تقريب خبررسان ايجنسی 26 Feb 2021 گھنٹہ 16:18 http://www.taghribnews.com/ur/news/494492/یمن-کے-صوبہ-ما-رب-میں-شدید-جنگ-جاری -------------------------------------------------- ٹائٹل : یمن کے صوبہ مآرب میں شدید جنگ جاری -------------------------------------------------- یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز نے سعودی آلہ کاروں کی جانب سے یمنی فورسز کے کنٹرول والے علاقوں پر ہونے والے حملوں کو ناکام بنا دیا ہے متن : یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز نے سعودی آلہ کاروں کی جانب سے یمنی فورسز کے کنٹرول والے علاقوں پر ہونے والے حملوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز کی مارب میں سعودی آلہ کاروں کے ساتھ ہونے والی خونریز جھڑپوں میں سعودی اتحاد کے کئی فوجی ہلاک و زخمی اور کئی گاڑیاں منہدم ہو گئیں۔ دوسری جانب فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یمنی فوج اور رضاکار فورس کے جوانوں نے صوبہ مآرب کے شمال مشرق میں واقع ایک اہم علاقے الجدافر کو سعودی اتحاد کے فوجیوں کے کنٹرول سے آزاد کرا لیا ہے۔ یمنی فوج اور رضاکار فورس نے ایک مہینے پہلے صوبہ مآرب کی آزادی کے لئے آپریشن شروع کیا تھا۔ اس آپریشن کے دوران یمنی فوج اور رضاکار فورسز کے جوانوں کو بہت بڑی بڑی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور فوج نے سعودی اتحاد کو کاری ضرب لگائی ہے۔ یمن کے صوبہ مآرب میں جاری شدید جنگ کے بارے میں ملنے والی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ یمنی فوج اور رضاکار فورس نے مآرب شہر کے اطراف میں کئی اسٹراٹیجک پہاڑی علاقوں کو آزاد کرا لیا ہے اور یمنی فوج کے شدید حملوں کی وجہ سے سعودی اتحاد کی ڈیفنس لائن کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ فارس نیوز ایجنسی نے بھی بتایا ہے کہ یمنی فوج اور رضاکار فورس نے مآرب شہر کے مرکزی علاقے کی جانب تیز رفتار پیش قدمی جاری رکھی ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مآرب میں المشجع، کے علاقے میں آل سعود اتحاد کے دو کمانڈر ہلاک کر دیئے گئے اور انصاراللہ کے جوان مآرب ڈیم کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں ۔ یمنی فوج اور عوامی رضار فورس کے جوانوں نے تبۃ الاقشع نامی علاقے میں بھی سعودی اتحاد کو بھاری شکست دی ہے۔ واضح رہے کہ جارح سعودی اتحاد نے امریکہ اور دیگر مغربی ملکوں کی حمایت سے مارچ 2015 سے یمن پر وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب تک سعودی جارحیت میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید و زخمی جبکہ دسیوں بے سر و سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو ئے ہیں لیکن اس کے باوجود نہ فقط سعودی اتحاد اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوا ہے بلکہ اسے پسپائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔