تقريب خبررسان ايجنسی 8 Apr 2021 گھنٹہ 20:54 http://www.taghribnews.com/ur/news/499217/افواج-پر-تنقید-کا-مجوزہ-قانون-پاکستان-بار-کونسل-کے-تحفظات -------------------------------------------------- ٹائٹل : افواج پر تنقید کا مجوزہ قانون، پاکستان بار کونسل کے تحفظات -------------------------------------------------- قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے بدھ کو منظور ہونے والے بل کے تحت فوج اور اس کے کسی اہلکار پر تنقید کرنے والے کو دو سال قید اور پانچ لاکھ جرمانہ کیا جا سکے گا۔ متن : افواج اور اس کے اہلکاروں پر تنقید کو روکنے کے مجوزہ قانون پرپاکستان بار کونسل نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے بدھ کو منظور ہونے والے بل کے تحت فوج اور اس کے کسی اہلکار پر تنقید کرنے والے کو دو سال قید اور پانچ لاکھ جرمانہ کیا جا سکے گا۔ اس کے قانون بننے کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظوری ضروری ہے۔پاکستان بار کونسل کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس قانون کو ہتھیار کے طور پر سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابقہر محب الوطن شہری ملک کے تمام اداروں کا احترام کرتا ہے، پختونخواحکومت کا بل کی مخالفت قابل ستائش ہے۔اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہوفاقی حکومت مجوزہ فوجداری قوانین میں ترمیم کا بل فوری واپس لے، اوراگر یہ بل منظور ہوا تو پاکستان بار کونسل اسے چیلنج کرے گی۔ یاد رہے کہقومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کی طرف سے منظور کیے گئے مسودہ بل کے ذریعے تعزیرات پاکستان میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔ کریمینل لا (ترمیمی) ایکٹ بل 2020 پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے پرائیویٹ ممبر بل کے طور پر گذشتہ سال پیش کیا تھا۔ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں راجاخرم نواز کیزیرصدارت منعقد ہوا تھا اور چیئرمین نے ووٹنگ کروائی تو پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ارکان نے اس بل کی مخالفتکی تاہم ووٹ برابر ہونے پر چیئرمین نے اپنا ووٹ کا حق استعمال کرتے ہوئے بل کو منظور کر کے قومی اسمبلی میں بھیج دیا۔ بل کے ذریعے تعزیرات پاکستان کے سیکشن 500 میں ایک اور شق کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ جو کوئی بھی جان بوجھ کر پاکستان کی مسلح افواج یا ان کے کسی رکن کا تمسخر اڑاتا ہے، عزت کو گزند پہنچاتا ہے یا بدنام کرتا ہے وہ ایسے جرم کا قصوروار ہوگا جس کے لیے دو سال تک قید کی سزا یا پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ تعزیرات پاکستان کے سیکشن 500 میں پہلے ہی ہتک عزت کے خلاف سزا کا ذکر ہے تاہم اس میں صرف اتنا لکھا گیا ہے کہ جو کوئی شخص کسی دوسرے کو بدنام کرے گا تو اس کو دو سال کی قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔