ایران کیخلاف اسرائیل کا روس اور امریکہ سے تازہ رابطہ
جعلی ریاست اسرائیل کے اس کردار کے نتیجے میں شام کے حوالے سے روس اور امریکہ کے مابین پس پردہ ایک مفاہمت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آستانہ مذاکرات میں جس طرح کے سیز فائر اور ڈی ایسکیلیشن زون قائم کرنے کی تفصیلات طے کی گئی تھیں
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۹ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۲:۳۱
موضوع نمبر: 281846
 
تحریر: عرفان علی

جعلی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے بدھ 23 اگست کو روس کے ساحلی شہر سوچی میں صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی۔ ستمبر 2015ء جب سے روس نے شام کی حکومت کے اتحادی کی حیثیت سے عملی فوجی مدد کا آغاز کیا، تب سے شمار کریں تو یہ چھٹی ملاقات تھی۔ اس ملاقات میں بدنام زمانہ اسرائیلی ایجنسی موساد کے سربراہ یوسی کوہن بھی ان کے ہمراہ تھے، جو پچھلے ڈیڑھ سال سے اس عہدے پر فائز ہیں جبکہ اس سے قبل وہ نیتن یاہو کے ذاتی مشیر برائے امور قومی سلامتی تھے۔ موساد کے سربراہ ایک وفد کی قیادت کرتے ہوئے 18 اگست کو واشنگٹن کا دورہ بھی کرچکے ہیں، جہاں ان کی امریکی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے سینیئر عہدیداروں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ روس اور امریکہ کے ان دوروں کا مقصد ایک ہی تھا کہ دونوں ممالک کو ایران کے خلاف صہیونی ریاست کے مفادات کے تحفظ کے لئے تعاون پر آمادہ کیا جائے۔ دونوں جگہوں پر ایران کے بارے میں اسرائیلی انٹیلی جنس شیئر کی گئی۔ پیوٹن اور امریکی سکیورٹی عہدیداروں کو خبردار کیا گیا کہ پورے خطے میں اور بالخصوص شام میں ایران کا کردار ان سبھی کے لئے خطرہ ہے اور خاص طور پر اسرائیل کے وجود کے لئے خطرہ ہے اور تو اور واشنگٹن ملاقات میں موساد اور دیگر صہیونی سکیورٹی اداروں کے اعلٰی سطحی عہدیداروں نے امریکی عہدیداران کو بتایا کہ افغانستان میں بھی امریکیوں کے نقصان کا اصل ذمے دار ایران ہے۔ یعنی صہیونی عہدیداران نے ایران پر الزامات پر مبنی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایران کے خلاف سخت عملی اقدامات کے لئے امریکہ اور روس کو اکسانے کی نیت سے یہ دورے کئے ہیں۔

نیتن یاہو نے پوتن سے کہا کہ ایران اور حزب اللہ شام کو اسپرنگ بورڈ بنا کر اس پر حملہ کرنے والے ہیں۔ نیتن یاہو کے بارے میں روسی ذرائع ابلاغ نے لکھا کہ وہ اڑھائی گھنٹے کی اس ملاقات میں کافی جذباتی اور گھبرائے ہوئے لگ رہے تھے جبکہ روسی صدر ان کو بڑے تحمل سے سن رہے تھے۔ پراوڈا (25 اگست 2017) کے مطابق ولادیمیر پوتن نے کہا کہ ایران مشرق وسطٰی میں روس کا تزویراتی اتحادی ہے، جبکہ اسرائیل بھی خطے میں روس کا اہم شراکت دار ہے۔ سکیورٹی امور کے ماہرین کی رائے یہ ہے کہ روس صہیونی ریاست کے سکیورٹی مفادات کو بھی اہمیت دیتا ہے اور ایران کی پالیسی برائے اسرائیل کہ اسے دنیا کے نقشے سے مٹ جانا چاہیے، سے متفق نہیں ہے، لیکن وہ خطے میں ایک پیچیدہ جیوپولیٹیکل کھیل کھیل رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ ایران کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتا، لیکن صہیونی ریاست سے بھی اس کے بعض مفادات وابستہ ہیں، اس لئے وہ روایتی سفارتی بیانات سے زیادہ اس ایشو پر کچھ نہیں کر رہا۔ ساتھ ہی وہ یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ امریکہ کے اتحادی عرب ممالک سعودی عرب کی قیادت میں نیٹو ٹائپ فوجی اتحاد بناکر امریکی مفادات کے لئے صف آرا ہوچکے ہیں، اس لئے اب اس کے پاس مشرق وسطٰی میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے متبادل حکمت عملی بنانے کے علاوہ کوئی چارہ کار ہی نہیں، اس لئے ایک طرف وہ شام کے اندر حکومت کا ساتھ دے کر کسی حد تک امریکی اتحاد کے خلاف ایک موقف اپنا کر میدان میں آیا ہے تو ساتھ ہی ساتھ امریکہ کے دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ بھی روابط کے لئے تگ و دو کر رہا ہے۔ نہ صرف مصر اور اردن کے ساتھ روابط میں مصروف ہے بلکہ اب وہ عراق کی حکومت کے ان عہدیداران کے ساتھ بھی تعلقات مستحکم کر رہا ہے کہ جو امریکہ کو ناپسند ہیں، جیسا کہ موجودہ نائب صدر اور سابق وزیراعظم نوری المالکی، جنہوں نے روس کا دورہ بھی کیا ہے۔

روس کو صہیونی ریاست سے جو امیدیں ہیں، ان میں سر فہرست شام کے اندر اور شام سے متعلق انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی اور روس کے ساتھ مطلوبہ تعاون ہیں۔ اسی کے ساتھ روس یہ بھی چاہتا ہے کہ فلسطینی قیادت اور صہیونیوں کے مابین امن مذاکرات روس کی سرپرستی میں ہوں اور اسرائیل اس کے لئے آمادہ رہے، جعلی ریاست اسرائیل کی قدرتی گیس کی منڈی میں روس کی شرکت یعنی روسی کمپنی گازپروم کا کلیدی کردار۔ صہیونیوں کی انٹیلی جنس کا سارا زور حزب اللہ اور ایران پر مرکوز ہوتا ہے۔ اسرائیل کا الزام ہے کہ حزب اللہ کے جوان جولان کی پہاڑیوں تک پہنچ چکے ہیں اور ایران کے پاسداران انقلاب اسلامی بھی شام میں اسرائیل کے قریبی علاقوں تک کنٹرول حاصل کرچکے ہیں۔ کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ روس حزب اللہ کیخلاف اسرائیلی کارروائیوں پر کوئی اعتراض نہیں کرتا اور اس کا پورا زور اس بات پر ہے کہ اسرائیل شام کی حکومت کے خلاف وہ کارروائیاں نہ کرے، جو حزب اللہ کے جوانوں کے خلاف کرتا ہے اور اسرائیل کی ہر کارروائی شام کے خلاف ہوتی ہے، وہ روس کے سامنے اس طرح پیش کرتا ہے کہ جہاں اس نے حملہ کیا، وہاں سے حزب اللہ کو اسلحے کی فراہمی کی جا رہی تھی اور وہ اسلحہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف استعمال کرتا، اس لئے کارروائی کی گئی۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے اس اسرائیل و روس تعلقات کا۔ صہیونی ذرائع ابلاغ نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ نیتن یاہو روسی صدر کو صرف یہ بتانے گئے تھے کہ اسرائیل کسی بھی وقت ایران کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرسکتا ہے۔

واشنگٹن کے دورے میں موساد سربراہ یوسی کوہن کی قیادت میں جس وفد نے امریکی سکیورٹی عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں، اس میں اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل ہرزل ہالوے، امریکہ میں اسرائیلی سفیر ڑون ڈرمر، نیشنل سکیورٹی اسٹاف کے نائب سربراہ ایتان بن ڈیوڈ اور موساد کے سابق اعلٰی عہدیدار زوہارپالٹی جو آجکل اسرائیلی وزارت دفاع میں ڈپلومیٹیک سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں، یہ شامل تھے۔ اس وفد نے امریکیوں کو بتایا کہ تم لوگ صرف شام میں ایران کے کردار کو دیکھ رہے ہو، جبکہ افغانستان میں جتنی مشکلات امریکہ کو درپیش ہیں، یہ سب ایران کے سبب ہیں، ایران کی وجہ سے امریکہ افغانستان کی جنگ نہیں جیت سکتا۔ اب ہر چیز کا انحصار شام پر ہے اور اگر شیعوں کے لئے ایک سرخ لکیر نہیں کھینچی گئی اور اگر طاقت کا توازن شام میں انکے حق میں چلا گیا، تو گھنٹی کی ٹک ٹک شروع ہو جائے گی اور ایسا ایسے وقت ہو رہا ہے کہ جب امریکہ کے سارے اتحادی خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ نیتن یاہو کے دورہ روس کا اصل ایجنڈا واشنگٹن کے اس دورے میں اسرائیلی وفد نے بیان کر دیا تھا۔ انہوں نے امریکی حکومتی عہدیداروں سے کہا تھا کہ دنیا کے منظر نامے میں امریکہ اور روس دو اہم طاقتور ملک ہیں اور دونوں ہی مشرق وسطٰی میں موجود ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں روز روز کی بکواس سے ایک لمحے کے لئے باہر نکلیں اور مستقبل کی فکر کریں۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل مشرق وسطٰی میں غیر ضروری جنگوں کی بات نہیں کر رہا اور نہ ہی امریکہ سے چاہتا ہے کہ اس کے فوجی میدان میں اتریں بلکہ سفارتی سطح پر اسرائیل کو امریکی مدد کی ضرورت ہے۔ اس وفد نے کہا کہ اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ شام کے مسئلے کا حل اس طرح ڈھونڈا جائے کہ یہاں پاسداران انقلاب اسلامی کا کوئی سیٹ اپ نہ ہو، ایسا نہ ہو کہ خلیج فارس سے بحر متوسط (بحیرہ روم) تک شیعہ ہی شیعہ ہوں اور ایران کی توسیع کی حد مقرر کی جائے۔ البتہ امریکیوں کو یہ بھی کہا کہ میدان جنگ کا کنٹرول ایران اور روس کے ہاتھوں میں ہے اور اس معاملے میں امریکہ کے پاس لیوریج بہت کم ہے اور یہی وجہ ہے کہ نیتین یاہو بار بار روس کا دورہ کر رہے ہیں اور کریملن سے خواہاں ہیں کہ ایران کی روک تھام کی جائے۔ امریکیوں کا خیال ہے کہ اسرائیل خود ہی ایران کے اتحادی گروہوں کے خلاف فوجی کارروائی کرے گا، لیکن اس صورت میں بڑے پیمانے پر ایران، اسرائیل محاذ آرائی کا خطرہ ہے۔ بعض امریکیوں کی رائے یہ بھی ہے اور صہیونیوں نے ہی یہ تاثر پھیلایا ہے کہ وقتی طور پر شام میں روس اور ایران کے کنٹرول کے مضمرات محسوس نہ ہوں لیکن، امریکہ اگر موجودہ پالیسی جاری رکھتا ہے تو اس سے مشرق وسطٰی میں مزید جنگوں کا خدشہ ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام ہوگا۔

جعلی ریاست اسرائیل کے اس کردار کے نتیجے میں شام کے حوالے سے روس اور امریکہ کے مابین پس پردہ ایک مفاہمت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آستانہ مذاکرات میں جس طرح کے سیز فائر اور ڈی ایسکیلیشن زون قائم کرنے کی تفصیلات طے کی گئی تھیں، اردن اور امریکہ کے ساتھ مل کر روس نے اس میں خود سے ترامیم کر لی تھیں، جبکہ ایرانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا بیان بھی یہی تھا کہ آستانہ مذاکرات کی روشنی میں یہ کیا جائے گا تو امن قائم ہوگا۔ بہرحال اسرائیل شام کے مسئلے پر سہ طرفہ یعنی صہیونی، امریکی و روسی ہم آہنگی سے شام کے مخلص دوست اور اتحادی ایران اور حزب اللہ سے شام کو دور کرنے کی خطرناک پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ روس پر ایک حد سے زیادہ اعتماد نہیں کیا جاسکتا، باوجود اس کے کہ شام کے مسئلے پر اس کا کردار ماضی کی نسبت برا نہیں ہے۔ لیکن یہ بات روسی حکمران بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ شام سمیت پورے مشرق وسطٰی میں مائنس ایران کوئی عمل خواہ وہ سہ طرفہ یا چالیس پچاس ممالک کا اتحاد ہی کیوں نہ ہو، کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتا۔ صہیونی اب کھل کر شیعہ مسلمانوں کا نام لے کر ان کے خلاف اعلانیہ پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جبکہ اسرائیل نے قبضہ ہی سنی عربوں کے ملک فلسطین پر کر رکھا ہے، نسل پرست دہشت گرد صہیونی حکومت و افواج نے فلسطین کے لاکھوں سنی عرب مسلمانوں اور مسیحیوں کو قتل اور بے گھر و بے وطن کیا ہے۔ ایران انہی مظلوم سنی عرب مسلمان اور مسیحی عربوں کی حمایت اور مدد کرنے شام پہنچا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ روس کب تک ثابت قدم رہتا ہے، امریکہ اور اسرائیل کا تو سبھی کو معلوم ہے کہ وہ اس صف بندی میں ایک دوسرے کا اٹوٹ انگ ہیں۔
Share/Save/Bookmark