امریکا کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوں گے
اسلامی سربراہ تنظیم ناکارہ عضو بن چکی ہے، جو دیکھتی ہے، سنتی ہے، لیکن کچھ کہہ اور کرنہیں سکتی
امریکا اور اسرائیل جس پر چاہیں دباو ڈالیں یا دھمکیاں دیں، سعودی عرب سمیت کوئی اسلامی ملک لب کشائی کی زحمت نہیں کرتا
تاریخ شائع کریں : جمعه ۱۰ شهريور ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۳:۴۲
موضوع نمبر: 281926
 
اپنی جان دے دیں گے، لیکن اسرائیل کو کسی صورت تسلیم نہیں کریں گے، محفوظ یارخان

اسلامی سربراہ تنظیم ناکارہ عضو بن چکی ہے، جو دیکھتی ہے، سنتی ہے، لیکن کچھ کہہ اور کرنہیں سکتی

امریکا کی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوں گے، کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا بھی تو اس کی آنکھیں نکال دیں گے، کراچی میں تقریب نیوز ایجنسی سے خصوصی مکالمہ

"پاکستان اسرائیل کو کسی قیمت پر تسلیم نہیں کرے گا، " پاکستان اسرائیل الائنس" برطانیہ کی سازش ہے جس کی ہر فورم پر مخالفت کی جائے گی۔" یہ کہنا تھا پاکستان کے ممتاز سیاسی رہنما، و رکن صوبائی اسمبلی اور فلسطین فاونڈیشن پاکستان کے سرگرم عہدیدار محفوظ یار خان نے کراچی میں تقریب نیوز ایجنسی کے نمائندے سے خصوصی بات چیت میں کہی۔

محفوظ یار خان نے کہا کہ "پاکستان دوقومی نظرئیے کی بنیاد پر قائم ہوا تھا، اور اس کا دفاع تمام پاکستانیوں کا بنیادی فرض ہے، دوقومی نظریئے کے منافی کسی بھی ملک یا فرد نے اگر سازش کرنا چاہی تو اس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔"

دوقومی نظریئے کی مخالفت کون کر رہا ہے، کے سوال کے جواب میں محفوظ یار خان نے کہا کہ "امریکا، اسرائیل، برطانیہ اور ہندوستان دشمنان مسلمان ہیں، ہم ان کی شدید مذمت کرتے ہیں، یہ ممالک مل کر پاکستان پر دباو ڈال رہے ہیں کہ کسی طرح اسرائیل کو پاکستان سے تسلیم کروایا جائے، لیکن پاکستان کے غیور عوام ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔"

اگر ایسا ہوتا ہے تو فلسطین فاونڈیشن پاکستان کا لائحہ عمل کیا ہوگا، اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ "ایسا کبھی ممکن نہیں ہوسکتا، پھر بھی اگر زور زبردستی کی گئی، یا دباو ڈالا گیا تو ہم سڑکوں پر ہوں گے، لیکن اسرائیل جو لاکھوں مسلمانون کا قاتل ہے، مظلوم فلسطینیوں کے ہاتھوں سے اس کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں، اسے پاکستان کے مسلمان کبھی قبول نہیں کریں گے، ہم مر جائیں گے، لیکن ایسا نہیں ہونے دیں گے، اس سلسلے میں یا یہ کہیئے کہ اسرائیل کی مخالفت میں مزید احتجاج اور ریلیاں نکالی جائیں گی، ہم اپنے خاندانوں سمیت گھروں سے نکلیں گے اور کسی قیمت پر مسلمان بھائیوں کے خون کا سودا نہیں کریں گے، ہم پاکستان اسرائیل الائنس جو تنظیم برطانیہ نے بنائی ہے اسے بھی مسترد کرتے ہیں، یہ یا اس جیسی اور سییکڑوں تنظیمیں بھی بنالی جائیں، ہم تب بھی اپنے موقف سے ایک اینچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"

پاکستان پر دباو اور امت مسلمہ کی خاموشی حیران کن ہے، اس سوال کے جواب میں محفوظ یار خان نے کہا کہ "واقعی یہ ایک صدمہ کی سی کیفیت ہے، امریکا اور اسرائیل جس پر چاہیں دباو ڈالیں یا دھمکیاں دیں، سعودی عرب سمیت کوئی اسلامی ملک لب کشائی کی زحمت نہیں کرتا، اسلامی سربراہ تنظیم ( او آئی سی) بھی محض دکھاوا ہے، او آئی سی ناکارہ عضو بن چکی ہے، جو دیکھتی ہے، سنتی ہے، لیکن کچھ کہہ اور کر نہیں سکتی، ایسے ادارے کا کیا فائدہ جسے مسلمانوں کے دکھ اور پریشانیاں بھی نظر نہ آئیں، ایسی تنظیم کو تو بند ہی کردینا چاہیئے۔"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کو دی گئی دھمکی کا سخت جواب دیتے ہوئے محفوط یارخان نے کہا کہ "امریکی صڈر کے بیان پر تمام قوم تذبذب کا شکار ہے، پاکستان یا کسی بھی ملک کی حکومت کو امریکا کو فری ہینڈ نہیں دینا چاہیئے، ہمارے حکمراں چین اور روس کا دورہ کر رہے ہیں، ایران اور سعودی عرب نے بھی پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے امریکا کی مذمت کی ہے، یعنی دنیا پاکستان کی قربانیوں کو سراہا رہی ہے، پاکستان کے چین اور روس سے بہتر تعلقات ہیں، جو یقینا اقوام متحدہ میں اگر امریکا پاکستان کے خلاف کوئی قرار داد لایا تو اسے ویٹو کرنے کے وقت کام آئیں گے، یہ خاصا اطمینان بخش بات ہے کہ چین اور روس پاکستان کے خلاف ہر قرار داد کو ویٹو کردیں گے، گویا پاکستان کو تنہا کتنے کی امریکی سازش کامیاب نہ ہوسکے گی۔"

پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ "الحمدللہ ، پاکستان واحد اسلامی قوت ہے، اور یہی بات امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لئے ناقابل برداشت ہے، پاکستان کے ایٹمی اثاثے بالکل محفوظ ہاتھوں میں ہیں، اس پر کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، جو قوم ایٹم بم بناسکتی ہے وہ اس کا دفاع بھی جانتی ہے، امریکا کو  یہ پروپیگنڈہ بند کرنا چاہیئے، شمالی کوریا تو اس کی دھمکی میں آیا نہیں، اس نے سبکی مٹانے کے لئے پاکستان کو ہدف تنقید بنالیا۔"

امریکا نے یکسر پاکستان کے خلاف لہجہ کیوں تبدیل کرلیا، اس سوال کے جواب میں محفوظ یار خان نے کہا کہ "اس کی سب سے بڑی وجہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا منصوبہ ہے، جس پر چین پاکستان کے ساتھ مل کر پچپنارب ڈالر خرچ کر رہا ہے، یعنی پاکستان معاشی اعتبار سے مضبوط ہوگا، جو امریکا کو بالکل پسند نہیں، وہ چاہتا ہے کہ پاکستان یا دیگر ملک ہمیشہ اس کے دست نگر بن کر رہیں، پاکستان نے اپنی گوادر بندرگاہ چین کو دے گی، جو دنیا کے مختلف ملکوں کو وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی دیتی ہے، اس وقت دنیا بھر کی نظریں پاکستان پر ہیں، مختلف ملک سی پیک میں شملویت کے خواہشمند ہیں، گویا پاکستان ترقی کا مرکز بنا ہوا ہے، جسے لے کر مخالفت در مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔"

محفوظ یار خان نے مزید کہا کہ "پاکستان اس وقت ایسی پوزیشن پر ہے، جہاں سے دنیا بھر کا راستہ بند کرسکتا ہے، گوادر سبسے اہم بندرگاہ ہے، جس کے قریب ہی ایران کی چاہ بہار بندرگاہ ہے، ساتھ ہی چین بھی ہے، جبکہ روس بھی سی پیک کا اہم شراکت دار ہے، لہذا یہی دوستی امریکا کو ناگوار گزر رہی ہے، پاکستان نے اگر سمدنری راستے بند کردیئے تو دنیا بھر کے لئے مال کی ترسیل بند ہونے سے بعض ملکوں میں تباہی آجائے گی۔"

پاکستان نے امریکا کا کہنا نہ مانا تو مالی امداد بن ہوجائے گی، اس سوال کے جواب میں محفوط یارخان نے کہا کہ "امریکا ہمیں کوئی امداد نہیں دیتا، وہ جو اربون ڈالر دینے کی بات کرتا ہے، وہ امداد یا تحفہ نہیں بلکہ وہ پاکستان کے ایئراسپیس اور ہوائی اڈے استعمال کرنے کا کرایہ ہے، یہ ان خدمات کا معاوضہ ہے، جو پاکستان نے بحیثیت دوست امریکا کو فراہم کیں، پاکستان کو کسی امریکی خیرات کی ضرورت نہیں، ہم اور ہمارے حکمرانوں نے ہمیشہ ایڈ نہیں ٹریڈ کا نعرہ لگایا، اور اب بھی ہیہ چاہتے ہیں کہ امریکا امداد کے بجائے برابری کی سطح پر تجارت کرے۔"

امریکا اسرائیل کا مددگار ہے، اس پر محفوظ یارخان نے کہا کہ "امریکا صرف اسرائیل کا سپورٹر ہی نہیں بلکہ ہر محاذ پر اس کے پس پشت کھڑا ہے، چاہے وہ کشمیر کا معاملہ ہو یا فلسطین کا، شام ہو یا عراق، ہر جگہ امریکا اسرائیل کی پشت پناہی کرتا ہے، امریکا شیطان بزرگ ہے، جو حقیقت میں مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے، اسے افغانستان، لبنان، عراق، کشمیر اور فلسطین نظر نہیں آتے، درحقیقت پاکستان کے خلاف امریکی صدر کا بیان افغانستان میں اس کی بدترین شکست کا بدلہ ہے، امریکا عراق، شام اور افغانستان میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے، لہذا اس خفت کو مٹانے کے لئے وہ نئے شکار تلاش کر رہا ہے، لیکن اسے معلوم ہونا چاہیئے کہ پاکستان کسی کے لئے تر نوالہ ثابت نہیں ہوگا، اگر کسی نے مملکت پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے دیکھا بھی تو اس کی آنکھیں نکال دیں گے۔"

حج کے موقع کا زکر کرتے ہوئے محفوظ یار خان نے کہا کہ "بلاشبہ حج ایک عظیم الشان اجتماع ہے، جو حقیقت میں اتحاد بین المسلمین کا ذریعہ ہے، لیکن افسوس بیشتر اسلامی ملکوں کے حکمراں منافق ہیں، جو منہ پر میٹھے بنتے ہیں، لیکن خود ہی مسلمانوں کے خلاف سازشوں کا جال بنتے ہیں، عقلمدی یہی ہے کہ تمام مسلمان اسلام کے نام پر متحد ہوجائیں، دنیا کے مختلف بینکوں میں جمع پیسہ نکال کر اسے امت مسلمہ کی بحالی پر خرچ کریں، کیونکہ حج یہی پیغام دیتا ہے۔"  
            
Share/Save/Bookmark