آج اسلام کی حقیقت کو خطرہ ہے ۔
مفکروں کے توسط سے مشترک اقدار کی تدوین ہونی چاہیے. آیت اللہ اراکی
اسلام کی حقیقت رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ کی ذات مقدس سے ممتسک رہنا ہے ۔ آیت اللہ اراکی
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۱۵ مرداد ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۵:۳۲
موضوع نمبر: 278344
 
عالمی مجلس تقریب مذاہب کے جنرل سیکرٹری آیت اللہ اراکی نے کہا ہے کہ“ جس امت  کی ایک حقیقت نہیں ہوتی وہ پیشرفت نہیں کرسکتی  ”

تقریب،خبررساں ایجنسی﴿تنا﴾ کے مطابق،تہران  میں ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا  کہ جس کا عنوان “مفکروں کی نگاہ میں، اسلامی جمہوریہ ایران اور جمہوریہ آذربائجان ” تھا۔ ہفتے کی صبح آیت اللہ اراکی اور عالمی مجلس تقریب مذاہب کے صدر آیت اللہ تسخیری ، قفقاز کے مسلم اداروں کے سربراہ شیخ الاسلام ،اللہ شکور پاشازادہ اور دونوں ممالک کے مفکروں نے شرکت کی۔


آیت اللہ اراکی نے اس علمی نشست میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ“ یہ جو قدم اٹھایا جارہا ہے وہ ایک دینی تعاون کا سلسلہ آغاز ہے اور مجھے امید ہے کہ اس تعاون کے بدولت عالمی مجلس تقریب مذاہب اور قفقاز کے دینی ادارے مل کر اس تعاون کو بڑھائیں گے اور اسکے اچھے نتائج نکلیں گے”۔

 آیت اللہ اراکی نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اس طرح کی کانفرنسیں عالم اسلام پر اور تکفیریت کے عنصر کے خلاف اچھے مثبت اثرات ڈالیں گی ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ہم اسلام کی حقیقت کو لاحق ہونے والے خطر سے دوچار ہیں۔

 آیت اللہ اراکی نے مزید کہا کہ جو ملت اپنی ایک حقیقت نہیں رکھتی وہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتی اور ناہی خطرات مقابلے میں وہ اپنا دفع کر سکتی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ اسلام کی حقیقت رسول اللہ صل اللہ علیہ وآلہ  کی ذات مقدس سے ممتسک رہنا ہے ۔

آیت اللہ اراکی نے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا ہے کہ“اسلامی معاشروں کی حقیقت ، اسلامی حقیقت ہے اسی سے نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ کی پہچان ہوتی ہے جو بھی معاشرہ یا گروہ اس حقیقت کو اپنے اندر رکھتا ہے وہ نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ کی پہچان بن جاتا ہے ”۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ“ایک معاشرہ اور ایک فرد اگر نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ کی تعلیمات کا پروردہ ہو تو گویا کہ وہ ایک شفیق باپ ،نبی اکرم صل اللہ علیہ وآلہ کا پروردہ ہے اور یہیں سے بھائی چارے اور برادری کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہو جاتا ہے”۔

 آیت اللہ اراکی نے کہا کہ جہاں بھی اسلام ہے اس کے پیرو ایک حقیقت رکھتے ہیں لہذا ایسی امت میں جنگ نہیں ہونی چاہیے اور ایسی امت میں تکفیر کا کو ئی وجود نہیں ہے ۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ، عالم اسلام میں جنگ ،دہشت گردی،تکفیریت کا پھیلاو یہ معنٰی رکھتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں حقیقت اسلام  ناپید ہوگئی ہے اس میں خلل واقع ہو گیا ہے۔  آیت اللہ اراکی نے حالیہ تمام مشکلات کو پراگندگی اور مسلمانوں کی ایک دوسرے سے دوری میں جانا ہے۔

 آیت اللہ اراکی نے مزید کہا ہے کہ اس علمی نشست کا پیغام یہی ہے کہ آیئے ایک دوسرے کے ساتھ ملکر  بیٹھ جائیں اور جتنے بھی اشتراکات ہیں ان میں اتحاد ایجاد کر لیں ۔ آخر میں آیت اللہ اراکی نے اس بات کی تاکید کی کہ “ہم سب کو مل کر مفکروں  کے توسط سے ایک مشترکہ منشور کی جد جہد کرنی چاہیے جس کی بنا مشترکات پر ہو” ۔
Share/Save/Bookmark