تقريب خبررسان ايجنسی 29 Jul 2021 گھنٹہ 17:15 http://www.taghribnews.com/ur/news/513345/مبلغین-امامیہ-کا-عظمت-غدیر-عاشوراء-کانفرنس-انعقاد -------------------------------------------------- ٹائٹل : مبلغین امامیہ کا عظمت غدیر و عاشوراء کانفرنس کا انعقاد -------------------------------------------------- تبلیغ کو کار انبیاء و آئمہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قریہ قریہ جا کر تعلیمات قرآن و اہلبیت علیہم السلام سے لوگوں کو روشناس کروانا ایک عظیم فریضہ ہے، اسی سنگین وظیفے کیوجہ سے اس منصب کی جہاں تکریم و تعظیم زیادہ ہے، وہیں فرائض بھی سنگین ہیں۔ متن : تاریخ اسلام بلکہ تاریخ بشریت میں غدیر اور عاشورا غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کا ان دونوں موضوعات پر اتفاق ہے اور ان کی اہمیت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا، تاہم تاریخ میں ان دونوں واقعات کی دین اسلام میں اہمیت اور افادیت کو متاثر کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی گئی۔ علمائے دین کے نزدیک اگر امت رسول اللہ (ص) غدیر کو درست انداز میں سمجھ لیتی اور اسے حقیقی طور پر دین اسلام کی تکمیل سے تعبیر کر لیتی تو شائد عاشورا کی نوبت نہ آتی۔ اقوال معصومین (ع) کی روشنی میں واضح طور پر غدیر اور عاشورا کا ایک مضبوط تعلق دکھائی دیتا ہے۔ غدیر اور عاشورا کے اس ربط اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے مبلغین اور علمائے کرام کے ایک پلیٹ فارم مجلس علماء امامیہ پاکستان کی جانب سے گذشتہ روز امام بارگاہ اثناء عشریہ G-6/2 اسلام آباد میں عظمت غدیر و عاشورا کے عنوان سے کانفرنس کا اہتمام کیا گیا، مجلس علماء امامیہ کا یہ 5واں سالانہ اجتماع تھا، جس میں سینکڑوں کی تعداد میں مبلغین اور علمائے کرام شریک ہوئے۔ واضح رہے کہ مجلس علماء امامیہ پاکستان، تبلیغات کے شعبے میں فعال ایک خود مختار ادارہ ہے، جو عرصہ 8 سال سے تعلیماتِ قرآن و اہلبیت (ع) کی ترویج و تبلیغ میں مصروفِ عمل ہے۔ ڈاکٹر علامہ سید شفقت حسین شیرازی کی زیر صدارت ہونے والے مجلس علماء امامیہ کے اجتماع سے بزرگ عالم دین اور ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری، مجمع جہانی اہلبیتؑ کے سربراہ آیت اللہ محمد رضا رمضانی، جامعۃ الرضا اور نورِ معرفت ادارہ برائے تحقیقات اسلام آباد کے سربراہ علامہ سید حسنین عباس گردیزی، جامعۃ الولایہ کے مدرس و محقق اور مجلس علماء امامیہ کے معاونِ امورِ تربیت علامہ ڈاکٹر سید جاوید حسین شیرازی، دارالعلوم محمدیہ سرگودھا کے مدیر اعلیٰ اور مجلس علماء امامیہ کے بانی رکن علامہ ملک نصیر حسین و دیگر نے خطاب کیا۔ اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مجلس علماء امامیہ پاکستان کے ڈاکٹر علامہ سید شفقت حسین شیرازی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں تبلیغ کی اہمیت و ضرورت پر گفتگو کی۔ تبلیغ کو کار انبیاء و آئمہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قریہ قریہ جا کر تعلیمات قرآن و اہلبیت علیہم السلام سے لوگوں کو روشناس کروانا ایک عظیم فریضہ ہے، اسی سنگین وظیفے کیوجہ سے اس منصب کی جہاں تکریم و تعظیم زیادہ ہے، وہیں فرائض بھی سنگین ہیں۔ ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی نے مجلس علماء امامیہ کے اجتماع سے بطور سربراہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مجلس علماء امامیہ پاکستان کی طرف سے بطور ایک مستقل ادارہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی ملک و قوم کے لیے خدمات کی قدر کرتے، سربراہ ایم ڈبلیو ایم علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی بابصیرت قیادت پر مکمل اعتماد کرتے اور ملک و قوم کی خدمت کی اس راہ میں ان کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہیں۔ مجلس علماء امامیہ کے اجتماع سے مجمع جہانی اہلبیتؑ کے سربراہ آیت اللہ محمد رضا رمضانی نے خصوصی آنلائن خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کربلا مبلغین کی گردن پر کچھ ذمہ داریاں ڈالتا ہے، میرے نزدیک یہ ذمہ داریاں تین قسم کی ہیں۔ مستند اور معتبر تاریخ بیان کرنا، واقعہ عاشورا کے علل و اسباب کی تلاش اور ان کا بیان اور واقعہ عاشورا کی عبرتوں اور اس واقعہ سے حاصل ہونے والے سبق کی موجودہ حالات پر تطبیق کرنا۔ انہوں نے کہا کہ امام عالی مقام سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السّلام کا قیام عدل و انصاف کے قیام، اقدار الٰہی کے احیاء اور ظلم و ستم اور استبداد و گمراہی کے مقابلے کے لیے تھا۔ انہوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے خطبات سے استناد کرتے ہوئے کہا کہ اگر گمراہی معاشرے میں پھیل رہی ہو، ظالم و ستم گر حاکم ہو اور عدل و انصاف کی جگہ ظلم و بربریت لے لے تو ایسے میں نہ صرف زمانے کے امام بلکہ ہر مومن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قیام کرے۔ اجلاس سے اپنے خصوصی خطاب میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ غدیر ایک مکمل نظام کے اعلان کا دن ہے اور اس نظام کا نام ولایت ہے، ولایت معاشرے کے جملہ امور کے لیے ایک نظام ہے۔ مبلغین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ولایت کو بطور ایک مکمل نظام معاشرے کو پیش کریں۔ دشمن کئی عناوین سے فتنہ ایجاد کرنا چاہتا ہے، جن میں سے ایک فرقہ وارانہ فسادات کی صورت میں ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مبلغین کی ذمہ داری ہے کہ وہ خطباء، ذاکرین، بانیان مجالس و نوجوانوں کو دشمن کی اس سازش سے آگاہ کریں اور کوئی ایسا اقدام نہ اٹھائیں، جس سے فرقہ وارانہ فساد پھیلے اور اس کا فائدہ دشمن کو ہو۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے مجلس علماء امامیہ پاکستان کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ استکباری طاقتیں ہمارے وطن کو توڑنا چاہتی ہیں، وہ خطے کو ری سائز کرکے ری شیپ کرنا چاہتی ہیں۔ علاقائی طاقتوں کو اگر استکباری قوتوں سے نبرد آزما ہونا اور علاقائی طاقتیں اپنی قوم و ملت کے ساتھ مخلص ہیں تو وہ فرزند زہراء (س) امام خامنہ ای کی بصیرت اور تجربے سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں اس وقت ایک ہی طاقت ہے، جو استکباری طاقتوں کے ساتھ نبرد میں آپ کو کامیاب کروا سکتی ہے، وہ طاقت ولی فقیہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای ہیں۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کا ہم سب کی گردنوں پر قرض ہے، شہید قائد (رہ) ملکی سالمیت اور استحکام کی راہ کے شہید ہیں، ہم سنی ہیں یا شیعہ، ہم سب ہر شہید قائد کا احسان ہے۔ اس قرض کی کم ترین ادائیگی قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کی برسی کے پروگراموں میں شریک ہوکر ان کی ذات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ ہمارا اور آپ کا اگلا موعد اور وعدہ گاہ یکم اگست لیاقت باغ راولپنڈی ہے، جہاں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی برسی کی مرکزی تقریب منعقد ہورہی ہے۔ اجتماع کے آخر میں ایک مشترکہ اعلامیہ پیش کیا گیا، جس کی تمام شرکاء نے بھرپور تائید کی۔ مجلس علماء امامیہ کے سالانہ اجتماع کے اعلامیے میں کہا گیا: ۰ مجلس علماء امامیہ کا یہ اجتماع نظام امامت کو نظام نبوت کا تسلسل اور اسلام کی حقیقی تعبیر تسلیم کرتا اور عصرِ غیبت میں نظام ولایت فقیہ کو نظام امامت و ولایت کا تسلسل سمجھتا ہے۔ ۰ یہ اجتماع عصر غیبت میں نظام ولایت فقیہ کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی کا اعلان کرتا اور ولی فقیہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای کی رہنمائی اور سرپرستی میں تعلیمات قرآن و اہلبیت علیہم السلام کی تبلیغ و ترویج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ۰ یہ اجتماع عاشورا کی تحریک کو عدل و انصاف کے قیام، اصلاح و بیداری امت، الٰہی اقدار کے احیاء اور ظلم و ستم کے خلاف قیام کی تحریک سمجھتا اور تحریک عاشورا کے ساتھ وابستگی کو امت کی نجات کا ذریعہ سمجھتا اور اس ضمن میں عزاداری سید الشہداء کی روایت کے تسلسل کی راہ میں ہر قربانی سے عدم دریغ کا اعلان کرتا ہے۔ ۰ یہ اجتماع قومی یکجہتی، ملی وحدت اور اتحاد بین المومنین کی ضرورت کا احساس کرتے ہوئے اس کی تاکید کرتا ہے۔ ۰ یہ اجتماع پاکستان کی بعنوان ریاست لسانی و مسلکی سوچ سے پاک اسلامی و قومی شناخت کے احیاء کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ ۰ یہ اجتماع شعائر اسلامی کے احیاء، مذہبی آزادیوں سمیت جملہ آئینی حقوق کی ضمانت کا مطالبہ کرتا، محرم الحرام و عید میلاد سمیت جملہ مذہبی عبادات کے راستے میں ڈالی جانے والی رکاوٹوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ ۰ یہ اجتماع ملک میں ایک قوم ایک نظام تعلیم کے نعرے کے تحت یکساں قومی نصاب کی تشکیل کے اقدام کی حمایت کرتا، لیکن اس ضمن میں مسلکی و غیر دینی سوچ اور بنیادی آئینی و اسلامی اصولوں سے غفلت کی مذمت کرتا ہے۔ ۰ یہ اجتماع اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیر اسلامی ثقافت کی ترویج کے ہر اقدام کی مذمت کرتا ہے۔ ۰ یہ اجتماع ملکی سالمیت اور استحکام کے لیے کی جانے والی حکومتی کوششوں کو سراہتا ہے۔ ۰ مجلس علماء امامیہ کا یہ فورم اپنی خود مختار حیثیت برقرار رکھتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی ملک و قوم کے لیے خدمات و قربانیوں کی قدر دانی کرتا اور ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرواتا اور ان کی قومی و ملی جدوجہد کی تائید کرتا ہے۔