ایران جوہری معاہدے پر از سر نو بات چیت کرنےکی گنجائش نہیں.بہرام قاسمی
جس پالیسی پر امریکی صدر چل رہا ہے وہ متعصبانہ اور غیرتعمیری ہے:بہرام قاسمی
جوہری معاہدہ یا اسی شکل میں رہے گا یا اس کا خاتمہ ہوگا: ایران کا دو ٹوک پیغام
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۳ مهر ۱۳۹۶ گھنٹہ ۲۱:۲۲
موضوع نمبر: 285542
 
اسلامی جمہوریہ ایران نے دوٹوک الفاظ میں واضح کردیا ہے کہ عالمی قوتوں کے ساتھ طے پانے والا ایٹمی سمجھتے پر ازسرنو مذاکرات کی گنجائش نہیں اور یہ دستاویز یا اسی شکل میں رہے گی یا اس کا خاتمہ کیا جائے گا.

یہ بات بہرام قاسمی نے پیر کے روز تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفینگ کے دوران ملکی اور غیرملکی صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی. اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران جوہری معاہدے پر از سر نو بات چیت کرنے یا نئے کیس کھلنے کی گنجائش نہیں.

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مختلف ممالک نے جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکی مؤقف کو مسترد کردیا اور جو باتیں امریکی فریق کررہا ہے اس کی مخالف بھی کی ہے.

قاسمی نے مزید کہا کہ صدر اسلامی جمہوریہ ایران ڈاکٹر حسن روحانی نے جنرل اسمبلی کے موقع پر مختلف عالمی رہنماؤں کے ساتھ تعمیری اور اہم مذاکرات کئے اور انہوں نے ملکی خارجہ پالیسی بالخصوص خطی اور عالمی معاملات پر ایران کے مؤقف کو اُجاگر کیا.

انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ اب بھی نیو یارک میں موجود ہیں اور کل تک انہوں نے 42 ملاقاتیں، نشستیں اور مختلف انٹریو کئے.

بہرام قاسمی نے سفری پابندیوں کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی پالیسی نئی نہیں اور آج جس پالیسی پر امریکی صدر چل رہا ہے وہ متعصبانہ اور غیرتعمیری ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ نیو یارک میں جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا اور اس موقع پر ایران نے امریکی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کو پیش کردئے.

ایران کے میزائل پروگرام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمارا مؤقف واضح ہے اور اس حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں آئی، دفاعی پالیسی کا سفر جاری رہے گا اور کسی کو بھی ہمارے دفاعی معاملات میں مداخلت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہے.
Share/Save/Bookmark