تقريب خبررسان ايجنسی 1 Dec 2022 گھنٹہ 13:29 https://www.taghribnews.com/ur/news/575312/ایران-عراق-میں-واقع-مقدس-روضے-دونوں-ممالک-کے-مابین-تاریخی-دوستانہ-تعلقات-کا-باعث-ہیں -------------------------------------------------- ٹائٹل : ایران و عراق میں واقع مقدس روضے دونوں ممالک کے مابین تاریخی دوستانہ تعلقات کا باعث ہیں -------------------------------------------------- اس ملاقات میں آستان قدس رضوی اور امام رضا علیہ السلام کے حرم کے متولی نے   ایرانی و عراقی عوام کے مابین برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو اٹوٹ اور مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران و عراق  میں واقع مقدس روضے  اور  مزارات ان دو تاریخی اقوام کے مابین دوستانہ  تاریخی تعلقات کا باعث ہیں۔ متن :  عراق کے وزیراعظم نے  اپنے دورہ  ایران میں  حضرت امام علی  رضا علیہ السلام کے حرم مطہر کی زیارت کے بعد حرم کے متولی حجت الاسلام احمد مروی سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں آستان قدس رضوی اور امام رضا علیہ السلام کے حرم کے متولی نے   ایرانی و عراقی عوام کے مابین برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کو اٹوٹ اور مضبوط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران و عراق  میں واقع مقدس روضے  اور  مزارات ان دو تاریخی اقوام کے مابین دوستانہ  تاریخی تعلقات کا باعث ہیں۔ آستان نیوز کی رپورٹ کے مطابق؛ حجت الاسلام والمسلمین احمد مروی اور  عراق کے وزیر اعظم   محمدشیاع السودانی کی  حرم امام رضا علیہ السلام میں باضابطہ  ملاقات ہوئی جس میں حجت الاسلام  مروی  نے  محمد شیاع السودانی کو  عراق کی وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ’’ ایران اور عراق ایک ہی  ملک جیسے اور  ایک ہی پیکر  ہیں‘‘ اورمیری یہ بات کوئی تکلفاتی یا  سفارتی بات نہيں  ہے  بلکہ ایک واضح حقیقت ہے ۔ انہوں نے   کہا کہ ہمارے عظیم ایرانی کمانڈر شہید حاج قاسم سلیمانی کو عراق کے عظیم کمانڈر ابو مہدی المہندس اور دیگر نڈرسپاہیوں کے ہمراہ ایک جگہ شہہید کرنا کوئی نیا واقعہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی عراق کے  دفاع میں   عراق کی سرزمین پر عراقی اور ایرانی جانبازوں کا خون ایک ساتھ بہا ہے   روضہ منورہ امام رضا(ع) کے متولی نے ایران و عراق کے مشترکہ تاریخی واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ترکی میں عثمانی حکومت کے کمزور ہونے کے بعد برطانوی سامراج  عراق پر حملہ کرنے اور اس پر قابض ہونے کی کوشش کررہا تھا  ؛ اس دوران نجف اشرف کے بزرگ علما اور عراقی عوام نے برطانوی سامراج  کی  جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کے ساتھ ایران کے بزرگ علمائے کرام جو اس وقت نجف میں موجود تھےمنجملہ  آیت اللہ کاشانی  وغیرہ نے عراقی علماءاور عوام کے شانہ بشانہ لباسِ رزم پہن کربرطانوی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے  کہ تاریخی شواہد سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایرانی  اورعراقی مراجع عظام اور علمائے کرام کی ہمیشہ سے یہی  نظریہ رہا ے  کہ ایران وعراق ایک ملک ہیں؛ کہا کہ بہت سارے مشترکہ واقعات اس بات کے گواہ ہیں کہ ایران و عراق کے مابین کوئی فاصلہ نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ دشمن مختلف پروپگینڈوں اورسازشوں سے ان دو ممالک کے درمیان اختلاف ڈالنے کی کوشش کرتا رہا ہے ۔ حجت الاسلام والمسلمین مروی نے کہا کہ صدام کو ایران پر فوجی حملے کے لئے اکسانے میں شاید سامراج  کے اہداف و مقاصد میں سے ایک یہ ہو کہ ایران و عراق کے مابین برسوں تک خونریز جنگ چھیڑ کے ان مابین تعلقات کو تاریک کر دیا جائے ،کیونکہ جب دو قومیں،قبیلے یا دو ملک ایک دوسرے کا خون بہاتے ہیں تو پھر آسانی سے دوبارہ تعلقات بحال نہیں ہوتے ۔ انہوں نے  کہا کہ لیکن  صدام  کی حکومت کے زوال کے بعد ایران و عراق کے مابین ایسے گہرے دوستانہ تعلقات قائم ہوئے جیسے ان دوملکوں کے درمیان کوئی جنگ ہوئی ہی نہ ہو،ہم اس معجزہ کی وجہ  عراق میں مدفون آئمہ معصومین علیہم السلام اور ایران میں حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا (ع)  کوسمجھتے ہیں۔ روضہ منورہ امام رضا(ع) کے متولی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے  کہ ہم سالانہ بیس لاکھ عراقی زائرین کی ایران آمدکو اعزاز سمجھتے ہیں، کہا کہ حرم امام رضا علیہ السلام میں ایک رواق(ہال) اور ایک صحن کو عرب زبان زائرین کے لئے مخصوص کیا گیا ہے جن میں سے زیادہ تر زائرین عراقی ہوتے  ہیں۔ حجت الاسلام والمسلمین مروی نے اربعین حسینی کے موقع پر بالخصوص  عراقی عوام کی مہمان نوازی  کی تعریف کرتے ہوئے کہا  کہ ایران و عراق کے مقدس روضوں اور  مزارات کی انتظامیہ کے عہدیداروں  کے مابین اب تک ہونے والے اجلاس؛زیارت کو آسان بنانے اور زائرین کو دی جانے والی خدمات کو بہتر بنانے میں کافی مفید ثابت ہوئے ہیں  اور امید کرتے ہیں کہ عراق کی نئی حکومت کے تعاون سے مقدس مقامات کے مابین تعلقات مزید ہم آہنگی اورباہمی یکجہتی سے جاری رہے ہیں گے۔ اس ملاقات کے دوران عراق کے وزیراعظم جناب محمد شیاع السودانی نے  بھی حضرت امام علی رضا(ع) کی زیارت سے مشرف ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران و عراق کی عوام کے مابین بھائی چارہ اور دوستی تاریخی ہے ،دونوں ممالک کے مابین تاریخی،ثقافتی اور مذہبی مشترکات کی وجہ سے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ انہوں نے رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ (حفظہ اللہ) سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہید حاج قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس کی شہادت سے ایران و عراق کے مابین تعلقات مزید مضبوط ہوئے ہیں ،  شہیدجنرل  قاسم سلیمانی نے عراق کی  عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کے ساتھ مل کر داعش کی نابودی اور عراق کی سلامتی کے لئے جو خدمات انجام دیں وہ دوستی، بھائی چارہ اور برادرانہ تعلقات کی بہترین مثال ہے ، یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک مل کر ایک راستے پر چل رہے ہیں۔ عراقی وزیراعظیم نے مقدس مقامات کے مابین تعلقات کومزید آسان بنانے پر اپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہوئ کہا کہ ہم ایران و عراق کے مقدس مقامات کے درمیان تعلقات کو مزید آسان بنانے کے لئے ہر قسم کی سہولت فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں اور آستان قدس رضوی کی وسیع اور بہترین خدمات کو سراہتے   ہیں ،انہوں نے کہا کہ ان خدمات سے آستان قدس رضوی کے  عہدیداروں کےعمل میں اخلاص کا پتہ چلتا ہے ۔