برما میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم، پاکستان سرپا احتجاج
امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب کی خاموشی مجرمانہ ہے، مظاہرین
روہنگيا مسلمانوں پر مظالم اور قتل و غارت گري کے خلاف کراچي سميت پاکستان بھر ميں احتجاجي مظاہرے کئے گئے اور ريلياں نکالي گئيں، جن ميں شہريوں کي بڑي تعداد نے شرکت کي۔
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۱۹ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۷:۴۸
موضوع نمبر: 283105
 
روہنگيا مسلمانوں پر مظالم اور قتل و غارت گري کے خلاف کراچي سميت پاکستان بھر ميں احتجاجي مظاہرے کئے گئے اور ريلياں نکالي گئيں، جن ميں شہريوں کي بڑي تعداد نے شرکت کي۔


 
کراچي ميں شيعہ علما کونسل کے تحت کھادار اور مجلس وحدت مسلمين کي جانب سے ناظم آباد ميں احتجاجي مظاہرے کئے گئے، جبکہ ملير، عباس ٹاؤن، سولجر بازار، ڈيفنس اور لانڈھي سميت مختلف مقامات پر احتجاج کيا گيا۔
 
جامع مسجد خوجہ اثنا عشري کے باہر شيعہ علما کونسل کے تحت مظاہرے سے خطاب ميں علامہ ناظر عباس تقوي،علامہ شبیر احمد میثمی، علامہ جعفر سبحانی اور یعقوب شہباز نے برما میں مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت پاکستان برما ميں مظالم روکنے کے لئے اپنا سفارتي دباؤ استعمال کرے، اقوام متحدہ اپنا کردار ادا کرتے ہوئے برما کی حکومت کو مسلمانوں کے قتل عام سے روکے۔"


 
مقررین نے کہا کہ "برما کی حکومت کو امریکا اور اسرائیل کی مکمل حمایت حاصل ہے، جن کی شہ پر ایک طرف تو مسلمانوں کو مارا جا رہا ہے، دوسری جانب ان کو انہی کے ملک سے نکال کر اسرائیل سے اسلحہ کی تجارت کی جارہی ہے، اس سارے معاملے میں سعودی حکومت بھی بربار کی شریک ہے، سعودی عرب خود کو عالم اسلام کا سب سے بڑا نمائندہ کہتا ہے لیکن اس وقت اس کی آواز بند ہے، ریاض کی مجرمانہ خاموشی تمام مسلمانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔"


 
مجلس وحدت مسلمین کے تحت احتجاجی مظاہرے کے شرکا سے علامہ حسن ظفر نقوي، مولانا مقصود علی ڈومکی اور مولانا زاہد حسین نے خطاب کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر امریکا اور اسرائیل مردہ باد، آنگ سانگ سوچی سے نوبل انعام واپس لیا جائے، برماکے مسلمانوں ہم تمہارے ساتھ ہیں، جیسے نعرے درج تھے۔
 
مظاہرین سے خطاب میں علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ "برما ميں مسلمانوں کے قتل عام پر مسلم امہ اور اقوام متحدہ کي خاموشي مجرمانہ ہے۔اقوام متحدہ کو ملالہ یوسف زئی پر حملہ نظر آتا ہے، لیکن سیکڑون غریبوں کی تار تار عزت اسے دکھائی نہیں دیتی، یہی حال اسلامی سربراہ کانفرنس کا بھی ہے، وہ بھی مسلمانوں کے حقوق سے متعلق اندھی، بہری اور گونگی ہوچکی ہے، اسے مسلم دنیا کے مسائل سے کوئی غرض نہیں۔"


 
انھوں نے کہا کہ "سعودی عرب نے دنیا کو دکھانے کے لئے مسلمانوں سے ہمدری جتاتے ہوئے اسلامی ملکوں کا اتحاد بنایا، جس میں ملسم دنیا کی ترقی اور اتحاد کے دعوے کئے گئے، جس میں بیالیس ملکوں کے سربراہان شریک ہوئے اور اس اسلامی اتحاد کی سربراہی امریکا کے صدر نے کی، آج سعودی حکومت بتائے وہ سعودی اتحاد برما کے لئے کیا کررہا ہے، اس اسلامی اتحاد کے کیا مقاصد ہیں، اسے برما میں روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم نظر کیوں نہیں آتے۔"
 
علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ "جب دنیا یمن پر سعودی جارحیت پر تھو تھو کر رہی تھی تو ایسے وقت میں برما کا شعلہ بھڑکا دیا گیا، تاکہ یمن پر خاک و خون کا کھیل دنیا کی نظروں سے چھپایا جاسکے، دوسری جانب اس تمام معاملے میں اسرائیل کو بھی سپورٹ کیا جا رہا ہے، جس کا اسلحہ برما کے فوجی استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ساتھ ہی ہندوستان کشمیریوں کو کچل رہا ہے، گویا صیہونی اور ہندو دونوں مل کر مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں اور مسلمان تماشائی بنے ہوئے ہیں۔"
 

 
پاکستان سني تحريک نے کورنگي میں احتجاجی ریلی نکالی، ریلی کے شرکا سے مقررین نے کہا کہ "ہم کسی صورت برما کے مسلمانوں کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ہماری آج کی ریلی برما کے مظلوم مسلمانوں سے اظہار یک جہتی کے لئے ہے، ہم دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ مصیبت کی اس گھڑی میں پاکستانی قوم برما کے مظلومین کے ساتھ ہے۔"
 
پاکستان پيپلز پارٹي نے کراچی پريس کلب پر احتجاج کيا، سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر شہلا رضا نے کہا کہ "برما کے مسلمانوں کے لئے آج ہم سب گھروں سے نجکے ہیں، ہمارا یہ احتجاج اس ظلم کے خلاف ہے، جو برما کے مسلمانوں پر مسلط کیا گیا ہے، انسان سوز مظالم پر ہر آنکھ اشکبار ہے، لاشوں تک کو کاٹا جا رہا ہے، ایسا ظلم تو جانور بھی نہیں کرتے۔"
 
کراچي تاجر اتحاد نے ايم اے جناح روڈ سے تبت سينٹر تک ريلي نکالي۔ تاجر رہنما عتیق میر نے تقریب نیوز ایجنسی سے بات چیت میں کہا کہ "حکومت پاکستان کراچی میں برما کا قونصل خانہ فوری بند کرے اور اسلام آباد میں برما کا سفارت خانہ بند کر کے وہان کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔"


 
انھوں نے کہا کہ "آنگ سانگ سوچی کو امن کا نوبل انعام اس لئے دیا گیا تھا کہی برما میں ملسمانوں کو کاٹا اور مارا جائے اور وہ خاموش رہیں، ایسے امن انعام کا کیا فائدہ ہے، آنگ سانگ سوچی جب امن ہی قائم نہیں رکھ سکتی تو اس سے یہ انعام واپس لیا جائے۔"
 
تاجر برادی نے کہا کہ "جب تک  برما میں ظلم و ستم ختم نہیں ہوگا، ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے، حکومت برما کی حکومت پر دباو ڈالے، تاکہ مظلومین کو ظلم و ستم سے نجات مل سکے، جیسے جیسے مظالم میں اضافہ ہوگا، ہمارا احتجاج بھی وسیع ہوتا جائے گا۔"
 
برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف شہريوں میں غم و غصہ پايا جارہا ہے۔
 
ادھر حيدرآباد، سکھر، ميرپورخاص، نواب شاہ، بدين، خيرپور اور ٹنڈوآدم ميں بھي برما کے مظلوموں سے اظہار يک جہتي کے لئے مظاہرے کئے گئے اور ريلياں نکالي گئيں۔
 
اندرون سندھ مظاہرين نے بھی آنگ سانگ سوچي سے امن کا نوبل انعام واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
 
انھوں نے کہا کہ "برمی حکومت کی فرعونیت کے خلاف ہم سڑکوں پر رہین گے، برما کے مظومین کی داد رسی کے لئے پاکستان کی فوج کو میانمار بھیجا جائے، جبکہ پاکستان سے امدادی اشیا برما اور پناہ گزینوں کے بنگلہ دیش روانہ کی جائے۔"
 
لاڑکانہ میں سیاسی سماجی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی، شرکا نے برما حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔
 
گھوٹکی میں روہنگيا مسلمانوں کے حق ميں احتجاجی مظاہرہ کیا گيا۔ شرکا نے مطالبہ کيا کہ پاکستان حکومت برما میں مسلمانوں کے قتل عام کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔
 
سانگھڑ ميں مختلف اسکولوں کے طلبا نے احتجاج کیا۔


 
 حیدرآباد ميں برما اور روہنگیا میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف  جماعت اسلامی کی جانب سے پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم پر چپ سادھنے والی عالمی تنظیموں کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔ 
 
برما میں مسلمانوں پرظلم کرنے والوں کے خلاف کندھ کوٹ میں تمام وکلا نے عدالتوں کا بائیکاٹ کيا۔


 
میرپورخاص ميں بھي برما کے مظلوم مسلمانوں پر وحشت ناک مظالم کے خلاف سياسي جماعتوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
 
آزاد کشمير کے دارالحکومت مظفرآباد ميں بھي روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف مظاہرہ کيا گيا۔ مظاہرين نے مطالبہ کيا کہ اسلامی دنیا روہنگیا مسلمانوں کے لئے فنڈز قائم کرے اور اقوام متحدہ کے بینر تلے امن فورسز کو برما بھیجا جائے۔ 
Share/Save/Bookmark