تقريب خبررسان ايجنسی 18 Jun 2021 گھنٹہ 19:18 http://www.taghribnews.com/ur/article/508305/افغان-امن-عمل-پاکستان -------------------------------------------------- ٹائٹل : افغان امن عمل و پاکستان -------------------------------------------------- وزیرِ خارجہ کے بقول پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہے۔  خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر کے پاکستان مخالف بیانات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر سردمہری کا شکار ہیں۔ متن : بشکریہ:شفقنا اردو پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان امن عمل میں کسی بگاڑ کا ذمے دار پاکستان نہیں ہو گا کیوں کہ افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کی ذمے داری تمام افغان فریقوں پر عائد ہوتی ہے۔پیر کو اسلام آباد میں دو روزہ پاک، افغان غیر سرکاری مذاکرات کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ افغان امن عمل میں پیش رفت نہ ہونے کا ذمے دار پاکستان کو ٹھیرانا کسی صورت بھی سود مند نہیں ہو گا۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان خلوصِ دل سے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کوشاں ہے۔ وزیرِ خارجہ کے بقول پاکستان کے خلاف الزام تراشی کا یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہے۔ خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں افغانستان کی قومی سلامتی کے مشیر کے پاکستان مخالف بیانات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر سردمہری کا شکار ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ افغان صدر اشرف غنی امریکہ جا رہے ہیں۔ لہذٰا وہ اُمید کرتے ہیں کہ یہ دورہ افغان امن عمل کے لیے فائدہ مند ہو گا۔ اس بارے میں افغان حکومت کاابھی کوئی بیان سامنے آیا ہے کہ صدر اشرف غنی کب واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن کے دورے کا مقصد نئی الزام تراشیاں اور افغانستان میں تمام خرابیوں اور امن عمل آگے نہ بڑھنے کے لیے مورد الزام ٹھہرانا ہے تو اس کا فائدہ نہیں ہوگا۔میرے نزدیک امن کے راستے کی بڑی رکاوٹ عدم اعتماد ہے،ہمیں ماضی سے نکل کر آگے بڑھنا ہوگا۔اگر ہم آج ایک دوسرے کے ساتھ مخلص نہیں ہوں گے تو ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان سے غیر ملکی فورسز کے انخلا کا عمل تیزی سے جاری ہے جب کہ دوسری جانب گزشتہ برس افغان حکومت اور طالبان کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے۔اس صورتِ حال میں خطے کے ممالک اور بعض دیگر حلقوں کی طرف سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ افغان تنازع کے سیاسی تصیفے کے نہ ہونے کی صورت میں افغانستان کی سیکیورٹی صورتِ حال بدل سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ پاکستانی حکام بار بار یہ انتباہ کر رہے ہیں کہ اگر امن عمل کو نقصان پہنچا تو اس کا ذمے دار پاکستان نہیں ہو گا۔ درحقیقت یہ کوئی نئے خدشات نہیں ہیں۔ اس سے قبل بھی پاکستان پر یہ الزامات لگتے رہے ہیں کہ پاکستان اپنے مفادات کے لیے مبینہ طور پر افغان طالبان کی حمایت کرتا رہا ہے۔پاکستان اس خدشے میں بجا ہے کہ اگر افغانستان میں امن مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو اس کا ذمے دار پاکستان کو ٹھیرایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کے بارے میں یہ کہا جاسکتاہے کہ پاکستان نے جان بوجھ کر طالبان پر اثرو رسوخ استعمال نہیں کیا لیکن یہ دنیا کو یہ بات ضرور دیکھنی چاہیے کہ اب طالبان اپنے بہت سارے فیصلے اپنی منشا اور مفاد کے مطابق کرتے ہیں اور پاکستان کو کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ شاہ محمود قریشی نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب طالبان افغانستان کے مختلف اضلاع پر تیزی سے قبضہ کرتے جار ہے ہیں۔حالیہ چنچ ہفتوں کے دوران افغانستان کے کئی علاقے طالبان کے کنٹرول میں چلے گئے ہیں۔ علاقوں پر قبضے میں شدت امریکی اور مغربی دفاعی اتحاد کی افواج کے انخلا کے اعلان کے بعد سے پیدا ہوئی ہے۔ رواں برس یکم مئی کے بعد اب تک سترہ اضلاع پر طالبان قبضہ کر چکے ہیں۔ غیر ملکی فوجوں کا انخلا اسی سال مکمل ہو جائے گا۔ افغانستان کو ان دنوں شدید عدم استحکام کا سامنا ہے اور اس باعث سلامتی کی مجموعی صورت حال کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔ جمعہ گیارہ جون سے اب تک تیرہ سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں، جن میں سات سویلین ہیں۔ ایسی صورتحال میں امن کے عمل کو ڈاوانوا ڈول کرنا کسی بھی فریق کے حق میں درست نہیں ہے۔ اور اس صورتحال پر پاکستان کا بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ معاملات تیزی سے پاکستان کے ہاتھ سے بھی نکلے جارہے ہیں۔ ان حالات میں طالبان ایک بار پر ملک پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ موجودہ افغان حکومت اور دیگر طاقت ور عناصر طالبان کی مکمل سیاسی خود مختاری کو ملک میں شروع ہونے والی سیاسی اصلاحات اور اقتدار میں سب گروہوں کی شراکت کے حوالے سے خطرناک سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ طالبان پاکستان کی پشت پناہی کی وجہ سے منہ زور ہیں اور بین الافغان مذاکرات میں سنجیدہ رویہ کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ اس نظریہ کے مطابق افغان طالبان کا خیال ہے کہ ایک بار غیر ملکی فوجوں کا انخلا مکمل ہونے کے بعد وہ عسکری لحاظ سے اتنے طاقت ور ہوں گے کہ کوئی دوسرا گروہ ان کا مقابلہ نہیں کرسکے گا۔ کسی حد تک افغان طالبان یہ طرز عمل اختیار کرنے میں درست بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کا یہ اندازہ بھی جائز ہوگا کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغان سیکورٹی فورسز کابل کی حفاظت کے قابل نہیں ہوں گی اور وہ بھرپور حملہ کر کے دارالحکومت پر قبضہ کرسکتے ہیں۔ اس طرح ایک بار پھر وہ اسلامی افغان امارات قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ پاکستان کو شاید اس صورت حال کا اندازہ ہے۔ دنیا کے ساتھ وابستہ مفادات، امریکہ کے ساتھ تعلقات اور اندرونی طور پر عسکری گروہوں کے عزائم کے تناظر میں اسلام آباد کی یہی خواہش ہوگی کہ افغانستان میں قیام امن کا عبوری دور باہمی افہام و تفہیم سے طے ہوجائے۔ مگر جب تک افغان حکومت اور امریکہ اس حوالے سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتے تب تک طالبان کسی طور بھی ان حملوں سے باز نہیں آئیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اشرف غنی پاکستان پر کسی طور اعتبار کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ان کو ہٹا کر طالبانکو حکومت سونپنا چاہتا ہے جن کہ پاکستان بھی اشرف غنی پر اعتماد نہیں کرتا اور شاہ محمود قریشی کے حالیہ بیانات اس کا بین ثبوت ہیں۔ امریکہ کی سربراہی میں عالمی اتحاد نے افغانستان سے انخلا کا اعلان کرکے اپنے تئیں اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے۔ اب وہ یہی سمجھتے ہیں کہ پاکستان ہی افغان طالبان کو کسی مناسب سمجھوتہ تک لانے اور عبوری حکومت کے قیام پر آمادہ کرسکتا ہے۔ دوسری طرف زمینی حقائق یہ ہیں کہ افغان طالبان کو فتوحات حاصل ہورہی ہیں۔ انہوں نے متعدد نئے علاقوں پر قبضہ کیا ہے اور بیرونی افواج کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کرنے کے لئے مذاکرات اور معاہدہ کے ذریعے اپنی سیاسی پوزیشن بھی مستحکم کی ہے۔ پاکستان کا کام طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانا تھا۔ اب اگر امریکی حکومت اشرف غنی کےپروپیگنڈے کا شکار ہوکر امن عمل کو ایک ٹھوش شکل نہیں دیتی تو افغانستان ایک مرتبہ پھر خطرناک خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا۔ جس کا خمیازہ امریکہ سے زیادہ پاکستان کو بھگتنا پڑے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ امن عمل پاکستان کے گلے کا ڈھول بن چکا ہے جس کو نہ تو پاکستان گلے سے اتار سکتا ہے اور نہ ہی بجائے بغیر رہ سکتا ہے۔