نسخه چھاپ

ویب ایڈیشن

ایرانی » خبر » مذاہب

موجودہ دنیا میں مسلم ممالک آمار و ارقام کے تناظر میں

تنا ( TNA) برصغیر ہند بیورو :

۲۱ مهر ۱۳۹۰ گھنٹہ ۷:۱۵

انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیواسٹڈیز نئی دھلی نے "مطالعات" نامی اپنے ایک علمی رسالے جلد ششم شمارہ اول میں "موجودہ دنیا میں مسلم ممالک" کے عنوان سے اپنے اداریہ میں شائع کیا ہے جسے ہم نے ٹائپ کرکے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیلئے سائیٹ پر شائع کررہے ہیں اس امید کے ساتھ کہ موقر ادارے کا اس پر کوئ اعتراض نہ ہوگا۔

                                              موجودہ دنیا میں مسلم ممالک 
ادارہ لکھتا ہے؛ ذیل میں ہم  ان ممالک کی بعض تفصیلات شائع کررہے ہیں جو عرف عام میں مسلم ممالک کہلاتے ہیں۔تاہم تصورات کی صحت اور اصرار پر ارنے والوں کے لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ان ممالک کی فہرست ہے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ اور اکثریت کا مطلب یہ ہے کہ ان کی تعداد ملک کی کل آبادی کا کم سے کم 51٪ہو یا اس سے زائد ہو۔

اس جدول میں فیصد مسلم تناسب دیا گيا ہے۔ اس تناسب کی تشکیل اس طرح کی گئی ہے کہ فیصد اعتبار سے ملک میں مسلم آبادی کتنی ہے ۔ اگر یہ تناسب زیادہ ہے تو اس ملک میں مسلمانوں کی اکثریت ہوگی۔

مسلم فرقہ کے عنوان سے کالم میں یہ دکھلایا گیا ہے کہ کس فرقے کے لوگ اس ملک میں آباد ہیں۔ اس جدول میں ملکوں کی ترتیب آبادی کی کثرت کے اعتبار سے رکھی گئی ہے۔

ملاحظات 
 درج اعداد و شمار کی بناء پر کچھ ملاحظات پیش کئے جاسکتے ہیں:
1۔  آبادی 
   جیسا کہ تذکرہ کیا گیا کہ اس جدول میں ممالک کی ترتیب ان کی کل آبادی کی بنیاد پر کی گئی ہے، چنانچہ جدول کی ابتداء سب سے زیادہ آبادی والے ملک سے ہوئی ہے اور جدول کا خاتمہ سب سے کم آبادی والے ملک پر ہوتا ہے۔ 

 مسلم دنیا میں انڈونیشیا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جس کی آبادی 23 کروڑ کے قریب ہے۔ سب سے کم آبادی والا ملک، مالدیپ ہے جس کی آبادی صرف ساڑھے تین لاکھ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے چند اہم مسلم ملک 
                                       جدول : موجودہ دنیا میں مسلم ممالک 
 

حسب ذیل ہیں: 
        پاکستان (17 کروڑ)، بنگلہ دیش (16 کروڑ) ، نائیجیریا (15 کروڑ) ، مصر (7 کروڑ) ، ترکی (7 کروڑ) ، ایران (7 کروڑ) ، سوڈان (3 کروڑ) ، الجیریا (3 کروڑ) ، افغانستان (3 کروڑ)۔ 

2۔ مسلم تناسب 
اس جدول میں صرف وہ مسلم ممالک شامل کئے گئے ہیں جن میں کل آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 50 فیصد یا اس سے زائد ہے۔ ان ممالک میں صرف دو ملک ایسے ہیں جن کی آبادی %100 صرف مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ یہ دو ملک سعودی عرب اور مالدیپ ہیں۔ خیال رہے کہ اس تناسب میں صرف ان لوگوں کو شامل کیا گیا ہے جو اس ملک کے شہری ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے محنت کشوں کو اس تعداد میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس طرز عمل کی بنیادی وجہ غیر ملکی محنت کشوں کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار کا فقدان ہے۔ 

3۔ مسلم فرقہ 
 مسلم ممالک میں زیادہ تر سنی مسلم ہیں۔ شیعہ ملکوں کی تعداد صرف تین ہے۔ یعنی ایران ، آذر بائیجان اور بحرین۔ اتفاق سے یہ تینوں ممالک جغرافیائی قربت کے حامل بھی ہیں۔ جبکہ سنی ممالک عالم اسلام میں ہر بر اعظم میں پھیلے ہوئے ہیں۔ بعض ممالک ایسے بھی ہیں جن میں سنی اور شیعہ آبادی مشترکہ طور پر پائی جاتی ہے۔ ان ممالک میں پاکستان ، ترکی، عراق اور یمن شامل ہیں۔ 

4۔ غالب فقہ 
عام تاثر یہ ہے کہ سنی مسلم ممالک میں حنفی فقہ غالب فقہ ہے۔ لیکن اگر اعداد وشمار پر انحصار اور اعتماد کیا جائے تو مالکی فقہ کا اتباع سب سے زیادہ ممالک میں پایا جاتا ہے (18) اس کے بعد حنفی فقہ کا نمبر آتا ہے۔ اس کا ایک شماریاتی سبب بھی ہوسکتا ہے۔ مالکی فقہ عام طور پر بر اعظم افریقہ میں مقبول ہے۔ چونکہ بر اعظم افریقہ میں چھوٹے چھوٹے ممالک کی تعداد زیادہ ہے۔ اس لئے مالکی فقہ کا اتباع کرنے والے ممالک کی تعداد بھی زیادہ ہے۔ حنبلی فقہ کا اتباع کرنے والے صرف دو ملک ہیں سعودی عرب اور قطر۔ 
فقہی اعتبار سے مسلم ممالک کی شماریاتی تکرار ( Statistical Frequency) درج ذیل ہے: 
حنفی          12              ممالک 
شافعی         7               ممالک 
حنبلی           2              ممالک 
مالکی           18            ممالک 
جعفری          5             ممالک 
کل تعداد       44          ممالک
5۔  طرزِ حکومت
 
 عام تاثریہ ہے کہ مسلم ممالک یاتو قدیم طرز کے بادشاہوں کے زیر نگیں ہیں یا فوجی حکمراں وہاں بر سر اقتدار ہیں۔ 
6۔  فی کس قومی پیداوار 
  فی کس قومی پیداوار کی رو سے مسلم ممالک کی صف میں رئیس ترین (قطر ، کویت، بحرین ، برونئی، سعودی عرب) سے لیکر غریب ترین (افغانستان ، سیرالیون ، جبوتی ، صومالیہ)  جیسے ملک موجود ہیں۔
واضح رہے کہ ان تمام اسلامی ممالک میں صرف ایک ملک کا آئین اساسی قرآن اور سنت کی روشنی میں وضع کیا گیا ہے اور وہاں پر اسلامی حکومت قائم ہے وہ اسلامی جمہوری ایران ہے اور باقی ممالک میں مسلمان آبادی اور مسلمان حکمرانوں کی وجہ سے اسلامی ممالک کے نام سے یاد کیا جاتے ہیں۔

ایک اور بات شیعہ جعفری کے حوالے سے بھی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ کہ تشیع دین اسلام ہے اور مکتب جعفری وہی کتاب اور سنت ہے لیکن اس میں اثنی عشری(بارہ امامی) کا لفظ اضافہ کرنا ضروری ہے تاکہ باقی مکاتب جیسے اسماعیلیہ اور واقفیہ جو کہ جعفری کہلاتے ہیں لیکن ولایت اور امامت کا سلسلہ بارہوں امام تک نہیں مانتے ہیں کی علیحدگی واضح ہوجائے۔کیونکہ اکثر اصطلاحی شیعوں کی وہ باتیں جو اشتعال انگیز ہوا کرتی ہیں انہیں مکتب جعفری اثنا عشری کے عقیدے کے طور پر پیش کرکے اصلی تشیع کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ جسے شیعہ حراسی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، جوکہ استعمار خاص کر صہیونزم کے اسلامی دشمنی سازشوں کا حصہ ہے۔ دنیا بھر میں صرف چار ملکوں میں ایران ، عراق ، بحرین اور لبنان میں شیعہ جعفری اثنا عشری یوں کی اکثریت ہے جو ہمیشہ استکبار کے خلاف برسر پیکار رہے ہیں اور ابھی تک صرف ایرانی عوام اپنے ملک سے استکبار کی جڑیں اکھاڑ پھیکنے میں کامیاب ہوئے ہیں اس طرح وہاں اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے۔