بذلک علما یعرف به حزب الله عند التفرقه (اربلی، کشف الغمة، ج۳، ص۲۱۹.

12۔ نحن لیوث الوغی و غیوث الندی و طعنا العدی و...&raquo; (موسوعة الامام العسکری (علیه&zwnj; السّلام)، ص۲۰۸

12۔ طوسی، الغیبة، ص۳۵۷.

14۔ نوبختی، فرق الشیعة، ص۹۵ و ۱۳۸.

15۔ رک: طبرسی، اعلام الوری، ص۳۵۱.

16۔ ابن شهرآشوب، مناقب آل&zwnj;ابی&zwnj;طالب، ج۴، ص۴۲۴.

17۔ کلینی، الکافی، ج۱، ص۵۱۲؛ مفید، ارشاد، ج۲، ص ۳۳۴.

18۔ کلینی، الکافی، ج۱، ص ۵۰۳.

&nbsp;]]></description>
            <category>فرہنگ و ثقافت</category>
            <pubDate>Sat, 12 Oct 2024 14:19:59 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/article/653650/امام-حسن-عسکری-علیہ-اسلام-کی-تدبیر-اور-اپنے-چاہنے-والوں-مشکلات-کا-حل</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000653/n00653650-b.jpg" length="59410" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>شیعہ مرجع تقلید کے ممکنہ جہاد کے فتوے سے صیہونی حکومت کا خوف</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/article/653649/شیعہ-مرجع-تقلید-کے-ممکنہ-جہاد-فتوے-سے-صیہونی-حکومت-کا-خوف</link>
            <description><![CDATA[تحریر: سیدہ توصیف زہرا نقوی
بشکریہ:حوزہ نیوز ایجنسی

رہبر معظم آیت اللہ العظمٰی&nbsp;سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ اور آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی حفظہ اللہ&nbsp;کے ممکنہ جہاد کے فتوے سے صیہونی حکومت کا خوف اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ وہ ان کے قتل کی دھمکیاں دے رہی ہے۔

حال ہی میں اسرائیل کے چینل 14 نے عراق کے شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی اور رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ کی تصاویر نشر کیں، اور انہیں صیہونی حکومت کے اگلے ممکنہ قتل کے اہداف میں شمار کیا۔ اس اعلان نے عراق، ایران اور دیگر اسلامی ممالک میں مرجعیت کے پیروکاروں اور چاہنے والوں کے درمیان غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے بھرپور انداز میں ان کی حمایت میں پوسٹس شیئر کیں، جنہیں خوفزدہ عالمی استکباری طاقتیں انٹرنیٹ سے ہٹانے اور صارفین کے اکاؤنٹس بلاک کرنے پر مجبور ہوگئیں۔

صیہونی حکومت کے اس خوف کے پسِ پردہ عراق میں داعش کے خلاف ہونے والی جنگ اور اس کے نتیجے میں داعش اور اس کے پشت پناہ امریکی و صیہونی حکومتوں کی بدترین شکست ہے۔ ایران و عراق کے مزاحمتی محاذ کے اتحاد اور آیت اللہ سید علی سیستانی کے جہاد کے فتوے نے مغربی طاقتوں کی پیداوار داعش کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا تھا۔ یہی خوف آج بھی صیہونی حکومت کو لاحق ہے۔ وہ بخوبی جانتی ہے کہ اگر شیعہ اعلیٰ مراجعین کی طرف سے جہاد کا فتویٰ آیا تو اس جنگ میں ان کی شکست یقینی ہوگی۔ اسی وجہ سے وہ عظیم شیعہ مراجعین کے خلاف دشمنی پر اتر آئی ہے۔ کسی اور مکتب فکر سے صیہونی حکومت کو اس طرح کا کوئی خطرہ لاحق نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ شیعہ علماء کو دھمکیاں دے رہی ہے۔

حال ہی میں شیعہ مراجعین نے لبنان کی صورتحال کے پیش نظر خمس میں سے سہمِ امام کا کچھ حصہ لبنانی مسلمانوں کی مدد کے لیے دینے کی اجازت دی ہے۔ اسی طرح رہبر معظم حفظہ اللہ کی جانب سے یہ ارشاد بھی سامنے آیا کہ &quot;تمام مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق لبنان اور حزب اللہ کے ساتھ کھڑے ہوں اور غاصب، جابر اور ظالم حکومت کا مقابلہ کرنے میں ان کی مدد کریں۔&quot;

ان احکامات کے صادر ہوتے ہی دنیا بھر میں لوگوں نے کھل کر مظلوم لبنانی اور فلسطینی عوام کی حمایت کی۔ خواتین نے اپنے زیورات تک اس مقصد کے لیے ہدیہ کر دیے، اور یوں ثابت کیا کہ مرجعیت کے ہر حکم کی تعمیل کے لیے تمام مرد و زن ہمہ وقت آمادہ ہیں۔ عالمی استکباری طاقتوں کے لیے یہی کافی ہے کہ ان کی نیندیں حرام ہوں اور خوف میں اضافہ ہو۔

صیہونی حکومت کی طرف سے جاری کردہ لسٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ انتہائی خوفزدہ ہے اور بہادر افواج کا سامنا کرنے کی بجائے علمائے کرام اور نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ مگر وہ یہ بھی جانتی ہے کہ ان کی یہ دھمکیاں مراجعین کرام کی جانب سے مظلومین کی حمایت میں کمی نہیں لا سکیں گی، بلکہ ظالمین کے خلاف عوام کے غم و غصے کو مزید بھڑکانے کا سبب بنیں گی۔

گر حکم جہاد آئے، تاخیر نہ ہو پل بھر

ہم سر پہ کفن باندھے، ہر لمحہ ہیں آمادہ]]></description>
            <category>فرہنگ و ثقافت</category>
            <pubDate>Sat, 12 Oct 2024 12:19:26 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/article/653649/شیعہ-مرجع-تقلید-کے-ممکنہ-جہاد-فتوے-سے-صیہونی-حکومت-کا-خوف</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000653/n00653649-b.jpg" length="28882" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>رہبر معظم انقلاب اسلامی کی امامت میں نماز جمعہ ادا کرنا</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/gallery/652753/1/رہبر-معظم-انقلاب-اسلامی-کی-امامت-میں-نماز-جمعہ-ادا-کرنا</link>
            <description></description>
            <category>فرہنگ و ثقافت</category>
            <pubDate>Fri, 04 Oct 2024 20:02:33 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/gallery/652753/1/رہبر-معظم-انقلاب-اسلامی-کی-امامت-میں-نماز-جمعہ-ادا-کرنا</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000652/n00652753-b.jpg" length="18433" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>تہران کی مسجد میں شہدا حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن نصر اللہ اور ان کے ساتھیوں کی یاد میں تقریب</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/gallery/652729/1/تہران-کی-مسجد-میں-شہدا-حجۃ-الاسلام-والمسلمین-سید-حسن-نصر-اللہ-اور-ان-کے-ساتھیوں-یاد-تقریب</link>
            <description></description>
            <category>فرہنگ و ثقافت</category>
            <pubDate>Fri, 04 Oct 2024 20:01:07 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/gallery/652729/1/تہران-کی-مسجد-میں-شہدا-حجۃ-الاسلام-والمسلمین-سید-حسن-نصر-اللہ-اور-ان-کے-ساتھیوں-یاد-تقریب</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000652/n00652729-b.jpg" length="34663" type="image/jpeg"/>
        </item>
        <item>
            <title>ہمیں قرآن سے صحیح راستہ سیکھنا چاہیے، اور یہی راستہ شہداء نے اپنایا اور اس پر عمل کیا</title>
            <link>https://www.taghribnews.com/ur/article/649506/ہمیں-قرآن-سے-صحیح-راستہ-سیکھنا-چاہیے-اور-یہی-شہداء-نے-اپنایا-اس-پر-عمل-کیا</link>
            <description><![CDATA[امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے کاشان میں منعقد ایک پروگرام میں حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی نے خطاب کیا، اس موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور متعدد سرکاری عہدیدار بھی موجود تھے۔

انہوں نے اہل بیت علیہم السلام کے فرمودات کی روشنی میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ قرآن ہمیں اندھیروں اور ظلمتوں میں راستہ دکھانے کے لیے ہے، امام حسن عسکری علیہ السلام کا قول نقل کرتے ہوئے کہا: &quot;جو کوئی باطل کی سواری اختیار کرے گا، وہ اسے ندامت کے گھر اتار دے گی۔&quot;

ولی فقیہ کے نمائندے نے مزید کہا : روایات کے مطابق، باطل کے راستے پر چلنے والا شخص بالآخر گر جاتا ہے، بعض لوگ جو ترقی کرنا تو چاہتے ہیں،لیکن وہ صحیح راستہ اختیار نہیں کرتے اور حرام راستوں سے گزرتے ہیں۔

انہوں نے تاکید کرتے ہوئے کہا : ہمیں قرآن سے صحیح راستہ سیکھنا چاہیے، اور یہی راستہ شہداء نے اپنایا اور اس پر عمل کیا۔ اس دوران انہوں نے رہبر معظم کی طرف سے انہیں دیے گئے ولی فقیہ کے نمائندے کے عہدے کی تقرری کے حکم میں دی گئی ہدایات کا ذکر کیا، جس میں رہبر معظم نے تقریروں کے معیار کو بلند کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے کہا : امام جماعت کو اپنے خطبات کی تیاری میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے اور مطالعہ کے ساتھ تقریر کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ شہداء زندہ ہیں اور شہادت زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی حیات کا آغاز ہے، اور شہداء اپنے رب کے حضور رزق پاتے ہیں اور ہمارے اعمال سے باخبر ہیں۔]]></description>
            <category>فرہنگ و ثقافت</category>
            <pubDate>Thu, 12 Sep 2024 17:03:48 GMT</pubDate>
            <guid isPermaLink="false">https://www.taghribnews.com/ur/article/649506/ہمیں-قرآن-سے-صحیح-راستہ-سیکھنا-چاہیے-اور-یہی-شہداء-نے-اپنایا-اس-پر-عمل-کیا</guid>
            <enclosure url="https://www.taghribnews.com/images/docs/000649/n00649506-b.jpg" length="33956" type="image/jpeg"/>
        </item>
    </channel>
</rss>
