تقريب خبررسان ايجنسی 25 Jul 2021 گھنٹہ 22:13 http://www.taghribnews.com/ur/article/512882/کشمیر-ہندوستان-کے-قبضے-میں-ہے-ریفرنڈم-کا-ا-پ-کیسے-اعلان-کر-سکتے-ہیں -------------------------------------------------- ٹائٹل : کشمیر ہندوستان کے قبضے میں ہے، ریفرنڈم کا آپ کیسے اعلان کر سکتے ہیں -------------------------------------------------- راجہ فاورق حیدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ :’انہیں (عمران خان) کو یہ بھی نہیں پتہ کہ پاکستان کا آرٹیکل 275 کیا کہتا ہے، وہ کہتا ہے کہ آپ ریاست پاکستان کا حصہ ہوں گے پھر کشمیری یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ صوبے کی طرح رہنا چاہتے ہیں یا کسی اور طرح کا انتظام چاہتے ہیں پاکستان کے اندر۔‘ متن : تحریر:مونا خان بشکریہ:انڈپینڈنٹ اردو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کی مہم کے دوران وزیراعظم پاکستان عمران خان کی تقریر کے اس حصے کی مذمت کی ہے جس میں انہوں نے ریفرنڈم سے متعلق بات کی تھی۔ اتوار کو مظفرآباد میں انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو کے دوران وزیراعظم عمران خان کے ریفرنڈم سے متعلق تقریر پر راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ عمران کان کو پتہ ہی کچھ نہیں ہے، جو وزیراعظم پاکستان یہ کہے کہ جرمنی اور جاپان نے آپس میں لڑائی لڑی ہے اس کی بات کا کیا کہا جائے، انہوں نے اپنے بیان کے ذریعے آزاد (پاکستان کے زیر انتظام) کشمیر کے اندر فساد پیدا کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: آزاد کشمیر کے اندر آکر انہوں نے ایک نئی نظریاتی بحث چھیڑ دی ہے۔ کشمیر ہندوستان کے قبضے میں ہے، ریفرنڈم کا آپ کیسے اعلان کر سکتے ہیں، آپ کے پاس کیا گارنٹی ہے کہ آپ آئندہ 50 یا 100 سال تک پاکستان کے وزیراعظم رہیں گے۔ راجہ فاورق حیدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ : انہیں (عمران خان) کو یہ بھی نہیں پتہ کہ پاکستان کا آرٹیکل 275 کیا کہتا ہے، وہ کہتا ہے کہ آپ ریاست پاکستان کا حصہ ہوں گے پھر کشمیری یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ صوبے کی طرح رہنا چاہتے ہیں یا کسی اور طرح کا انتظام چاہتے ہیں پاکستان کے اندر۔ انہوں نے کہا کہ یا تو عمران خان کو کچھ پتہ نہیں ہے یا پھر وہ جان بوجھ کر شرارت کرتے ہیں ، لوگوں میں ابہام پیدا کرتے ہیں۔ راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ عمران خان نے دوسرا ظلم یہ کیا کہ انہوں نے کشمیر کے انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کی، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی توہیں کی، ہمارے آئین کی توہین کی۔ کیا یہ تاثر درست ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسی جماعت کی حکومت بنتی ہے جس کی پاکستان میں حکومت ہوتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ بیانیہ میڈیا کو دیا گیا ہے، اصل میں ایسا اس وقت ہوتا ہے جب پاکستان کے مرکز میں موجود حکومت کشمیر کے انتخابات میں مداخلت کرے۔ خیال رہے کہ جمعہ 23 جولائی کو ضلع باغ میں وزیراعظم عمران خان نے جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ ریفرنڈم ہو گا اور آپ فیصلہ کریں گے کہ انڈیا نہیں، آپ پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد میری حکومت پھر ایک ریفرنڈم کروائے گی جس میں کشمیر کے لوگوں کو ہم کہیں گے کہ آپ فیصلہ کریں کہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا آزاد رہنا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے اس بیان پر حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مذمت کی ہے اور اسے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے منافی قرار دیا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں آئندہ پانچ سالہ مدت کے لیے عام انتخابات کے لیے پولنگ آج 25 جولائی کو ہورہی ہے جس میں 45 نشستوں کے لیے 708 امیدوار اور پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن سمیت چھوٹی بڑی اڑھائی درجن سیاسی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔