فتویٰ دینے کا حق اہل علم کو ہے
بعض فتاویٰ دین و شریعت سے مطابقت نہیں رکھتے۔
مفتی وہ ہے کہ جس نے دین اسلام کا حیات بشری کا پیغام لوگوں تک پہنچایا ہے ۔شیخ احمد طیب
تاریخ شائع کریں : جمعه ۲۸ مهر ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۸:۳۴
موضوع نمبر: 289632
 
شیخ الازھر نے غیر عالم افراد کے جانب سے دیئے گئے فتاوے سے اسلام اور اسلامی معاشرے کو پہنچنے والے نقصان کی جانب اشارہ کیا اور کہا ہے کہ مفتی وہ ہے کہ جس نے دین اسلام کا حیات بشری کا پیغام لوگوں تک پہنچایا ہے ۔
 
تقریب،خبررساں ایجنسی﴿تنا﴾ کے مطابق،جامعہ الازھر کے شیخ ،شیخ احمد طیب،نے معاشرے کے قیام میں فتوے کا کردار کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس میں کہا ہے کہ،اب تک اہل علم کے نزدیک فتوی ایک امانت اور احکام دینی کو پہنچانے کی راہ ہے۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ،بہت سے شرعی سوالات اس جدید دور میں غور وفکر چاہتے ہیں، جیسے بینک کے معاملات،اعضاء کے پیوند کے مسائل کہ جو بہت سخت ہیں اور صرف اصول و فقہ کی بنا پر ہم ان کا جواب نہیں دے سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا ہے کہ، اب جبکہ میں نے صف اول کے علماء کے آگئے زانوئے ادب کو تہہ کیا ہے اور اب میں اس قابل ہوا ہوں کہ فتویٰ صادر کر سکوں، لیکن مجھے خوف آتا ہے کہ حلال خدا کو حرام اور حرام خدا کو حلال کرو،لہذا میں اہم ترین مسائل میں خود کو بری الذمہ کرنے کی خاطر اسلامی اسکالروں کی کمیٹی سے مدد کا طالب ہوں اور اقتصاددان،حقوق دان،خاندانی امور کے ماہرین اور دیگر ماہرین سے مشورہ کے بعد میں کسی نتیجے پر پہنچوں گا اور اعلان کرونگا۔

شیخ السلام نے غیر عالموں کی جانب سے دیئے گئے فتاویٰ کی وجہ سے اسلامی معاشرے میں پیدا ہونے والی خرابیوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ ،مفتی کا انتخاب بہت اہم ہے اس مفتی کا انتخاب کیاجائے کہ جو معاشرے میں حیات بشری کی خاطر دین کا ابلاغ کرتا ہو۔

انھوں نے کہا ہے کہ،فتویٰ احکام دینی کو پہنچانے کا ایک ذریعہ ہےاور یہ اہل علم سے مخصوص ہے لیکن کچھ علم کے مدعی افراد ایسے ہیں کہ جنھوں نے آسیب زدہ اسلام کو تشکیل دیا ہے اور خود میں یہ جرات پیدا کرلی ہے کہ اہل علم افراد کے سامنے قدعلم بلند کریں۔

انھوں نے الازہر پر مختلف پہلؤں سے مختلف گروہوں کے حملے کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ،ہر دہشت گردی کے واقعے کے بعد طے شدہ پروگرام کے تحت الازھر کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا ،دراصل یہ ایک الازھر کے خلاف ان کی ناکام کوشش تھی کیونکہ مومنین کے دلوں میں الازھر کا ایک مقام ہے،مسئلہ یہاں ختم نہیں ہوا بلکہ دنیا کے اطراف و اکناف سے مسلمانوں کی اس عظیم میراث کو طعنے سننے پڑے اور اس پر پابندی کی باتیں ہونے لگی اور علماء اور آئمہ دین کا مزاق اڑایا گیا ۔
Share/Save/Bookmark