تقريب خبررسان ايجنسی 18 Feb 2021 گھنٹہ 12:34 http://www.taghribnews.com/ur/news/493556/لوجہاد-قانون-کیس-میں-جمیعت-العلماء-ہند-بطور-فریق -------------------------------------------------- ٹائٹل : لوجہاد قانون کیس میں جمیعت العلماء ہند بطور فریق -------------------------------------------------- بھارت میں لو جہاد قانون کو چیلنج کرنے والی پٹیشن پر جمیعت العلماء ہند کی مداخلت کار کی پٹیشن سُپریم کورٹ میں منظور ہوگئی۔ متن : بھارت میں لو جہاد قانون کو چیلنج کرنے والی پٹیشن پر جمیعت العلماء ہند کی مداخلت کار کی پٹیشن سُپریم کورٹ میں منظور ہوگئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، سپریم کورٹ نے لوجہاد قانون کو چیلنج کرنے والی پٹیشن میں جمیعت العلماء ہند کو بطور مداخلت کار تسلیم کرلیا ہے۔ جمیعت العلماء کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے اسے جمیعت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین مخالف قانون کے خلاف ہماری جہدوجہد جاری رہے گی۔ سٹیزن فار پیس اینڈ جسٹس نامی آرگنائزیشن و دیگر کی جانب سے داخل کردہ اپیل پر عدالت عظمیٰ میں سماعت عمل میں آئی، اس دوران عدالت میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول نے کہا کہ جمیعت العلماء ہند بھارتی مسلمانوں کی ایک قدیم تنظیم ہے، ملک کے مسلمانوں کا تحفظ اس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے اور ہم اس معاملے میں عدالت کا تعاون کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لو جہاد قانون کے ذریعہ ایک بڑی تعداد میں مسلمانوں کو گرفتار کیاجاچکا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے لہٰذا مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے اس غیر آئینی قانون کو ختم کرنے کے لیے دائر پٹیشن میں وہ بطور مداخلت کار بننا چاہتے ہیں تاکہ عدالت میں اس تعلق سے اپنا موقف پیش کرسکے۔ ایڈوکیٹ اعجاز مقبول کے دلائل سننے بعد چیف جسٹس نے جمیعت کو بطور مداخلت کار تسلیم کرلیا۔ اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا سید ارشد مدنی نے لو جہاد قانون پر سپریم کورٹ میں مداخلت کار کی عرضی قبول کئے جانے کو جمیعت کی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین مخالف قانون کے خلاف ہماری جہدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہبھارت ایک سیکولر ملک ہے جہاں اس طرح کے غیر آئینی قانون کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے ملک کی شناخت گنگا جمنی تہذیب کے طور پر ہے جہاں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہے کہ وہ کس مذہب پر چلنا چاہتا ہے اور کس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ انہوں کہا کہ اس قانون کا مقصد ہندو مسلمان کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنا اور سماج کو تقسیم کرنا ہے۔ ہم نے سماج میں خیر سگالی اور بھائی چارہ قائم کرنے کی انتھک کوشش کی ہے مولانا مدنی نے کہا کہ قدرتی آفات ہو یا کوئی حادثہ ہم نے مذہب سے اوپر اٹھ کر لوگوں کی مدد کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمیعت نے ملک کو متحد رکھنے کی بھرپور کوشش کی اور اس کے لئے لڑائی لڑی ہے۔ لو جہاد قانون ملک کو توڑنے والا ہے اور ہم ملک کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔